خواتین چیمبر آف کامرس کسی کے خلاف بغاوت نہیں

خواتین چیمبر آف کامرس کسی کے خلاف بغاوت نہیں

پاکستانی خواتین نڈر بھی ہیں اور با صلاحیت بھی ۔ ان میں سے کچھ  خواتین ایسی ہیں جو ناصرف خود کامیاب ہوتی ہیں بلکہ دیگر خواتین کیلئے بھی مشعل راہ بنتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خاتون ڈاکٹر شہلا اکرم ہیں جو کامیاب بزنس وومن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ڈاکٹر، بیوی، ماں اور کئی ایسی خواتین کیلئے نمونہ خیال کی جاتی ہیں ۔ ڈاکٹر شہلا اکرم نے آٹھ سال قبل ایک ایسے فورم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد  کاروبا اور صنعت حرفت میں خواتین کا فعال کردار   اجاگر کرنا ہے۔ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی ڈاکٹر شہلا اکرم کا اس حوالے  سے کہناہے کہ اس چیمبر کا مقصد مردوں کی خلاف  بغاوت نہیں بلکہ کاروباری خواتین کو زیادہ آرام دہ پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا ۔ اس حوالے سے ان سے  ہونے والی گفتگو  نذر قائین  ہے۔
ڈاکٹر شہلا اکرم جنہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس  کی تعلیم مکمل کی  شادی  ہونے پر چوتھے سال میں وہ اپنے خاوند کے ساتھ بیرون ملک  روانہ ہو گئیں۔ جب واپس آئیں تو پرائیویٹ پریکٹس کیلئے انہیں کلینک بنانے کا خیال آیا۔ تب میرے شوہر نے  مجھے مشورہ دیا کہ ریڈیالوجی اور دیگر  ٹیسٹ کیلئے   لیبارٹری بھی بنا لی جائے تو بہتر ہو گا۔ اس طرح یہ کلینک  ہسپتال  کی شکل میں تبدیل ہو گیاپھر آئی سی یو  اور دیگر شعبے بھی بنا لیے۔ ڈاکٹر شہلا اکرم انتظامی امور سنبھالنے میں مہارت رکھتی ہیں اور اس ہی لیے انہوں نے اپنی سرکاری نوکری چھوڑ کر ہسپتال کی دیکھ بھال کافیصلہ کیا۔ ایک مرتبہ پرائیویٹ سیکٹر میں آنے کے بعد کامیابی ملی اور پھر  اسے  اپنا مقصد بنا لیا۔ اس کے بعد دیگر شعبوں میں بھی قسمت آزمائی  کی۔ کیونکہ  کاروباری صلاحیت  ورثے میں ملی تھی اس لئے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ۔ والدین ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن سسرالی رشتے داروں میں تقریباً ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں  چنانچہ اس فیملی میں جب آئی تو  آگے بڑھنے کا مزید حوصلہ ملا۔
چیمبر کی سیاست میں آنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2002میں مجھے کسی نے کہا کہ ہم نے آپ کو الیکشن میں نامزد کرنا ہے۔ مجھے اس حوالے سے کچھ بھی معلوم نہ تھا لیکن خاوند کے کہنے پر مان گئی اور پھر الیکشن کی مہم زور شور سے حصہ لیا ۔ اگرچہ میرا پورا پینل ہار گیا لیکن میں سب سے زیادہ ووٹ لیکر جیت گئی ۔ سمجھیں سر منڈواتے ہی اولے پڑنے لگے اورمجھے اپوزیشن کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔میرے لیے اعزاز کی بات یہ تھی کہ میں سب سے زیادہ ووٹ لیکر جیتی تھی اس لیے بھی تین سال کا عرصہ آسانی سے گزر گیا۔ میں 2002میں چیمبر کی ٹیم کا حصہ بننے والی پہلی خاتون تھی ، میری کارکردگی کو دیکھ کر فیڈریشن میں بھی ایگزیکٹو ممبر کے طور پر نامزد کیا۔ اکیلی خاتون ہونے کے باعث میں نے سوچا کہ خواتین کی تعداد کو بڑھانا اور انہیں کاروبار کے شعبے میں آگے لانا ہے ۔ اس حوالے سے د و سال تک بہت کوشش کی کہ خواتین چیمبر میں آئیں اور اپنے کاروبار کے حوالے سے بات کریں لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج نہ ملے بس ایک سرسری سا ڈرائنگ روم پالیٹکس کا سلسلہ شروع ہوا۔ پھر خیال آیا کہ خواتین کو سرگرم کرنا ہے تو انہیں ایک الگ پلیٹ فارم دینا ہوگا ۔ہمارا مقصد صرف چیمبر بنانا نہیں تھا بلکہ خواتین کو کاروبار میں شامل کرنا بھی تھا۔ البتہ کافی عرصے کی تگ و دو کے بعد خواتین کا مخصوص چیمبر بنا اور اس میںخواتین اپنے کاروبار کی بدولت ممبر بھی بن گئیں۔خواتین کے کاروبار میں دلچسپی کے حوالے سے ڈاکٹر شہلا کہتی ہیں کہ اس وقت خواتین مختلف کاروبار کر رہی ہیں۔ اب انہوں نے دیگر کاروبار کی جانب بھی رخ کیا ہے۔ پاکستان میں حج و عمرہ متعارف کرانے والی ایک خاتون ہی تھیں ، اب خواتین زراعت، فوڈ پیکنگ، کیٹرنگ، بیکری، ٹریول ایجنسی، کنسٹرکشن اور دیگر سروسز میں بھی آگئی ہیں۔
