بلتستان کی مشہور وادیاں

عارف محمود اُپل
شیگار وادی جو سکردو سے تقریباً 32 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ جیپ کے ذریعے قراقرم کی پہاڑی سلسلہ تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔ سکردو کے نزدیک ایک تاریخی قلعہ ہے جو ایک نزدیکی پہاڑی پر ہے جس کا نام مندوک ہے۔ دو خوبصورت جھیلیں ہیں جن کے نام کچورا جھیل 28کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ست پارہ جھیل 8 کلو میٹر کے فاصلے پر سکردو کے نزدیک ہیں۔
وادی چترال1127 میٹر بلند ہے۔ دنیا میں منفرد حیثیت رکھنے کی وجہ سے کوہ پیما، سیاح ، شکاری، سائنس دان اور دیگر انسانی علوم اور جغرافیائی علوم سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں کافی حد تک مشہور ہے۔وادی چترال کا علاقہ افغانستان کے ساتھ شمال جنوب اور مغرب میں اپنی سرحدیں ملائے ہوئے ہے۔ ایک تنگ پگڈنڈی (چھوٹا راستہ) افغان علاقہ کو جسے واکھان کہتے ہیں اسے روس سے علیحدہ کرتا ہے۔چترال کے علاقہ میں سب سے پُر کشش جگہ وادی کیلاش ہے۔ جسے کافر لوگوں کا گھر کہتے ہیں۔ جو کہ لمبے کالے لباس پہنتے ہیں ان کافر کیلاش لوگوں کا کوئی اپنا مذہب نہ ہے ان کے آبائو اجداد کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا اور یہ بھی ایک معمہ ہے۔ سکندر اعظم کی فوج کے کچھ لوگ چترال کے اس علاقہ میں آباد ہو گئے تھے آج کے کیلاش لوگ انہی پرانے لوگوں کی نسل میں سے ہیں۔ تقریباً5000مضبوط اور جفاکش کیلاش لوگ وادی بریر ، وادی بمبوریت اور وادی رمبور میں رہتے ہیں وادی بمبوریت جو چترال سے 40کلو میٹر کے فاصلے پر ہے کافر کیلاش علاقہ کی پر کشش اور قدرتی مناظر سے بھرپور جگہ ہے۔اس جگہ پر جیپ کے ذریعہ پہنچا جا سکتا ہے وادی بریر 34 کلومیٹر پر ہے اور یہاں بھی بذریعہ جیپ ؛جایا جا سکتا ہے۔ رمبور چترال سے32کلو میٹر پر ہے۔ چترال سے جیپ پر ایون تک جا سکتے ہیں اور فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔کیلاش عورتیں موسم گرما میں کالے رنگ کے کھردرے کپڑے پہنتی ہیں اورخاص قسم کی ٹوپی سر پر رکھتی ہیں جو مختلف قسم کے ٹبنوں ، سمندری سپیوں سے سجائی گئی ہوتی ہیں۔چترال میں بھی پولو مشہور ہے ۔مچھلی کے شکار کا موسم اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے۔ چترال میں دریائے لت کھو بھوری ٹرائوٹ مچھلی کے لئے بہت مشہور ہے۔
سوات ایک حسین اور دلکش وادی خواب و خیال کی وادی نہ صرف اپنے فطری حسن و جمال کیلئے دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت کی حامل ہے بلکہ یہ وادی تاریخی طور پر بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
یوں تو سوات کی تاریخ بہت قدیم ہے لیکن اکثر تاریخی کتب میں اسکا باقاعدہ تذکرہ سکندر اعظم کے زمانہ سے ملتا ہے۔
وادی کاغان۔وادی کاغان جو شمال مغربی سرحدی صوبہ کے ضلع ہزارہ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس کے اونچے اونچے پہاڑ ، تیز بہائو ، جھیلیں، آبشاریں اور گلیشرز ایک جنت کا نظارہ دیتے ہیں اور یوں احساس ہوتا ہے کہ یہ پریوں کی رہائش گاہیں ہیں۔
وادی کاغان155 کلو میٹر کے علاقہ میں پھیلی ہوئی ہے اور بلندی 2133میٹر تک ہے تقریباً آخری مقام درہ بابوسر تک جا پہنچتا ہے۔ وادی کاغان کی سیر کرنے کا بہترین موسم گرمیوں میں مئی سے ستمبر کے مہینے ہیں۔ جو لائی کے وسط سے لیکر ستمبر کے آخر تک ناران سے آگے کی سڑک سیاح لوگوں کے لئے کھول دی جاتی ہے۔ یہ سڑک تمام موسم سرما میںبرف سے ڈھکی رہتی ہے۔وادی کاغان آخر میں اونچے پہاڑوں کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے۔ لیکن صرف ایک تنگ درہ کے ذریعے جیپ کا راستہ استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ 4145 میٹر اونچا درہ بابوسر ہے جو کاغان کی خوبصورتی اضافہ کرتا ہے۔ کاغان میں نانگا پربت کی وجہ سے قدرتی نظاروں کا ایک مجموعہ بن جاتا ہے۔کاغان میں مچھلی کا شکار ایک خاص کھیل ہے۔ بھوری ٹرائوٹ اور مہاشیر مچھلی کاغان اور ناران کے درمیان پانی میں پائی جاتی ہے۔ دریائے کنہار کی ٹرائوٹ مچھلی اس بر اعظم (پورے پاکستان ) کی سب سے اچھی مچھلی سمجھی جاتی ہے۔
جھیل سیف الملوک ناران کے نزدیک ہے اور حقیقتاً ایک آتش فشانی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی جو اب شفاف پانی سے بھری ہوئی ہے۔ جھیل سیف الملوک سطح سمندر سے3200 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہاں مچھلی کا شکار علی الصبح کیا جاتا ہے۔وادی کاغان پہنچنے کیلئے راولپنڈی ، اسلام آباد اور پشاور کے راستے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