کربناک لمحات کے بھیانک مناظر

کربناک لمحات کے بھیانک مناظر

11 ستمبر 2011ء کا دن امریکہ میں بسنے والے امریکی شہریوں ہی کیلئے  نہیں بلکہ یہاں آباد دوسری قوموں کے افراد کیلئے بھی ایک بھیانک اور افسوسناک واقعہ ہے۔ اس دن کے حوالے سے کسی سے ذکر کریں  ،ہوشربا واقعات سننے کو ملتے ہیں  اور اسے بیان کرنے والوں کی آنکھوں کے سامنے  کربناک لمحات کے مناظر گھومنے لگتے ہیں۔   متاثرہ افراد کی زبان پر ختم نہ ہونے والی ایک ایسی  داستان جاری ہو جاتی ہے جسے وہ  اپنے ذہنوں سے برسوں  مٹا نہ سکیں گے  ۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی آج بھی اس افسوسناک واقعہ کو یاد کر کے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں۔ ان  متاثرہ افراد کا کہنا ہے انہیں محسوس ہوتا ہے جیسے  ہولناک سائے  آج بھی ان کا تعاقب کر رہے ہوں۔ مالیاتی شعبے سے وابستہ ایک پاکستان تنویر جو امریکہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدیدار بھی  رہے ہیں اس حوالے سے بات چیت میں انہو ں نے بتایا کہ میں آ ج پھر انہی لمحات کی کیفیت میں جا پہنچا ہوں جس روز میں اپنے گھر سے معمولی کے مطابق   اس مقام کی جانب جانے کے لئے روانہ ہوا جہاں 110 منزلہ جڑواں ٹاورز کے سامنے والی بلڈنگ میں میرا دفتر واقع تھا۔ اپنی یاداشت کو سمیٹنے ہوئے انہوں نے بتایا یہ وہی ورلڈ ٹریڈ سنٹر تھا جس کی عمارت اس روز میری آنکھوں کے سامنے زمین بوس ہو رہی تھی۔ اس  تباہی کے دوران مجھے یہ خیال بار بار ستا رہا تھا کہ ایسی پر شکوہ عمارت میں ابھی کچھ ہی  دیر قبل میں اپنے کام کے سلسلے میں کسی سے ملاقات کر کے  اس تجارتی مرکز سے واپس لوٹا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کے ملبے تلے ایک ٹیکسی کے کچلے جانے کا منظردیکھ کر دل دہل کر رہ گیا۔ امدادی کارکنوں نے جلد وہاں پہنچ کر 4افرادکو بہت بری حالت میں  پچکی ہوئی اس گاڑی سے نکالا۔  تنویر کے مطابق  اس واقعہ نے اسے  اس قدر جھنجوڑ دیا کہ  اس نے واپس بلڈنگ میں جانے  کا ارادہ کیا تاکہ اپنے  ہوش وحواس  بحال کر سکے لیکن اس دوران جڑواں ٹاور میں ایک دوسرا جہاز ٹکرانے سے ایک اور زوردار دھماکہ ہو گیا اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اس دوران تباہ ہونے والی دونوں  عمارتوں  کے آس پاس  کے دفاتر کو فوراً خالی کروا لیا۔ ہر طرف ملبے اور دھول سے کالے بادل چھا چکے تھے۔ ایمبولینس گاڑیاں آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ سائرن بج رہے تھے۔ دونوں ٹاوروں سے آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے ۔ ویسٹ سٹریٹ اور آس پاس کے علاقے میں دھویں اور دھول کی وجہ سے اندھیرا چھاچکا تھا۔شام کے ڈھلتے سائے میں لوگ قریبی سب وے سٹیشن کی طرف بھاگ رہے تھے۔ پلیٹ فارم پر ٹرین میں زخمیوں کو منتقل کرتے ہوئے دل دھلا دینے والے اور  قابل رحم  واقعات  پیش آرہے تھے ،جسے دیکھنے کی ہمت نہیں  پڑ رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس حالت میں کھچا کھچ بھری ایک ٹرین لوگوں کو وہاں سے نکال کر لے گئی۔
 تین ماہ کے بعد تنویر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سامنے واقع اپنے دفتر میں داخل ہوا تو وہاں موجود مسخ شدہ اور  تباہ  و برباد سامان دیکھ کر اسے شدید صدمہ پہنچا لیکن اس نے عہد کیا کہ وہ اپنی کمپنی کو پھر سے اپنے پائوں  پر کھڑا کرنے کے لئے اسی جذبے سے  مستعد ہو کر کام کرے   گا جس کے تحت وہ اب تک  اس کیلئے خدمات سرانجام دے  رہا تھا۔ تنویر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس دن کے بعد مسلمانوں کے لئے حالات سازگار نہیں رہے۔ انہیں ہر جگہ مذہبی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حتیٰ کہ کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور ملازم پیشہ پاکستانیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بروک لین نیو یارک   میں آئس لینڈ کا علاقہ جو کبھی پاکستانیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا جسے امریکہ میں لٹل پاکستان  بھی کہا جاتا تھا اب اس جگہ ان کا  کاروبار بند ہو چکا ہے اور یہاں صرف بھلے وقتوں کی یادوں کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
ایسا کیونکر ہوا بظاہر نائن الیون کا تمام نزلہ ایک عضوِ ضعیف پر گرنا قانون فطرت ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مؤرخ آئندہ برسوں میں جب تہہ در تہہ حقائق کا کھوج لگانے کی کوشش کرے گا تو اسے شاید اس واقعہ کے پس منظر میں بھی امریکی ریاستی اداروں کے ڈیزائن کردہ آپریشن مینگوز جیسے حقائق بے نقاب ہوتے دکھائی دیں گے۔ یہ آپریشن مینگوز 1960ء میں اس وقت کی دو متحارب قوتوں کی آویزش کا ساخسانہ تھا۔ جس کا مقصد روس کے اتحادی ملک کیوبا کو سبق سکھانا تھا جس کے لئے قانون کے تحت 30 سال بعدامریکی خفیہ دستاویزات کے پبلک کے لئے عام( Declassified )کرنے پر یہ سچ منظر عام پر آسکا کہ  امریکہ میں مقیم کیوبن شہریوں کے میامی اور فلوریڈا سٹیٹ میں  مبینہ احتجاج اور اہم تنصیبات  پر جارحانہ حملوں میں خود امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ملوث تھا۔