سیلابی ریلا

احسان الحق
پنجاب کے مختلف شہروں سے شروع ہونے والے بڑے سیلابی ریلے کا آج یا کل رحیم یار خان سے گزر کر سندھ کی حدود میں داخل ہونے کے امکانات ہیں اور اس متوقع سیلابی ’’جن‘‘ سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ آج کل بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں اور انتظامیہ نے اس صورتحال سے بدرجہ اتم نمٹنے کیلئے پاک فوج کی 10 کمپنیاں اور پاک فوج کے انجینئرز پر مشتمل 1کمپنی رحیم یار خان میں طلب کرنے کے ساتھ ساتھ پاک فوج سے ایک M I-17ہیلی کاپٹر بھی بھیجنے کی درخواست کی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال کے دوران شہریوں کو فوری ریسکیو کیا جا سکے ۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 2روز قبل دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ 2010 میں آنے والے سیلاب کے دوران یہاں سے 9لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی گزرا تھا جس سے رحیم یار خان میں بڑے پیمانے پر تباہی سامنے آئی تھی تاہم رواں سال 2010ء کے مقابلے میں کم پانی گزرنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق انہوں نے متوقع ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس مقصد کیلئے انہوں نے 20 ریلیف کیمپ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ 43 مکمل اور 40 جزوی دیہاتوں سے تقریباً1 لاکھ 10 ہزار شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے جبکہ مزید انسانوں اور جانوروں کی نقل و حمل کی صورت میں بھی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ۔
اسلام آباد میں جاری پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے اثرات پور ے ملک کی طرح رحیم یار خان میں بھی دیکھے جا رہے ہیں اور پارٹی قیادت کی ہدایت پر تحریک انصاف کے مقامی رہنمائوں نے چند روز قبل ضلع کے مختلف حصوں میں ریلیاں بھی نکالیں جس کی پاداش میں ضلعی انتظامیہ نے ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بڑے بھائی طالوت سلیم باجوہ جو کہ مسلم لیگ ق کے ضلعی صدر بھی ہیں ،سمیت سابق وزیر مملکت برائے امور داخلہ چوہدری ظفر اقبال وڑائچ اور چوہدری آصف مجید سمیت دیگر پارٹی رہنمائوں کے خلاف 16 ایم پی او کے تحت پرچے درج کیے ہیں تاہم معلوم ہوا ہے کہ چوہدری ظفر اقبال وڑائچ سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماء جب عدالت میں ضمانت کیلئے پہنچے تو خلافت توقع پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنمائوں نے ان کی ضمانتیں دیں جس سے پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت میں اختلافات کابخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔تاہم حیران کن طور پر چند روز قبل مسلم لیگ ن کی مقامی تنظیم نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شہر میں ایک ریلی نکالی تو اس ریلی میں شریک کسی لیگی رہنماء یا کارکن کے خلاف 16 ایم پی او کے تحت کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تاہم معلوم ہوا ہے کہ ملکی سیاسی حالات کی دگرگوں صورتحال کے باعث مسلم لیگ ن کے بیشتر مقامی رہنمائووں نے اپنے اپنے گھروں میں آیت کریمہ اور آیت الکرسی کے ورد شروع کرا دیے ہیں تاکہ موجودہ اسمبلیوں کے 5 سال پورے ہونے کی صورت میں وہ اپنے اپنے ’’مقاصد ‘‘ بھی پورے کر سکیں ۔
اسلام آباد میں جاری تحریک انصاف کی سرگرمیوں کے تناظر میں رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چوہدری جعفر اقبال جو آج کل نواز شریف کے ناراض کیمپ میں دیکھے جا رہے ہیں ،کے حوالے سے میڈیا میں چند روز قبل ان خبروں کو بڑی نمایاں کوریج ملی جس میں چوہدری جعفر اقبال کی جانب سے پی ٹی آئی کے کسی ایم این اے کو نائب وزیر اعظم بنا کر دھاندلی کے حوالے سے قائم ہونے والے کمیشن کی سربراہی بھی اس کو دیے جانے کی تجویز دی گئی تھی پی ۔ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان نے چوہدری جعفر اقبال کی اس تجویز کو مسلم لیگ ن کی تجویز قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس پیشکش کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیاتھا بلکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے مسلم لیگ ن کی طرف سے پی ٹی آئی کو سیاسی رشوت قرار دیاتھا جس پر مسلم لیگ ن کی قیادت کو خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وزیرا بھی اسے چوہدری جعفر اقبال کی ذاتی تجویز قرار دیتے رہے لیکن اس وقت تک عمران خان اس تجویز کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ن پر کافی چڑھائی کر چکے تھے ۔
سیاسی حلقوں کے مطابق مسلم لیگ ن سے نارض سینیٹر چوہدری جعفر اقبال شاید اس تجویز کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف میں اپنی متوقع شمولیت کی راہ ہموار کر رہے تھے کیونکہ اطلاعات کے مطابق مارچ 2015ء میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں اگر چوہدری جعفر اقبال کو مسلم لیگ ن کی طرف سے سینٹ کا ٹکٹ نہ دیا گیا تو متوقع طور پر اپنے گروپ سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں۔