اے مالک! تیری رحمت کی کوئی حد نہیں

ایک دن حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ آپ کی رحمت کی حد کیا ہے اور انسان کے گناہ کی حد کیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰؑ پیچھے مڑ کر دیکھ! آپ نے دیکھا تو بہت بڑا سمندر نظر آیا اور اس سمندر کی تہہ میں اک چڑیا درخت کے اوپر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے منہ میں تھوڑی سی مٹی تھی۔ حضرت موسیٰؑ نے حیران ہو کر پوچھا کہ یااللہ یہ کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سمندر جو تم دیکھ رہے ہو یہ میری رحمت ہے اور دنیا درخت جبکہ چڑیا انسان ہے اور جو اس کے منہ میں مٹی ہے اور یہ مٹی اس کے گناہ ہیں۔ اگر وہ یہ مٹی سمندر میں گرا بھی دے تو بھی میری رحمت میں کوئی فرق نہیں پڑتاتو حضرت موسیٰؑ بے اختیار پکار اٹھے واقعی اے مالک! تیری رحمت کی کوئی حد نہیں
(ثمرہ ایوب گوجرانوالہ)