قائد اعظم نے بحیثیت مسلمان دین سے محبت کا سبق والدہ سے سیکھا

شریف فاروق تمغہ امتیاز
قائد اعظم محمد علی جناح کو اسلام کی محبت کا سبق والدہ کی گود ہی میں مل گیا تھا۔ ان کی والدہ منت پوری کرنے کیلئے شیر خوار محمد علی جناح کو پیر حسن کی درگاہ پر لے گئیں جہاں ان کا عقیقہ کیا گیا اور ان کے سر کے بال اتارے گئے۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اپنی کتاب ”دی برادر“ میں اس سفر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ جس کشتی میں یہ لوگ سوار تھے، وہ طوفان میں گھر گئی۔ کشتی میں سوار لوگ سراسیمہ ہو گئے میرے والد کی نگاہیں آسمان پر لگی ہوئی تھیں۔ میری والدہ اپنے لاڈلے بیٹے محمد علی کو کلیجے سے لگائے تمام ساتھی مسافروں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھیں طوفان ٹل گیا یہ لوگ بخیریت ساحل پر جا پہنچے تو میری والدہ نے میرے والد سے ذکر کیا کہ میں نے آزمائش کی اس گھڑی میں یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے بخیریت منزل پر پہنچا دیا تو میں شکرانے کے طور پر حضرت پیر حسن کی درگاہ پر مزید ایک دن قیام کروں گی۔ چنانچہ محمد علی جناح نے دین سے محبت کا سبق اپنی والدہ سے سیکھا اور زندگی کے آخری برسوں میں دین کے نام پر ایک الگ مملکت کے حصول میں کامیاب ہوئے۔

مجلس سے واک آﺅٹ
اسلام نے پرائی عورت اور پرائے مال پر نظر رکھنے کی ممانعت کی ہے۔ قائد کی زندگی تمام دنیاکے سامنے ہے۔ انہوں نے کسی کے حصے کے مال کو کبھی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور اگر کبھی کسی نے وکیل کے طور پر ان سے طے کی ہوئی فیس سے زیادہ رقم دینا چاہی تو انہوں نے اسے اپنا حق نہ جانتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ انگلستان میں حصول تعلیم میں مصروف تھے کہ شطرنج میں مات کھانے کے بعد انگلستان کی ایک خاتون نے معاہدے کے مطابق اپنی مرضی یوں استعمال کرنا چاہی کہ محمد علی جناح اسے ”پیار“ کریں تو جناح محض اس لیے مجلس سے واک آﺅٹ کر گئے تھے کہ اسلام نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی عورت کو پیار کرنے کی اجازت نہیں دی۔