حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی نوکر شاہی کو نصیحت

 عزیز ظفر آزاد
بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی حیات بابرکات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدھے سادھے بڑے سچے اور پکے مسلمان تھے۔ آپ کی زندگی میں غور و فکر معاملہ فہمی اور دور اندیشی کے ساتھ قول و عمل میں یکسانیت، ارادے کی پختگی بقدر اتم پائی جاتی تھی۔ مدلل مو¿قف آپ کو دوسرے ہم عصر رہنماﺅں کے مقابلے میں منفرد اور بلند کرتا ہے۔ حضرت قائداعظم گاندھی کی طرح عام آدمی کی زندگی کا ڈرامہ کرتے نہ نہرو کی طرح دروغ گوئی اور مکاری سے سیاست میں مقام بنانے کے قائل تھے۔ آپ نے منفی سیاست سستی شہرت اورجذباتی لفاظی سے ہمیشہ پرہیز کیا۔ حضرت قائداعظم کے دور سیاست کو دیکھیں تو برصغیر میں بڑے بڑے نامور اور باکردار لوگ دکھائی دیتے ہیں مگر جو بلندی اور آفاقیت حضرت قائد کے حصے میں آئی کسی دوسرے لیڈر کے مقدر میں نہیں کیونکہ آپ نے ایک منتشر مغلوب اقلیت کو نہ صرف مختصر مدت میں ایک متحد و منظم قوم کی شکل میں ڈھال لیا بلکہ اپنے اعلیٰ اطوار و بلند کردار اور عزم صمیم کے ذریعے مسلمانان برصغیر کو ایک علیحدہ خطہ زمین لے کر دیا جہاں وہ اپنی عبادات، روایات ہی نہیں اسلام کے اعلیٰ اور لافانی فلسفہ حیات کو رائج کر کے عالم موجود کے لئے ایک ماڈل پیش کر سکیںجو مذہبی رواداری، انسانی برابری کا درس عظیم ہے۔ حضرت قائداعظم نے اس ارض پاک کے ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کی انتہائی توجہ اور بُردباری سے تربیت فرماتے ہوئے ہر موقع پر اسلامی شعار پر کاربند رہنے ملک و قوم کے عظمت و وقار کے لئے ہمہ وقت ایثار و اخلاص کا عملی نمونہ بننے کی تلقین فرمائی۔ حضرت قائداعظم آزادی کے بعد شدید بیماری کے عالم میں بھی اداروں کے قیام و دوام اور شخصی واجتماعی کردار سازی کے عظیم عمل میں مصروف نظر آئے اور قیام پاکستان کے بعد تیرہ ماہ کی قلیل عرصہ میں قوم کی تربیت و نصیحت کرتے ہوئے 11 ستمبر کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت قائداعظم نے سب سے زیادہ نصیحت سرکاری ملازمین کو فرمائیں۔ برطانوی سامراج نے ہندوستان کو غلام بنانے کےلئے نو کر شاہی کو بڑے بھونڈے انداز میں تیار کیا جس کے مطابق سرکاری افسر اور عوا م میں حاکم اور محکوم کا رشتہ اور فاصلہ برقرار رکھا گیا۔ سرکاری افسر کے تکبر اور ظالمانہ طرز عمل سے رعایا خوف زدہ رہتے ہوئے اپنے حقوق کا تصور بھی نہ کر سکے۔ حضرت قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد اس طرز عمل کو یکسر تبدیل کرنے کے ارادے سے مسلم ریاست پاکستان کے افسران کے سامنے تین اصول وضع کئے -1 افسران کو لوگوں کا خدمت گزر سمجھتے ہوئے بے لوث خدمت کو اپنا نصیب العین بنانا ہوگا -2 لوگوں سے معاملات کرتے وقت منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا ہو گا -3 انہیں کسی حالت میں سیاسی دباﺅ میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس سے رشوت، اقربا پروری اور سفارش جنم لیتی ہے۔
حضرت قائداعظم نے پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں فرمایا ”اگر ہم عظیم مملکت پاکستان کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو پوری توجہ لوگوں بالخصوص غیر طبقہ کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی۔ ہر شخص خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو اس کا رنگ ، نسل ، مذہب کچھ بھی ہو اول اور آخر مملکت کا شہری ہے۔ اس کے حقوق مراعات اور ذمہ داری مساوی اور یکساں ہے۔“ (11اگست 1947ئ)
حضرت قائداعظم فرماتے ہیں کہ ہم نے پاکستان حاصل کر لیا لیکن یہ محض آغاز ہے ، اب بڑی بڑی ذمہ داریاں ہمارے کاندھوں پر آن پڑی ہیں جتنی بڑی ذمہ داریاں ہیں اتنے ہی بڑے ارادے اور اتنی ہی عظیم جدوجہد کا جذبہ ہم میں پیدا ہونا چاہیے۔ (18 اگست 1947ئ)