ڈاکٹر شہلا اکرم نے اپنے خواتین چیمبر بنانے  کے مقصد میں کامیابی کے حوالے سے بتایا کہ لاہور چیمبر میں پہلے معمول کی کمیٹیاں تھیں لیکن انہوں نے فیشن ڈیزائنرز کی کمیٹی بنائی۔ 2007میں سروسز انڈسٹری کو متعارف کرایا کیونکہ ہماری ساری خواتین سروسز کے شعبے میں ہیں اور اس کی مخصوص کمیٹی بنائی۔ خواتین کی کامرس سیکٹر میں شمولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2002میں پورے پاکستان میں صرف ایک خاتون چیمبر میں تھی اور 2009 میں ہمارے پاس فیڈریشن میں 12 خواتین تھیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر چیمبر میں بھی خواتین کا کوٹہ مختص ہونے سے  ہر ویمن چیمبر کو دو سیٹیں ملیں۔ ملک بھر میں پینتیس چیمبرز ہیں اور خواتین کے چیمبرز تمام بڑے شہروں میں موجود ہیں، آٹھ سال پہلے  جہاں صرف ایک ممبر تھا وہیں اب تقریباً تین ہزار ممبرز ہیں ۔  اپنے اس مقصد  کی کامیابی پر اللہ پاک کی شکر گزار ہوں کہ ویمن چیمبر آج ایک فعال ادارہ  بن چکا ہے ۔
خواتین کی ترقی اور ان پر ہونے والے تشدد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ازل سے جاری ہے ۔   ہمارے پدری سماج کی ذہنیت اتنی جلدی بدلنا مشکل بات ہے۔ جس شیء کے بارے میں آگاہی ہو اس کے اعداد و شمار بھی آ جاتے ہیں ۔ پہلے نہ کوئی اس بارے میں جانتا تھا اور نہ اس حوالے سے کوئی رپورٹ کرتا تھا۔ ماضی میں خواتین پر تشدد ہونا ایک معمول کی بات تھی لیکن واقعات رپورٹ نہ ہوتے تھے۔ کسی واقعہ کے رپورٹ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تشدد بڑھا ہے اور نہ ہی اس کا مطلب ہے کہ یہ کم ہوا ہے ۔ابھی ہمارے پاس کوئی سابقہ ڈیٹا نہیں ہے جس سے ہم موازنہ کر سکیں۔ تاہم  خواتین اور مردوں کو آگاہی  ضرورملی ہے۔
ماضی اور موجودہ دور کے موازنے کے جواب میں ڈاکٹر شہلا نے بلا جھجھک کہا کہ ہمارا وقت بہت مشکل تھا جبکہ عام خواتین کی زندگی اب موجودہ دور میں قدرے آسان ہے ۔ بڑے کاروبار کو مسئلہ نہیں ہوتا لیکن چھوٹے کاروبار والے افراد مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ اب حکومت کی مدد سے اصل فرق سمال بزنس کو پڑا ہے، قرضہ سکیم شروع ہونے سے خواتین کو خصوصاً مدد ملی ہے۔ خاتون پوری دنیا میں قرض کی ادائیگی میں سب سے بہتر سمجھی جاتی ہے ، اس نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ اچھی پے ماسٹر بھی ہے  ۔اس ہی وجہ سے مائیکرو فنانس چلا اور خواتین کو بڑے آرام سے قرضہ بھی مل جاتا ہے ۔بزنس کمیونٹی میں آپ کو مزیدبہتر حالات مل سکتے ہیں۔  وراثت کے قانون کے بعد سے جب ان کے پاس اپنی پراپرٹی ہوگی تو وہ اپنے چھوٹے کاروبار کو درمیانے درجے تک لے جا سکتی ہیں اور اس میں ویمن چیمبر انہیں ہر طرح کی ٹریننگ فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔
دیہی خواتین کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی زیادہ تر خواتین دیہی علاقوں میں ہے۔ این جی اوز ہوں یا حکومت، سب ہی شہری خواتین کیلئے کام کررہے ہیں لیکن ہم گائوں کی خواتین کو شہر بلاتے ہیںاور ان کی بنائی اشیاء کی نمائش کراتے اور انہیں ٹریننگ دیتے ہیں کہ وہ کیسے اپنے ہنر کو مزید استعمال کر سکتی ہیں ۔اگر ان کی صلاحیتوں کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ پاکستانی معیشت کی بحالی میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں ۔