عام ڈاکٹرز کیلئے ذہنی مریض کی تشخیص ناممکن ہے

عام ڈاکٹرز کیلئے ذہنی مریض کی تشخیص ناممکن ہے

 ماہر امراض نفسیات پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر سعید خان ان دنوں سروسز ہسپتال کے شعبہ امراض نفسیات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا’’ میں نے1988ء میں علامہ اقبال میڈیکل کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد امراض نفسیات میں سپلائزیشن کی ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابقجسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ اگر ذہنی صحت بھی ہو تب ہی آپ مکمل صحت مند کہلا سکتے ہیں۔ ذہنی صحت ، صحت کاایک اہم حصہ شمار ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں جسمانی بیماری کے علاج کے لئے مریض ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں مگر عام ڈاکٹرز کو مریض کے ذہنی مرض میں مبتلا ہونے کا پتہ نہیں چلتا اس لیے ذہنی مرض کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ دن بدن ذہنی امراض کا شکار ہوتا چلا جا تا ہے۔ ہمارے یہاںجن لوگوں کو ذہنی امراض ہوتے ہیں وہ پیروں، فقیروں، مزاروں پر جاکر پناہ لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید دین سے دوری کی وجہ سے ان کی ایسی ذہنی کیفیت ہوگئی ہے۔ مجھے اس شعبے سے منسلک ہوئے تقریبا25 سال ہو چکے ہیں۔ میں پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی کا بلا مقا بلہ صدر منتخب ہوا ہوں۔ اس پلیٹ فارم سے ذہنی امراض کی آگاہی کے لئے کام کرتا ہوں‘‘۔
٭ ذہنی بیماریاں کون کون سی ہوتی ہیں؟
 پروفیسرڈاکٹر ناصر: انٹرنیشنل درجہ بندی کے حساب سے ایک ہزار سے زائدہ نفسیاتی مسائل اور بیماریاں عام لوگوں میں موجود ہیں اور ان میں کچھ بہت زیادہ شدید نوعیت کی ہیں جوپاگل پن کے زمرے میںآتی ہیں جبکہ زیادہ تر نفسیاتی بیماریاں عام ہوتی ہیں۔ اس میں اپنے طور پر سوچنے، سمجھنے اور جذبات کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہیں دوسروں کو وہ مریض بظاہر ٹھیک دکھائی دیتے ہیں۔ پاگل پن کے مریض میں شور مچانا، توڑ پھوڑ کرنا، چیخنا جھگڑا کرنا اور کپڑے اتار دینے وغیرہ کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔ ان علامات کے مریضBipolar Disorder کی بیماری میںمبتلا ہوتے ہیں۔ شدید ذہنی بیماریSchizophrenia کے مریض کا دماغ نارمل سے ہٹ جاتا ہے۔ وہ مریض ہمارے پاس فوراً آجاتے ہیں۔Schizophrenia  اورBipolar Disorderکی بیماری سو میں سے ایک شخص کو ہوتی ہے جو کافی بڑا نمبر ہے۔ ہمارے ملک کی آبادی 18 کروڑ ہے اس میں ایک فیصد کے لحاظ سے18 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ ڈپریشن بھی ذہنی بیماری ہے۔ لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ ڈپریشن کے مریض ہیں۔ دماغ کی خاص کیمیکل رطوبتیں جن کو نیورو ٹرانسمیٹر کہتے ہیں ان میں خرابی کی وجہ سے ڈپریشن کی بیماری ہوتی ہے۔ نیورو ٹرانسمیٹر کی خرابی کی وجہ سے انسان مایوسی، بے یقینی کی کیفیت، خودکشی کے رجحانات ، جسمانی طور پر مختلف تکالیف کا محسوس ہونا، سر میں درد رہنا، جسم کا دکھنا، تھکاوٹ کا احساس، کسی خوشی کا احساس نہ ہونا، ہر وقت سُستی اور کاہلی کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کام پر جانے کو دل نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ ڈپریشن ہے ۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو مریض کے تین سے پانچ سال ضائع ہو جاتے ہیں۔ زندگی معذوری ایڈجسٹ ہو جاتی ہے۔ ہماری یہاں ڈپریشن تقریباً 17 سے46 فیصد عام فہم لوگوں میں موجود ہوتا ہے، لوگوں میں خودکشی کے رجحانات بڑھتے ہیں۔ ڈپریشن کے علاج سے آپ نارمل ہو جاتے ہیں اور آ پکی زندگی بہتر ہو جاتی ہے۔
٭ ڈپریشن کے علاوہ کونسی بیماری زندگی کے مامول کو متاثر کرتی ہے؟
 ڈاکٹرناصر: ڈپریشن کے علاوہ وہم کی بیماری تنگ کرتی ہے۔ آپ کہ ذہن میں مختلف قسم کے خدشات اور وہم پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ بیماری ہے جو انسان کو ایک کریٹیکل سٹیج پر لے جاتی ہے۔ دنیا کے تیز ترین کمپیوٹر سے بھی ہزار گنا تیز ہمارا دماغ ہے۔ دماغ میں ایک بلین خلیے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ان خلیوں کے درمیان الیکٹریکل اور کیمیکل ٹرانسمیشن ہوتی ہے ۔جب ان خلیوں کے درمیان ٹرانسمیشن کی خرابی ہوتی ہے تو کہیں نہ کہیں اس کا اثر آپ کے جسم پر ہوتا ہے جو علامات کے وجہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ دل کی دھڑکن، انتڑیوں، جسمانی ٹمپریچر، بینائی، سننے کی حس اور محسوس نے کی صلاحیت کا سارا سسٹم دماغ سے کنٹرول ہو رہا ہے۔ جب آپ کے پیٹ میں درد، تیزابیت ہوتی ہے تو آپ اس کا علاج کرالیتے ہیں لیکن اگر آپ کی کوئی حس خراب ہو جائے۔ مثلا آپ کی کسی چیز کو محسوس کرنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہوتو اس پر اتنی توجہ نہیں دیتے ہیں جبکہ وہ دماغ میں کسی قسم کی خرابی سے منسلک ہوتا ہے۔
٭ بے چینی(Anxiety) بھی بیماری ہے؟
ڈاکٹر ناصر: بے چینی ایک عام سی بیماری ہے اس میں انسان بہت زیادہ پریشان ہوتا ہے۔ اس میں دل کی دھڑکن تیز ، گھبراہٹ ، پٹھوں میں کھچائو اور معدہ میں خرابی کی علامات پائی جاتی ہیں۔ عام ڈاکٹر معدے کی اور دل کی دھڑکن نارمل کرنے کی دوائی دے دیتا ہے۔ مگردوائی کھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو ماہر نفسیات سے رجوع کر نا چاہیے۔Anxiety میں قبض، لوزموشن، پیٹ میں دور ہونا نارمل بات ہے۔ بے شمارا یسے مریض جو سالوں سے اپنے معدے کا علاج کراتے ہیں اور ان کے معدے کے تمام ٹیسٹ بھی نارمل آتے ہیں پھر بھی ان کا معدہ خراب رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خرابی مریض کے دماغی سسٹم میں ہے۔
٭ عام ذہنی بیماریاں کونسی ہیں؟
ڈاکٹر ناصر: آجکل بہت عام ذہنی بیماری کی وجہ خود سے ہی ادویات کے استعمال اورمنشیات کے نشے کا عادی ہوجانا ہے۔ انسان کے دماغ کے اندر کچھ بھی پرابلم ہونے سے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
٭ غصہ آنا تو ایک فطری عمل ہے کیا یہ بھی نفسیاتی مرض ہے؟
ڈاکٹر ناصر: غصہ کی علامت بے شمار نفسیاتی بیماریوں وجہ سے ہوسکتی ہے۔ شدید SchizophreniaاورBipolar Disorder، فرسٹ ٹریشن، بے چینی، شخصیت میں اتار چڑھائو اور سوشل مسائل کی وجہ سے غصہ آتا ہے۔ غصہ آنا نارمل چیز نہیں ہے۔ غصہ کا اظہار نہ کر بھی ایکAbnormality ہے۔
