خواتین کی اولین ترجیح”برانڈڈ ملبوسات ہر شاپ کی زینت

خواتین کی اولین ترجیح”برانڈڈ ملبوسات ہر شاپ کی زینت

عنبرین فاطمہ
ہر چیز میں پسند نا پسند سے کام لیا جانا انسانی فطرت ہے جوںجوں وقت گزرتا گیا لوگوں کی ترجیحات میں بھی تبدیلی رونما ہوتی گئی ۔ایسے ہی خواتین کے لئے فیشن ہر دور میں خاصا اہمیت کا حامل رہا ہے۔ فیشن ایسی شے ءہے جس میں مستقل مزاجی سے کام لینا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یہ ہر دم بدلتا ہے۔ ایسے ہی آئے دن متعارف ہونے والا منفرد فیشن خواتین کی دلچسپی میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ہم آج کی بات کریں یاپھر ماضی کی، آپ کو دو ایسے گروہ دیکھنے کو ملیں گے جوایک دوسرے سے پسندیدگی کے معاملے میں بالکل متضاد ہوں گے۔
ایک قسم کا گروہ وہ ہے جو ہمیشہ نت نئے اور اپ ٹو ڈیٹ دکھنے والے ماڈرن فیشن کے ملبوسات کو ترجیح دیتا ہے اور دوسرا وہ جو مشرقی یا پھر خصوصاً مغربی لباس کوہی پسند کرتا ہے۔ اگر ہم ماضی کے جھرونکوں میں نظر ڈالیں تو تقسیمِ ہند کے وقت جہاں لیڈی ماﺅنٹ بیٹن کو پسند کرنے والی خواتین تھیں وہیں فاطمہ جناح اور مسز لیاقت علیخان کے ملبوسات کو بھی بڑی تعداد میں خواتین پسند کرتی تھیں۔
لیڈر اور نمایاں خواتین کی فیشن حس کو سراہنے کیلئے فلمیں اور ڈراموں میں خواتین اداکاروں کو جس بھی لباس میں دکھایا جاتا وہ بھی قابلِ پسند رہا ہے۔ ہر دور میں فلمیں اور ڈراموں میں کیے جانے والے فیشن نے خواتین کو ہمیشہ ہی اپنی جانب راغب اور متاثر کیا ہے ۔ پاکستان کی بات کریں تو یہاں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ساڑھیوں کے فیشن نے خواتین کو ایک عرصہ تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ گھر، بازار یہاں تک کے ٹی وی ڈراموں میں بھی نوجوان یا درمیانی عمر کی خواتین نفیس اور جاذبِ نظر ساڑھیاں پہنی ہوئی دکھائی دی گئیں۔
بعد ازاں ستر کی آخری دہائی اور اسی کی دہائی میں بیل باٹم،پینٹ شرٹش اور اسی طرح کے دیگر جدید اور ذرا مغربی ٹچ والے ملبوسات نے خواتین کی دلچسپی حاصل کی۔ یہ سب فیشن کرنا ہر خاتون کی پسند اور خواہش رہی لیکن اصل مقابلے کی فضا تب شروع ہوئی جب خود کو فیشن کے معاملے میں برتر ثابت کرنے کیلئے کسی مخصوص کمپنی کے نام کا سہارا لیا جانے لگا۔ نوے کی دہائی میں برینڈز متعارف ہونے لگے اور انہوں نے پاکستان کی فیشن دنیا میں اپنے قدم جمانے شروع کئے۔موجودہ نامور فیشن ڈیزائنرز نے نوے کی دہائی میں برینڈڈ ملبوسات کا رجحان متعارف کرواکر اپنے کریئر کی ابتداءکی اور آج بھی یہ سلسلہ کامیابی سے جاری ہے بلکہ اب تو برینڈڈ ملبوسات کا بخار کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون کی اولین چوائس کوئی بڑا اور نامور برینڈ ہی ہوتا ہے ۔
