بال گرنا …اس کی وجہ موروثی کے علاوہ دماغی مسائل ہو سکتے ہیں

بال گرنا …اس کی وجہ موروثی کے علاوہ دماغی مسائل ہو سکتے ہیں

ڈاکٹر محمد صفدر چوہدری اسلام آباد  کے لیزر ہیئر ٹرانسپلانٹ اینڈ کاسمیکٹس سنٹر  میں اپنے فرائض انجام دے رہے  ہیں۔ ایک نشست میں انہوں نے بتایا’’ صحت سے متعلق شعوری مہم کی روشنی جیسے جیسے عام ہو رہی ہے ویسے ویسے لوگوں میں توہمات اور ٹوٹکوں سے  فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ ان شاء اﷲ وہ اور ان کے ہم پیشہ معالج عوام کو بالوں کی بابت صحیح، مفید اور آزمودہ مشوروں  سے مستفید کریں گے۔  ان دنوں وطن عزیز میں گنجا پن سے نجات کے لئے جدید  ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ  ہیئر ٹرانسپلانٹ کے لئے ایڈوانس ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے کئی ممالک میں پاکستان سہر فہرست ہے۔ ہماری خواہش ہے  کہ بالوں سے متعلق امور کی جانکاری کے بعد متاثرہ افراد بالوں کی پیوند کاری کرنے والے معالج سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج سے وہ ممکنہ مسائل سے نجات پا سکیں‘‘۔ گنجا پن کے بارے میں کئے گئے سوال پر ڈاکٹر صفدر چوہدری نے بتایا ’’ ایک دور تھا جب گنجا پن شخصیت کا نقص سمجھا جاتا ہے مقام شکر ہے کہ اب وطن عزیز میں بالوں کی پیوند کاری کے اچھے طبی مراکز کھل گئے ہیں جہاں ماہرین بہترین انداز سے علاج معالجے کے ذریعے عوامی خدمت کر رہے ہیں۔  گنجا پن دور کرنے کے لئے ہم متاثرہ شخص کے سر کے پچھلے حصے سے کچھ بال لیتے ہیں جن کی پیوند کاری سے سر کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ قدرتی طورپر اگلتے اور بڑھتے ہیں۔ اس آپریشن  سے مریض کو کسی قسم کی سوجن اور درد کا سامنا نہیں کرنا پڑتا‘ آپریشن کے بعد زیادہ آرام کی ضرورت بھی پش نہیں آتی‘ اﷲ کے کرم سے پیوند کاری کے نتائج بھی قابل رشک آتے ہیں۔ ہم نے ابتداء میں شعوری مہم عام کرنے کی بات کی تھی ایک وقت تھا جب گنجا پن کو چھپانے کے لئے طریقے استعمال ہوتے تھے آج لوگ شخصیت کے اس ظاہری نقص کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں‘‘۔ عام طورپر لوگ آپریشن سے کتراتے کیوں ہیں؟ اس سوال پر ماہر ہیئر ٹرانسپلانٹ نے بتایا ’’ یہ  آپریشن بغیر بے ہوشی اور بغیر درد کے ہوتا ہے جس کے بعد آپ روزانہ کے امور نارمل انداز سے انجام دے سکتے ہیں  اس خوبی کی باعث ہیئر ٹرانسپلانٹ  کاطریقہ علاج عام اور مقبول ہو رہا ہے یہ طریق علاج چار گھنٹے پر محیط ہے۔ سرجری سے قبل وزٹ کے دوران ہم متاثرہ شخص کو بال دھونے اور سکھانے کے بارے میں  بتاتے ہیں ۔مناسب راہنمائی ملے تو بالوں کی افزائش کے مثبت  نتائج نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں‘‘۔ گنجا پن  موروثی بھی ہوتا ہے؟ اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بہت کم موروثی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ ہر وہ شخص جو بال گرنے سے پریشان ہے۔ اس کی کیفیات اور وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں‘ کچھ خاندانی مرض ہوتے ہیں ان کے علاوہ ڈپریشن ‘ دماغی مسئلہ ‘ خوراک کی کمی‘ غیر صحت مندانہ ماحول وغیرہ، بالکل اسی طرح  بال گرنے کی وجوہ بھی مختلف ہیں‘ بال گرنے کا جیسے ہی پتہ چلے تو ٹوٹکے کی بجائے ماہر ہیئر پیوندکاری سے رجوع کر لینا چاہیے کیونکہ 20 سے  30 سال کی عمر میں بال گرنے کی شکایت کا بڑی حد تک  علاج ممکن ہے ‘  ٹنڈ کرالینا‘سر پر لیپ کرنا اور مختلف آئل سے سر کی مالش کرنا وقت اور پیسے کا ضیاع ہے ۔یادر رکھیں جو دوا ایک مریض  کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے وہ دوا دوسرے کو فائدہ نہیں دے سکتی۔ اسی طرح دوسرے کی تجویز کردہ دوا شربت اور آئل آپ کو کیا فائدہ دے گا؟ بغیر تشخص کے دوا اور علاج خطرناک ہے جس سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان بھی ہوسکتا ہے‘‘۔
کچھ خواتین بھی بال گرنے  سے پریشان ہیں اس سوال پر  انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مرض ہے جسے ALOPECIA- AREATA کہا جاتا ہے اس  کی وجہ سے سر کے درمیانی جگہ سے کمزور بال گرنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات  سر کی جلد نظر آنے لگتی ہے اگر بال گرنے کے فوراً معالج سے رجوع کر لیا جائے تو بروقت علاج سے بہتری آسکتی ہے‘‘۔