ظالم شیر چالاک شکاری

کسی جنگل میں ایک ظالم شیراپنی رعایا پر بہت ظلم کرتا تھا۔ سارے جانور اس کے ظلم و ستم سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن کسی جانور میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ جنگل میں ایک بلا بھی رہتا تھا وہ بھی سب جانوروں کی طرح اپنے بادشاہ سے بہت تنگ تھا لیکن اس میں بھی کچھ کر دکھانے کی ہمت نہیں تھی۔ ایک دن بلے نے سوچا کیوں نہ میں شہر جا کر اپنے دوست بندر سے مدد کی درخواست کروں۔ چنانچہ وہ شہر روانہ ہوگیا۔
اس کا دوست بندر، ایک شکاری کے ساتھ رہتا تھا۔ ایک بار شکاری جنگل میں شکار کے لئے آیا تو بندر کو اپنے ساتھ ہی لے گیا۔دونوں ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ بلے نے ظالم شیر کی داستان اپنے دوست بندر کو سنائی اور اس سے مدد کی درخواست کی۔ بندر نے کہا شکاری کو آجانے دو میں اس سے بات کروں گا۔ جب شکاری آیا تو بندر نے سارا واقعہ اسے سنایا۔ شکاری بلے کی مدد کے لئے تیار ہو گیا۔ چونکہ شیر ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ رہتا تھا لہٰذا اسے اکیلئے بلانے کے لئے منصوبہ بنایا گیا۔ تینوں دوسرے دن جنگل پہنچ گئے۔ منصوبہ کے مطابق بندر شیر کے پاس گیا اور اسے دیکھ کرسیٹی بجائی۔ شیر کو بندر کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا۔ وہ اپنے سپاہیوں کو وہیں رکنے کاحکم دیکر بندر کے پیچھے بھاگا لیکن بندر پھُدکتا ہوا درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوگیا۔ درخت کے پیچھے سے بلا نکل کر آیا اور شیر کو للکار کر کہا، آﺅ مجھ سے مقابلہ کرو۔ شیر غصے میں دھاڑا اور بولا تم اتنے سے ہو۔ میں تمہیں ایک ہی وار میں ختم کردوں گا۔ بلے نے جواب دیا۔ کبھی میں بھی تمہارے جتنا بڑا ہوتا تھا۔شیر بہت حیران ہوا اور یہ انسان کیا چیز ہوتی ہے بلا شیر کو شکاری کے پاس لے گیا۔ شیر نے شکاری کو دیکھا تو غصے سے بولا! اے انسان تو مجھ سے مقابلہ کر، شکاری بولا، مجھے بہت ضروری کام ہے۔ میں واپس آکر تمہارا مقابلہ کروں گا۔ ویسے مجھے تم پر بھروسہ نہیں تم بہت ڈرپوک ہو۔ شیر کو شدید غصہ آیا اور چلا کر بولا۔ میں ڈر پوک نہیں ہوں۔ شکاری نے اسے فوراً رسیوں کے ساتھ باندھ دیا ، شیر بالکل نڈھال ہوگیا تو بلے سے پوچھنے لگا اگرمیں تمہارے جتنا ہو جاﺅںگا تو کیا یہ انسان مجھے چھوڑ دے گا؟ بلے نے کہا نہیں! یہ تمہیں اسوقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک تم یہ وعدہ نہ کر لو کہ تم کبھی کسی جانور پر ظلم نہیں کروگے۔ پیارے بچو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتے اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں فرما تے۔
(محمد علیم نظامی)