پہلے جہاں یہ برینڈز صرف امیر کبیر خواتین کی پہنچ میں تھے اب ان کی مارکیٹ میں بڑھتی ڈیمانڈ دیکھ کر نامور برینڈز نے بھی عام خواتین کےلئے ملبوسات بنانے شروع کر دیئے ہیںجو معیار میں اچھے اور قیمت میں قدرے کم ہوتے ہیں لیکن پھر بھی عام مارکیٹس میں دستیاب ملبوسات کی نسبت ذرا مہنگے ہوتے ہیں۔ اب وہ وقت جا چکا جب برینڈڈ ملبوسات صرف خاص طبقے کی پہنچ میںہوتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں فیشن کی دنیا نے ترقی کی ، فیشن کیبل، ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے گھر کی دہلیز پر پہنچا تو عام طبقے کی خواتین بھی برینڈڈ ملبوسات کو ترجیح دینے لگیں۔ اب یہ عالم ہے کہ عام مارکیٹ میں بھی کپڑوں کی معمولی دکانوں پر برینڈڈ ملبوسات یا پھر ان کی نقل بآسانی دستیاب ہیںچونکہ ہر خاتون کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ برینڈڈ ملبوسات ہی زیب تن کرے اس لیے ٹیکسٹائل ملز نے اپنی ریٹیل مارکیٹ کو چند دکانوں سے بڑھا کر پورے ملک میں پھیلا دیا ہے۔
برینڈڈ ملبوسات میں عام خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے حوالے سے ہم نے چند ایک نامور برینڈز کے مالکان سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مخصوص طبقے کےلئے ملبوسات تیار کرتے کرتے عام خواتین کےلئے بھی ملبوسات بنانے کا آغاز کیا گیاجس پر ان کے تاثرات کچھ یوں ہیں۔معروف فیشن ڈیزائنر کامیار روکنی نے کہا کہ آج کل ہر طبقے کے لوگ باشعور ہو چکے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کی بدولت معلومات اور جدید فیشن ٹرینڈز ان کی دہلیز پر پہنچ چکی ہیں، اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیشن ڈیزائنرز نے بھی عام طبقے کےلئے ملبوسات تیار کرنا شروع کر دئیے ہیں جو بہت اچھا اقدام ہے۔میری ہمیشہ سے ہی کوشش رہی ہے کہ جو بھی فیشن متعارف کرایا جائے وہ ہر طبقے کی نمائندگی کرے۔ آج کل فیشن ڈیزائنر ہر درجے کے ملبوسات تیار کررہے ہیں ، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہر مارکیٹ میں ہر جگہ ڈیزائنر وئیر دستیاب ہے جس کی قیمت بہت زیادہ بھی ہوتی اور اتنی کم بھی کہ اسے کوئی سٹوڈنٹ یا گھریلو خاتون خرید سکے۔
فیشن ڈیزائنر حاجرہ حیات نے کہا کہ اگر آپ دیکھیں تو پوری دنیا میں بڑے بڑے برینڈز اپنی شہرت عام لوگوں تک پہنچانے کےلئے ایسی چیزیں تیار کرتے ہیںجو کہ عام طبقے کی پہنچ میں بھی ہوں۔اسی سوچ کے تحت اب ہمارے ہاں ڈیزائنر ملبوسات کو ہر طبقے کےلئے بنایا جا رہا ہے اور میرے حساب سے یہ بہت ہی اچھا ٹرینڈ ہے، اس کو مزید پذیرائی بھی ملنی چاہیئے۔
نوے کی دہائی میں فیشن کی نئی جہتوں کو متعارف کروانے والی ڈیزائنر بی جی نے کہا کہ ہمارے ہاں فیشن کی دنیا میں تیزی نوے کی دہائی میںآئی جب پاکستان میں بھی ڈیزائنر ملبوسات متعارف ہونے لگے۔لوگوں کو پہلے ڈیزائنر وئیر کی اتنی سمجھ بوجھ نہیں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فیشن کی سمجھ بوجھ آنے لگی اوریوں فیشن ڈیزائنرز نے بھی فیشن کی دنیا میں تجربات سے کام لینا شروع کر دیا۔آج حالات یہاں تک آن پہنچے ہیں کہ نئے فیشن ٹرینڈز ہر گھر میں مقبول ہیں اور گھریلو خواتین گھر بیٹھے ہی آگاہ ہیںکہ آج کل کونسا فیشن ان ہے اور کون سا آﺅٹ ہو چکا ہے ۔