اکیلا مسافر۔۔۔۔۔ فاطمہ جناح کا دکھ سے بوجھل دل دھڑکنا بھول گیا

سائرہ ہاشمی

تیرے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں
 علامہ اقبال
1949ءمیں محترمہ فاطمہ جناح نے قائد اعظم کی پہلی برسی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔
” میں ایک غمزدہ دل کے ساتھ قوم سے مخاطب ہوں۔ قائد اعظم کی رحلت ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ لیکن ذاتی طورپر میرے لئے موت کا پیغام تھا۔ کیونکہ میں آٹھ برس کی تھی کہ ان کے مہربان سائے تلے پرورش پائی اور تعلیمی مراحل طے کئے۔
یہ میرے لئے انتہائی مشکل مرحلہ تھا کہ میں اس کربناک دکھ کو سہار پاتی لیکن کروڑوں پاکستانی عوام کی ہمدردی نے اس غم کو برداشت کرنے کا حوصلہ بخشا۔ میں ان سب کی مشکور ہوں جنہوں نے میرے دکھ کو بانٹا
قائد اعظم ایک بھر پور اور بامقصد زندگی گزار کر راہی ¿ ملک عدم ہوئے۔ اور وہ بہن جو ان کے وجود کی‘ ان کی دوسراتھ کی ان کی شفقت بھری محبت کی عادی تھی آنسوو¿ں میں بھیگی اکیلی رہ گئی۔ زندگی اپنا مفہوم بدل چکی تھی۔ زندہ رہنے کا جواز کیا تھا۔ لیکن زندگی کی نعمت سے منکر ہونا کفران نعمت تھا۔11 ستمبر1948ءکو قائد اعظم کا جسد خاکی لافانی دنیا کے سفر پر چل پڑا تھا۔ یہ پہلی بار ہواتھا کہ ان کی رفاقت میں وہ فاطمہ کو اکیلے چھوڑ گئے تھے۔ وہ جو ان کی صلاح کار اور مشیر تھیں‘ ان کی ٹائپسٹ تھیں‘ ان کی معتمد تھیں۔ اس آدھ صدی پر محیط رفاقت کے ٹوٹ جانے کے غم میں آسمان سے اترتی رات اور فضا میں پھیلی آہوں‘ آنسوو¿ں‘ یادوں کے درمیان بھی اکیلا محسوس کر رہی تھیں۔
قائد اعظم چلے گئے تھے۔
ان کے مرشد نے بے رخی برتی تھی۔
 ان کے بڑے بھائی نے بہن کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
 سارے پاکستان میں آنسوو¿ں کا ریلا بہتا ہوا نہ جانے خوف کے کون سے ریگستان کو سیراب کر رہا تھا۔ گورنر ہاو¿س کی فضا سسکیوں‘ دبی گھٹی چیخوں‘ درود اور دعاو¿ں سے بوجھل۔ لوگوں کے سروں کے اوپر تنی ہوئی ساکت ہوگئی تھی۔ سمندر سے نم ہوائیں قائد کے وجود کے گرد ماتمی رقص کر رہی تھیں۔اور محترمہ فاطمہ جناح کا دکھ سے بوجھل دل ان کے پہلو میں دھڑکنا بھول گیا تھا۔ وہ نڈھال تھیں۔ گزری زندگی کی یادیں آنسوو¿ں کا لبادہ اوڑھے ان کی دوسراتھ کے لئے ان کے گرد اکٹھا ہوگئی تھیں۔
تو قائداعظم چلے گئے۔ انہوں نے نہ جانے کتنی باراس جملے کے اندر چھپی اذیت کو اپنے سارے وجود پر طاری محسوس کیا ہوگا۔
 کروڑوں مسلمان اور پاکستانی دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ قربانیوں اور یادوں کا گہرا کڑوا دھواں ان کی آنکھوں میں ان کے دلوں میں گھس رہا تھا‘ ان کا دم گھٹ رہا تھا۔ اور وہ محترمہ فاطمہ جناح کے اکیلا رہ جانے کا غم سوا تھا ۔ وہ دو ہستیاں جو ذہنوں اور سوچوں میں اکٹھی موجود تھیں دو لخت ہوگئی تھیں۔
 قائد اعظم کے دوسر ے بہن بھائی وہاں موجود تھے۔ ان کی بند آنکھوں اور پرسکون لاغر چہر ے کو دیکھ رہے تھے۔ قائد ان کے بھائی تھے۔ اور ایک بار پھر محترمہ فاطمہ کو سہارے کی ضرورت تھی۔ اوروہ سب ان دو بہن بھائیوں سے اندھیرے اور فاصلے پر کھڑے تھے۔ لیکن محترمہ فاطمہ جناح اب اس تمام روشنی کی چکا چوند میںکھڑی تھیں جو جدوجہد کے کروڑوں لمحوں کے بطن سے پھوٹتی انہیں منور کر رہی تھی۔ وہ جو سیاہ ماتمی لباس پہنے لاکھوں لوگوں کے ہجو م میں اس بھائی کو الوداع کہہ رہی تھیں۔ جو کبھی ان کی ذات اور سوچوں کا حصہ تھا۔
 قائد اعظم زندہ باد‘ پاکستان زندہ باد۔ محترمہ فاطمہ جناح زندہ باد۔ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الا اللہ.... اور وہ رات گورنر جنرل ہاو¿س کی دیواروں سے لگی آنسو بہارہی تھی۔ اور ہوائیں ماتمی لباس پہنے بین ڈال رہی تھیں۔ اور ایک زندہ و پائندہ شخص منزل مراد کی طرف مستقبل کے لمحوں میںمحو سفر تھا۔ وہ جو بھائی کے غم میں سیاہ پوش تھی۔ جو قوم کے غم میں سیاہ پوش تھی۔ وہ جہاں بھی تھیں ان کی تھی۔ وہ ہستی جو مقدس و محترم تھی۔
 محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی کا ایک اور سفر شروع ہو چکا تھا۔ اور اس راہ پر انہیں اکیلے ہی پرچم تھام کر چلنا تھا۔