دھن دھونس کے ذریعے کسانوں سے لوٹ مار کا سلسلہ

محمد آصف جاہ
زراعت کو پاکستان کی معیشت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسی طرح محنت کش کسان زراعت کا مرکزی کردار ہے۔ کسان نے  حکومتی غلط پالیسیوں اور نامساعد حالات کے باوجود اللہ کے فضل و کرم سے گندم کے ڈھیر وں فصل  تیار کر لی ہے ، حتیٰ کہ  اب حکومت کو وافر گندم برآمد  بھی کرنا پڑتی ہے۔ کپاس مکئی مونجی گنا غرض ہرفصل کے حکومتی تخمینوں سے زیادہ پیداوار کرکے ملک کو خود کفیل بلکہ زر مبادلہ کما کر دیتا ہے۔ ہمارا محنت کش کسان ننگے پائوں سرسخت سردی، سخت گرمی میں ملک کے 18کروڑ عوام کیلئے غلہ پیدا کرتا ہے۔ ملکی سطح پر مجموعی قومی پیداوار( GDP)میں سب سے زیادہ زراعت کا حصہ ہے۔
لیکن بدقسمتی سے آمر حکمران ایوب خان کے علاوہ آج تک کسی بھی فوجی یا جمہوری حکمران نے زرعی بنیاد کو مضبوط کرنے کیلئے کوئی زرعی پالیسی ہی نہیں بنائی۔ ہر حکمران نے زراعت کو کسان سے سوتیلی ماں کا سلوک کیا۔ اور اب حلات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کاشتکاری گھاٹے کا سودا بن چکی ہے۔ کاشتکار اور خود کشی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ 18کروڑ  عوام کو ضروریات زندگی پیدا کرکے دینے ولا ملکی خزانے زرمبادلہ سے بھرنے والا کسان اور ان کے بچے ضروریات  زندگی اور تعلیم سے محروم ہیں۔
حکومت کی دھونس پر مبنی غلط پالیسیوں اور دھن کے زور پر سرمایہ دار کے استحصالی ہتھکنڈوں نے حالیہ دنوں  میںدل کھول کر کسانوں کو  اپنی اپنی لوٹ مار کانشانہ بنایا ہے۔ مونجی کپاس مکئی اور کماد کے کاشت کار ایک دفعہ پھر لوٹ گئے۔ یہ تمام فصلات کسان کیلئے نقد آور اور ان کی ملکی معیشت اور برآمدات میں اہم کردار ہے۔ کاشتکار ہزاروں  روپے خرچ کرکے ان کو کاشت کرتے ہیں۔ مثلاً کپاس کی فی من لاگت کاشت 3ہزار روپے  کے حساب سے فی ایکڑ 60ہزار روپے بنتی ہے۔ لیکن کپاس کے نرخ اس دفعہ2000تا 2500ورپے فی من رہے ہیں۔ اگر کپاس کی اوسط پیداوار فی ایکڑ 20من ہوتو کپاس کی آمدنی فی ایکڑ 50ہزار روپے ہو گی۔ اس طرح کسان کو اس فصل سے کچھ آمدن کے بجائے فی ایکڑ 10ہزار روپے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح مونجی پر فی من 15روپے اور اسی حساب سے فی ایکڑ 45ہزار روپے خرچہ آتا ہے۔ لیکن سابقہ سال مونجی کی قیمت 2000تا 2500روپے رہی۔ لیکن اس دفعہ ایک ہزار تا 17سو روپے فی من فروخت ہوئی۔ اس طرح مونجی کا شتکار بھی نقصان میں رہے۔ اسی طرح مکئی کے کاشتکار بھی پیداوار کے بعد قیمت فروخت کم ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھارہے ہیں۔ کیونکہ مکئی بھی 5سو تا 9سو روپے فی من فروخت ہورہی ہے۔ دوسری طرف شوگر ملز مالکان جوکہ حکمران طبقہ ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ گنے کے کاشت کاروں کو دونوں ہاتوں سے لوٹ رہے ہیں۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ آگ جلانے والی لکڑی تو 500روپے فی من فروخت ہورہی ہے لیکن کاشت کار کا گنا 180روپے فی من خریدا جارہا ہے۔ جس سے چینی اور کئی کچھ حاصل کیا جاتا ہے۔ اور بعد میں اس چورا بھی فروخت ہوجاتا ہے۔
یہ سنتے سنتے کان پک گئے ہیں کہ ملکی معیشت میں زراعت کو ریڑ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کی پالیسیاں تو اس ریڑ کی ہڈی کو توڑنے والی ہیں۔ چند سال قبل کپاس 6ہزار روپے فی من فروخت ہوئی لیکن آج آپ نظر دوڑائیں تو کھاد سپرے بیج اور زرعی مشنری کی قیمتیں دوگنی ہوگئی ہیں۔ لیکن کپاس 6ہزار روپے فی من کی بجائے 2ہزار روپے فی من فروخت ہورہی ہے۔ موجود جمہوری حکمرانوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ خدارا ملکی زراعت اور غریب کسانوں پر رحم کھائیں۔ مستقل بنیادوں پر ایک زرعی پالیسی تشکیل دیں۔   وزیراعظم  میاں نواز شریف  کھادوں، زرعی کیڑے مار ادویات، بیج اور زرعی مشینری ٹریکٹر پر 17%سیل ٹیکس ختم کرنے کا فوری طور پر اعلان کریں اور کسانوں کیلئے زرعی استعمال کیلئے ڈیزل کی قیمت 50روپے فی لٹر مقرر کی جائے۔ نیزکپاس مونجی گندم مکئی اور گنے کی حوصلہ افزاء امدادی قیمت مقرر کی جائے۔  حکومت  اگر کسانوں کیلئے مکمل مراعات کا اعلان کرے تو  انشاء اللہ ایک ہی سال میں کسان زرمبادلہ کے ڈھیر لگادیں گے۔