٭ ایک نارمل آدمی کا غصے کا اظہار کیسا ہونا چاہئے؟
ڈاکٹر ناصر: جس انسان کی وجہ سے غصہ آئے اس سے نرم لہجے میں بات کریں کہ جو ہوا وہ غلط ہے۔ یعنی غصے کا اظہار اس لہجے میں کریںکہ آپ کا غصہ اتر جائے اوراگلے کو بات سمجھ میں آجائے لیکن نقصان کوئی نہ ہو۔لیکن جو لوگ اپنے غصے کا اظہار ابنارمل طریقے سے کرتے ہیں مثلاً ڈانٹنا ، چیخنا چلانا، مارنا پیٹنا، چیزیں توڑ دینا وغیرہ ان میں یقینی طور پر کوئی نہ کوئی ذہنی امراض چل رہے ہوتے ہیں۔
٭ شکی مزاج ہونا بھی نفسیاتی بیماری ہے؟
ڈاکٹر ناصر: جی ہاں مگر شکی مزاج انسان اپنے علاج کے لئے نہیں آتا۔ پاکستان میں طلاق کی شرح میں اضافہ کی وجہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کا ابنارمل رویہ اورسوچ ہے۔ شدید ذہنی تنائو کی وجہ سے خواتین میں ڈپریشن کی بیماری عام ہے۔
٭ بچوں میں بھی ذہنی امراض پائے جاتے ہیں؟
ڈاکٹر ناصر: بدقسمتی سے بچوں میں بھی بے شمار ذ ہنی امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ تعلیم میںمقابلہ ہونے سے داخلے میں مشکل ہوتی ہے۔ فیوچر کیرئیر Compromisedہوتا ہے۔ تعلیم ہر ایک کو نہیں ملتی۔ سکولوں کا ماحول اثر انداز ہوتا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچوں اور بزرگوں میں ذہنی امراض بڑھ رہے ہیں۔ بچوں میںAgration  بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی کے زیر اہتمام سہہ روزہ کانفرنس منعقد کی گئی اس میں12غیر ملکیچائلڈ سائیکاٹرسٹ نے شرکت کی۔ پاکستان میں چائلڈ سائیکاٹری ڈویلپ نہیں ہے۔ ایک کروڑ کی آبادی میں صرف ایک چائلڈ سائیکاٹرسٹ ہے ۔ صوبہ خیبر پی کے بچے ڈرون حملوں اور دہشتگردی کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہورہے ہیں ۔ بد قسمتی سے ہمارے یہاں موب سائیکا لوجی بہت عام ہوتی جا رہی ہے۔
٭ آپ کے خیال میں کتنے فیصد لوگ ذہنی امراض کا شکار ہے؟
ڈاکٹر ناصر: Schizophreniaکے مریض ایک فیصد ، اوسی ٹی کے2.23 فیصد ، پاگل پن کے مریض ایک سے دو فیصد ، ڈپریشن کا شکار 15فیصد اور فوبیاکے مریض 45فیصدہیں۔ اسی طرحBipolar Disorder اورAnxiety کے مریض2سے3 فیصدہیں۔who کے مطابق صرف20سے30 فیصد لوگ باقاعدگی سے علاج کراتے ہیں۔
٭کوئی ایسا ذہنی مریض جو لا علاج ہو؟
ڈاکٹر ناصر: صرفMental retardation  کے بچوں کا علاج نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ ان بچوں کے ذہین کی نشوونما رک جاتی ہے۔
٭: پاکستان سائیکالوجی سوسائٹی کے چیئرمین ہونے کے ناطے آپ اپنے شعبہ میں کیا اصلاحات چاہتے ہیں
ڈاکٹر ناصر: سب سے پہلے یہ کہ ذہنی مریض کو سوسائٹی میں اچھی نگاہ سے دیکھا جائے۔ ہمارے ہاں ذہنی مریضوں سے غیر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس رویئے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں سائیکا ٹرسٹ دور سائیکالوجسٹ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مریضوں کو موثر علاج فراہم کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ چائلڈ سائیکاٹری، فرنزک سائیکاٹری دور منشاریات کا استعمال اور دیگر شعبوں میں خصوصی کام کی ضرورت ہے۔