راست باز شخص

زیڈ اے سلہری
 قائد اعظم نے بہت پہلے ایک با اعتماد سیاست دان آزاد اور باکردار انسان کی حیثیت سے خود کو منوالیا تھا۔ ان کی طویل سیاسی زندگی میں پاکستان کے لئے جدوجہد کے سات سال محض چند لمحات کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن یہ لمحات جن کے دوران ان کے سر پر کامیابی کا تاج دھرا گیا۔ اس لحاظ سے یہی لمحات عظیم اور شاندار ہیں۔ وہ دلکش شخصیت کے مالک تھے نہایت حلیم اور تہذیب و اخلاق کا مرقع تھے۔ وہ دل موہ لینے والی گفتگو کرتے تھے۔ اور ان میں جس مزاح بھی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی وہ نہایت قابل احترام اور باوقار تھے۔ ان کی زندگی کسی شک و شبہے کی ایک چھینٹ تک سے پاک تھی۔ ان پر کبھی کوئی شخص دو عملی یا خفیہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام تک عائد نہیں کرسکا۔ وہ نہایت دیانت دار تھے۔ یہ ایک عام تاثر تھا اور اس پر ہر آدمی متفق تھا کہ خواہ کوئی قائدؒ سے اختلاف رکھے یا اتفاق لیکن وہ یہ ضرور تسلیم کرتا تھا کہ قائد انتہائی شریف انسان تھے۔ مسلم لیگ اور کانگریس میں مفاہمت و مصالحت کے لئے ان کی پرخلوص‘ بے لوث اور انتھک کوششوں کی بنا پر مسز سروجنی نائیڈو نے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا۔
لیکن1940ءکے عشرے میں یہ تصویر ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگئی اور قول و فعل کی کوئی ایسی برائی نہیں رہی جو ان کے کھاتے میںنہ ڈالی گئی ہو۔ اس تبدیلی بلکہ الٹی زقند کی آخر وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ یہ تو نہیں تھی کہ قائدؒ نے اپنے پچاس سال کے پختہ طرز عمل کو بڑھاپے میں اچانک تبدیل کر ڈالا ہو۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ ایک ایسا مقصد لے کر اٹھے تھے جس سے ہندو راج کا خواب بکھر رہا تھا، اور قائدؒ کا گناہ یہ تھا کہ وہ جھکنے پر آمادہ نہیں تھے۔ کیوں کہ وہ بکنے اور جھکنے والے نہیں تھے۔
 قائد اعظمؒ کو دی جانے والی گالیوں کی وجہ یہ کلیتہً سیاسی تھی، اور یہ ہندو اور انگریز کی مایوسی کی انتہائی علامت تھی۔ اس کا مقصد ان کی شخصیت کے خوبصورت اور منفرد خدوخال کو بگاڑنا تھا۔ یہ حرکت اچانک ہی نہیں نہایت گھناو¿نی بھی تھی لیکن اس کی وجہ واضح طور پر سمجھ آنے والی تھی کہ پاکستان کی تحریک ہندوو¿ں کے تصور ا ور توقعات کے برعکس روز بروز بڑھتی چلی جارہی تھی۔1936 ءکے عام انتخابات کے بعد کانگرس ایسی طاقت بن کر بن کر ابھری کہ ایک طرف تو اسے یہ زعم تھا کہ برطانیہ جو 1935 ء کے ایکٹ کے مرکز سے متعلق حصے پر عمل درآمد کرنے پر تلا ہوا تھا اس سے اپنی پسند کی شرطیں منواسکتی ہے۔ تو دوسری طرف اسے کوئی جماعت اپنی ہم پلہ نظر نہیں آتی تھی۔ نہرو نے یونہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ بر صغیر میں صرف دو طاقتیں ہیں۔ ایک انگریز اور دوسری کانگریس اسی گھمنڈ میں مسلم عوام سے رابطے کی مہم شروع کی گئی تھی۔ یو پی کی وزارت میں دو نشستوں کی فراخ دلانہ“ پیشکش کے عوض اسمبلی میں جماعت کی تحلیل کا مطالبہ بھی اسی حد سے بڑھے ہوئے گھمنڈ کا نتیجہ تھا۔ ہر چیز کانگریس کے حق میں جارہی تھی۔ جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادل بھی کانگریس کی فتح کو مزید شاندار بناتے نظر آتے تھے۔لیکن انتخابات کے تین ہی سال میں ایک نئی صورت حال پیدا ہو ئی جب انگریز اور ہندو کے گٹھ جوڑ کے خلاف قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ بر صغیر کی منظم جماعت بن گئی۔