نیول ڈاکیارڈ پر حملہ

نیول ڈاکیارڈ پر حملہ

ممتاز عالم دین علامہ عباس کمیلی کے صاحبزادے علی اکبر کمیلی کے وحشیانہ اورسفاکانہ قتل اورنیول ڈاکیارڈ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد کراچی پھر غیرمستحکم ہوگیا اورکیماڑی سے اسلام آباد تک تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ یہ دونوں واقعات ایک دن ہوئے۔ علامہ عباس کمیلی کے صاحبزادے کو دن میں قتل کیا گیا اوررات کو کراچی نیول ڈاکیارڈ پر شب خون مارا گیا نیول ڈاکیارڈ پر حملے میں بحریہ کا ایک افسرشہید اور6زخمی ہوئے۔حملہ آوروں پر کئی گھنٹے بعد قابو پالیا گیا اوردہشت گرد مارے گئے 4کو گرفتارکیا گیا۔ 8جون کو کراچی ایئرپورٹ پرحملے کے بعد علامہ عباس کمیلی اورنیول ڈاکیارڈ پردھاوا سنگین واقعات ہیں ایک جانب عسکری اداروں کو نشانہ بنایاجارہا ہے تو دوسری جانب فرقہ وارانہ دہشت گردی سر ابھاررہی ہے جس روز کراچی پر قیامت ٹوٹی اس روز کراچی آپریشن کی سالگرہ بھی تھی جس شہر میں ایک سال سے آپریشن ہورہا ہے اس میں دہشت گردی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں عام شہریوں کے تحفظ کی بات تو چھوڑیئے۔ سرکاری اداروں پر قبضے اورحملے ہورہے ہیں ۔ وزیراعظم سے لے کر وفاقی اورصوبائی وزراء کراچی آپریشن کا کریڈٹ فخر سے لیتے ہیں۔ کراچی آپریشن کی کامیابی کیلئے وزیراعظم نے 10رہنما اصول دیئے۔ جن میں صرف ایک پر عمل ہوا اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ غارت گروں نے ایک سال میں شیعہ برادری کے 160افراد قتل کردیئے۔جن میں تین علمائ‘ پانچ انجینئر ‘ تین پروفیسر پانچ ڈاکٹر 5وکیل اور 21تاجروصنعتکار شامل ہیں۔ایک برادری کاخون پانی سے زیادہ سستا ہوگیا اورکوئی پرسان حال نہیں۔ مجلس وحدت المسلمین فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرکے تھک گئی ہے اور اب کراچی کی شیعہ برادری احتجاج کے حق سے بھی دستبردار ہوگئی ہے۔ اور شاید اس نے خود کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ہفتہ کو کراچی جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی کے صاحبزادے مولانا اکبر علی کمیلی کے قتل کے بعد مختلف علاقوں میں دیکھتے ہی دیکھتے بازار اوردکانیں بند ہوگئیں گھیرائو جلائو بھی کیا گیا علامہ اکبر علی کمیلی کے وحشیانہ اورسفاکانہ قتل کی ذ مہ داری جند اللہ نے قبول کرلی۔ مولانا اکبر علی کمیلی کے قتل کو شیعہ سنی فسادات کی سازش قرار دیا گیا۔ جعفریہ الائنس نے تین روز کے سوگ کا اعلان کیا جس کی ایم کیو ایم نے حمایت کردی۔ علامہ عباس کمیلی ایم کیو ایم کی نشست پر سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔قاتلوں نے علامہ علی اکبر کمیلی پر ان کے برف کے کارخانے کے باہر گولیاں برسائی گئیں تین گولیاں ان کے سینہ میں لگیں۔ گردن میں گولی لگنے سے ان کا ملازم جمن بھی جا ں بحق ہوگیا۔ واردات میں 9ایم ایم کا پستول استعمال کیا گیا۔ پولیس نے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے تحقیقاتی ٹیمیں بنادیں۔ لیکن حسب معمول کوئی نتیجہ نہیں نکلا علی اکبر کمیلی کے پسماندگان میں تین معصوم بھی شامل تھے وزیراعظم محمد نواز شریف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین تحریک انصاف کے سربراہ عمران اورپیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے علی اکبر کمیلی کے قتل کی مذمت کی ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے علی اکبر کمیلی کے قتل کو سازش قرار دیا۔کراچی نیول ڈاکیارڈ پر حملہ کوئٹہ کے سمنگی ایئربیس پر حملے کا تسلسل تھاکوئٹہ ایئربیس پر 14اگست کی صبح حملہ کیا گیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن قومی دن پر اپنی موجودگی کا احساس دلارہا ہے اورپاکستان پر حملوں میں پاکستانیوں کو استعمال کررہا ہے کراچی نیول ڈاکیارڈ اورکوئٹہ ایئر بیس سے کئی ملزمان زندہ مل گئے تھے کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کے ایک ملزم کو پکڑ کر اس سے صبح 7بجے تک تفتیش کی گئی تھی لہذا ان ملزمان سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں ملزمان کا نیٹ ورک اب تک ٹوٹ جاناچاہیے تھا۔ یہ امر قابل ذ کر ہے کہ ایک جانب نیوی ملک دشمنوں کا ہدف بنی ہوئی ہے تو دوسری جانب ریاست کے خلاف دہشت گردی سندھ بلوچستان میں سمٹ گئی ہے۔ 8جون 14اگست اور6ستمبر کو ہونے والے تمام حملوں میں مماثلت پائی جا تی ہے۔ اس سے قبل پی این ایس مہران پر بھی حملہ کیا گیاتھا اوراربوں روپے مالیت کے نایاب جہاز جلادیئے گئے ۔ کامرہ ایئر بیس پر اربوں ڈالر کے اور کس طیارے جلائے گئے۔ یہ طیارے دنیا میں صرف تین ملکوں امریکہ اسرائیل اور پاکستان کے پاس ہیں پی سی تھری اورین اورکس طیاروں کو جلا کر دشمن نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔ یہ جاسوس اورریڈار پر نظر نہ آنے والے سرویلنس طیارے تھے۔ کراچی میں پی پی آئی اے کے تین طیارے تباہ کئے گئے اس طرح دشمن پاکستان کے جہازوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے دشمن پاکستان کو سخت پیغام بھی دے رہے ہیں۔نیول ڈاکیارڈ پر حملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس میں پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کا بیٹا ملوث بتایاجاتا ہے جس سے اس بات کا بھی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ کراچی میں امن وامان کے معاملات کس قدر دگرگوں ہیں۔ کراچی ایئرپورٹ پر جب حملہ ہوا تھا تو سرکاری ملازمین پر شک کیا گیا تھا اور ان پرانگلیاں اٹھائی گئی تھیں۔ لیکن بات دب گئی تھی۔امن وامان کی خراب صورتحال پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم بھی بڑھ گئے ہیں بنک ڈکیتی کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے کراچی آپریشن سے حکمراں کس قدر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ آپریشن کے کپتان قائمقام ہیں۔ آئی جی سندھ کی تقرری پر وفاق اور حکومت سندھ میں شدید اختلافات ہیں۔