سرکاری وغیر سرکاری سکولوں میں بچوں کی سالانہ تقریبات

سرکاری وغیر سرکاری سکولوں میں بچوں کی سالانہ تقریبات

سکولوں میں بچوں کے مینا بازار سج گئے،مختلف قسم کے سٹالوں پر بچوں کا جم غفیر،بچے خریداری میں مصروف ہیں،کہیں سپورٹس ڈے منایا جا رہا ہے،ان کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہیں،اس خوشی کے موقع پر ننھے منے دوست یونیفارم نہیں بلکہ رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کئے ہوئے ہیں ،ہر کوئی ایک دوسرے سے مبارکباد وصول کررہا ہے،آج ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ، انہیں آج پورے سال کی کارکردگی کا صلہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے کی صورت میں مل چکا ہے،سالانہ امتحانوں سے فارغ ہونے کے بعد ہر طالب علم اس انتظار میں ہوتا ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے ان امتحانوں کا نتیجہ نکل آئے۔ جوں جوں رزلٹ کا دن قریب آتا ہے طالب علموں کی بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔بے شک ان کو یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون سی پوزیشن آئے گی؟اس کے باوجودان کی بے چینی کاعالم بڑھتاجاتا ہے۔آخرکار وہ دن بھی آن پہنچتا ہے جب پورے سال کی کارکردگی کا صلہ ان کو نمایاں یا اعلیٰ پوزیشن کی صورت میں ملناہوتا ہے۔ہرکلاس میں چند بچے ہی نمایاںٰ پوزیشن حاصل کرپا تے ہیں ۔ لائق بچوں کی ایک ایک نمبر سے پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے۔سکولوں میں سالانہ نتائج کے روز ہال کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، بچوں کے ہمراہ توان کے والدین بھی ہوتے ہیں ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف ہوتا ہے یہ وہ لمحہ ہے جب طالب علموں کا دل دھک دھک کررہا ہوتا ہے جونہی ہیڈماسٹر ،پرنسپل یا رزلٹ اناو ئنسر سٹیج پر اس کا اعلان کرنے لگتا ہے تو پورے ہال میں سناٹے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے طالب علموں کا ایک ایک لمحہ ایک ایک گھنٹے کے برابر ہوتا ہے اس خوشی کے موقع پر جب اول، دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والوں کے نام پکارے جاتے ہیں تو پورا ہال تالیوں سے گونج اُٹھتا ہے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا یہ ذہین ،ہو نہار اور صلا حیتوں سے مالا مال طلبہ و طالبات تالیوں کی گونج میں سٹیج پر اپنے اپنے انعام وصول کرنے جاتے ہیں۔ گھر پہنچ کر والدین عزیز و اقارب اور دوستوں سے مبارکباد وصول کرتے ہیں بلکہ ان سے بھی انعامات وصول کرتے ہیں۔کوئی سیر و تفریح کا پروگرام بناتا ہے تو کوئی اپنے کزنز کے گھر جانے کو ترجیح دیتا ہے چند یوم کی چھٹیوں کے بعد نئی کلاسوں کا آغاز ہونے سے قبل سالانہ تقریبات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سرکاری و غیرسرکاری سکولوں میں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ کہیں سپورٹس ڈے منایا جاتا ہے تو کہیں مینا بازار سجتے ہیں کہیں مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں تو کوئی تقریری مقابلے میں حصہ لینا پسند کرتا ہے۔ یہاں بھی اول دوئم اور سوئم آنے والوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ ذہین، ہونہار اور لائق طالب علموں کو ہرکوئی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
تعلیم اور تفریح ساتھ ساتھ ہو تو پڑھنے اور کھیلنے کا لطف بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔ تند ر ست اور چاک و چوبند رہنے کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصّہ لینا ضروی ہے اس سے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما بھی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ سکولوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں۔ ہر وقت کھیلتے رہنا یا ہر وقت پڑھتے رہنا بھی صحت کے لیے اچھانہیں۔تعلیم اور تفریح ساتھ ساتھ ہو تو دونوں میں دلچسپی رہتی ہے ماہرین کے مطابق فارغ اوقات میں ایسا کھیل کھیلنا چاہیے جس سے جسمانی ورزش ہو۔
کئی طالب علموں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے محنت بھی خوب کی اور کوئی پوزیشن بھی نہ حاصل کرسکے جوکہ درست نہیں۔ انسان جو بیجتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ بے شک ایسے طالب علموں نے خوب محنت کی ہوگی لیکن کمرہ امتحان کا خوف ان کے سر پر سوار رہتا ہے،کئی طالب علم ایسے بھی ہیں جو پڑھائی میں لائق ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی کمرہ امتحان میں جاتے ہیں تومارے خوف کے ان کے ذہن سے سب کچھ نکل جاتا ہے ۔کمرہ امتحان سے خوف کیسا؟آپ بڑے اطمینان سے سوالیہ پرچے کو چیک کریں اور آنسر شیٹ پر جوابات لکھیں خوف تو انہیں ہوتا ہے جو نقل یا بوٹی کا سہارا لیتے ہیں، جنہوں نے ایسا کام نہیں کرنا انہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ؟یہ بھی درست ہے کہ ضرورت سے زیادہ شرارتی اور بڑوں کا ادب نہ کرنے والے طالب علموں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے اگر وہ اپنے کسی دوست سے ایسی شرارت کرتے ہیں جو شرارت کے زمرے میں نہیں بلکہ دل شکنی کے زمرے میں آتی ہے ان طالب علموں سے کوئی نہ کوئی غلطی سرزدضرور ہوئی ہوتی ہے(اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں)اردگرد نگاہ دوڑانے سے آپ کو ایسے دو ست یا کلاس فیلوز نظر آئیں گے جو کہ کلاس روم میں اساتذہ کے سوالوں کا جواب فرفر دیتے ہیں لیکن اُن کے اتنے اچھے مارکس نہیں آتے۔ایسے طالب علم اگراپنے آپ کا جائزہ لیں اور یہ سوچیں کہ کہیں ان کے منہ سے ایسے الفاظ تو نہیں نکل گئے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں،جس سے دوسروں کی دل شکنی ہوئی ہو یا اُنہوں نے اپنے بڑے بزرگوں کی نافرمانی تو نہیں کی یقیناً کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوتی ہے جس وجہ سے ان کو یہ دن دیکھنا پڑتا ہے۔
ننھے منے دوستو! بڑے بزرگوں کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔آپ بڑوںکی عزت کریں گے ان کا احترام کریں گے تو یقیناً ان کے منہ سے دُعا ہی نکلے گی وہ آپ کی کامیابی کے لئے دُعا گو ہوں گے ۔لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ والدین کی نافرمانی کرنا ان کا کہا نہ ماننا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔اس لیے تو کہتے ہیں کہ والدین کو اُف تک نہ کہو۔ ہر طالب علم کی کامیابی کا راز والدین کی خدمت، اساتذہ کا احترام اور بڑے بزرگوں کی دعاﺅں میں پنہاں ہیں۔تاریخ گواہ ہے جتنی بھی نامور شخصیات ہیں اُنہوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ بڑوں کا ادب کیا والدین اور اساتذہ کی نصیحتوں پر عمل کیا کیونکہ جس نے کیا اچھا کام روشن ہوا اس کا نام۔