قائداعظم ؒ

ابصار عبدالعلی
جس کو چلیں اٹھا کے وہ سردے گیا ہمیں
زنجیر کاٹنے کا ہنر دے گیا ہمیں
ہم دیکھتے نہیں تو ہمارا قصور ہے
وہ دیکھنے کو اپنی نظر دے گیا ہمیں
جو اتحاد و نظم و یقین کا اسیر تھا
آزاد اک وطن وہ بشر دے گیا ہمیں
کیسی بلندیوں سے گرے تھے، اٹھالیا
ہم زیر تھے، مقام ِزبر دے گیا ہمیں
سب موسموں سے بالا، حوالہ بہار کا
دور خزاں میں برگ و ثمر دے گیا ہمیں
وہ باغبان پاک چمن، قائداعظمؒ
ایک سبز سایہ دار شجر دے گیا ہمیں
وہ خضر تھا، بتا گیا راہوں کے سب رموز
جس سے مفر نہیں وہ ڈگر دے گیا ہمیں
بابائے قوم، ملت محبوب کی انا
اللہ کا دیا ہوا گھر دے گیا ہمیں
وہ قافلہ کہا ںجو اسی سمت چل سکے
جس سمت کا وہ اذنِ سفر دے گیا ہمیں
رہنے کے واسطے نہ زمیں تھی نہ آسماں
ہم جس میں سر چھپائیں وہ گھر دے گیا ہمیں
صدیوں سے منجمد تھے ہمارے تو حوصلے
برف آب آندھیوں میں شرر دے گیا ہمیں
پھر آج ہم کو چاہئے سورج وہی کہ جو
صدیوں طویل شب کی سحر دے گیا ہمیں
پھر آج ہم کو قائداعظم ؒ کی ہے تلاش
منزل پہ لا کے ذوق سفر دے گیا ہمیں
رستے کی سب رکاوٹیں اس کی نظر میں تھیں
دیوار وہ کہ جس میں ہے در دے گیا ہمیں