حضرت قائداعظم نے 11 اکتوبر 1947ءکو افسران سے خطاب میں فرمایا ”ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ہم ایک ایسی ریاست تخلیق کریں جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں جو ہماری تہذیب و تمدن ہی کی روشنی میں پھلے پھولے اور معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور کو پوری طرح پنپنے کا موقع ملے“۔
حضرت قائد نے 14 فروری 1948ءسبی میں خطاب میں کہا کہ ”ایمانداری خلوص دل سے کام کیجئے۔ کام اور زیادہ کام آپ کے ضمیر سے بڑی قوت روئے زمین پر نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب خدا کے روبرو پیش ہوں تو آپ پورے اعتماد سے کہہ سکیں کہ میں نے اپنا فرض انتہائی ایمانداری، وفاداری اور صمیم قلب سے ادا کیا۔“
قائداعظم نے چٹاگانگ میں 25 مارچ 1948کو سرکاری افسران سے خطاب میں فرمایا کہ ”وہ دن گئے جب ہمارے ملک پر نوکر شاہی کا راج تھا۔ یہ عوام کی حکومت ہے اور عوام کے سامنے جوابدہ، حاکمیت کے تکبر کا نشہ ٹوٹنا چاہیے۔ ماضی سے بدنام روایا ت کو طاق میں رکھ دیجئے اب آپ حاکم نہیں رہے آپ کا حکمران طبقہ سے تعلق نہیں، اب آپ ملازمین ہیں۔ آپ انہیں محسوس کرائیں کہ آپ ان کے خدمت گار اور دوست ہیں۔ عزت تکریم انصاف مساوی برتاﺅ اور غیر جانبداری کا اعلیٰ معیار قائم کیجئے۔“
پشاور میں 14 اپریل 1948ءکو افسران سے خطاب میں فرمایا کہ ”حکومتیں بنتی ہیں حکومتیں گرتی ہیں لیکن آپ لوگ وہیں رہتے ہیں اس طرح آپ کے کاندھوں پر عظیم ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔ آپ کو اس کے لئے تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ آپ غلط کام کی بجائے صحیح کام کیوں کر رہے ہیں؟ آپ عتاب میں آ جاتے ہیں ایسے میں آپکو قربانی دینی ہو گی۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آگے بڑھیں اور قربانی دیں خواہ آپ بلیک لسٹ ہو جائیں یا پریشانی اور تکلیف میں مبتلا کر دئیے جائیں۔ آپ کی انہی قربانیوں سے حالات بدلیں گے۔ اس موقع پر آپ نے افسران سے فرمایا کہ آپ کو کسی قسم کے سیاسی دباﺅ میں نہیں آنا چاہیے۔ آپ کو کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاستدان کا اثر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ واقعی پاکستان کا وقار بلند کرنا چاہتے ہیں تو کسی طرح کے دباﺅ کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام و مملکت کے سچے خادم کی حیثیت سے اپنا فرض بے خوفی اوربے غرضی سے اداکرنا چاہیے۔ مملکت کےلئے آپ کی خدمت وہی حیثیت رکھتی ہے جو جسم کےلئے ریڑھ کی ہڈی کو حاصل ہے۔“
قارئین کرام! اگر قائداعظم اور ان کے رفقاءنے اپنی ایمانی قوت اور بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمارے لئے ارض وطن بھی حاصل کرلی اور اسے نیئر و درخشاں رکھنے کے نسخے بھی فراہم کر دیے مگر ہم نے ان کی عطا کردہ آزادی کی عظیم نعمت کی قدردانی کی نہ ان کے بتائے اصولوں پر کاربند ہو سکے۔ حضرت قائداعظم کی رحلت اور قائد ملت کی شہادت کے فوراً بعد نوکر شاہی کی سازشیں شروع ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ غلام محمد ، سکندر مرزا نے چودھری محمد علی دیگر ساتھیوں اور ایوب خان جیسے فوجی جرنیل کی مدد سے ملک خداداد کی سیاسی بساط کو لپیٹ کر نوکر شاہی قابض ہو گئی جس کے نتیجے میں آج تک حقیقی جمہوری قوتیں پنپ نہیں سکیں۔ قائداعظم کی قوم کو مملکت درکار تھی آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک قوم کی تلاش ہے ۔آج مملکت جس بحرانی کیفیت، انتشار و نفاق کی حالت سے گزر رہی ہے وہ شرمناک بھی ہے اور عبرتناک بھی، ہم کہلاتے تو مسلمان ہیں مگر ہمارے اندر تمام وہ معاشرتی بُرائیاں واضح اور بکثرت پائی جاتی ہیں جن کے باعث بیشمار امتیںعذاب کے ذریعے مٹا دی گئیں۔ ہمیں بالآخر اپنے اسلاف کی طرف لوٹنا ہو گا وہی ایثار و اخلاص کے کردار کو اپنانا ہو گا تاکہ حصول پاکستان کے مقاصد بانیان پاکستان کی تمناﺅں کے مطابق حاصل کر سکیں۔