امراض قلب اور گردے کے مریضوں میں اضافہ

امراض قلب اور گردے کے مریضوں میں اضافہ

 امراض قلب اورگردوں کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، اب تو نوجوانوں میں بھی یہ امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔یوں توجسم کا ہر اعضا انمول ہے لیکن ہارٹ اور کڈنی(گردے ) بڑی اہمیت کے  حامل ہیں۔  دل اور گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کی   زیادہ تر وجہ مریض کا شوگر  کے مرض میں مبتلا ہو نا ہوتا ہے ہارٹ اٹیک میں دل انسان کو اتنی مہلت نہیں دیتا کہ وہ ہسپتال تک پہنچ جائے۔ یہی حال گردوں کا ہے اگر ان کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تویہ آہستہ آہستہ  کام کرنا بند کر دیتے ہیں  بعد ازاں نوبت ڈائیلیسس  تک جا پہنچتی ہے جو کہ بڑا مہنگا اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں ایجادات میں اضافہ ہواوہاں بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتے ہوئے امراض کے پیش نظر ہر کسی کوہر چھ ماہ بعد اپنا مکمل  طبی چیک اپ کرواناضروری ہوگیا ہے۔ ہرسال  صحت کا عالمی دن  منایا جا تاہے اس موقع پر فری میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں۔
گذشتہ برس نرسوںکے عالمی دن کے موقع پر فاروق ہسپتال کے زیر اہتمام ایک پُر وقار تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں اختر سعید ٹرسٹ ہسپتال، فاروق ہسپتال ویسٹ وڈ کالونی، علامہ اقبال ٹائون اور اختر سعید نرسنگ سکول سے  نرسنگ سٹاف  کی بڑی تعداد  نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر نرسز کے کام کی حوصلہ افزائی کی گئی اور ان میں تعریفی اسناد اور انعامات بھی تقسیم کئے گئے تھے۔12 مارچ کڈنی کا عالمی دن ہے گذشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی اختر سعید ہسپتال اور فاروق ہسپتال کے زیر اہتمام سیمینار اور تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پرگردوں کے نہ صرف فری ٹیسٹ  کئے جائیں گے  بلکہ عوام کو گردوں کے بارے میں ضروری لیکچر بھی دیاجائے گا اور اس بیماری سے آگاہ کیاجائے گااس بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر بھی بتائی  جائیں گی۔
 دکھی انسانیت کی خدمت اور عوام کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنا، سرکاری و غیر سرکاری ہسپتال اور ڈاکٹروں کی اہم ذمہ داری ہے۔اس میں کوئی شک نہیںکہحکومت پنجاب  اپنی طرف سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھر پورکوشش کر رہی ہے لیکن  میڈیکل کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں  کا  ان سہولیات  کو مریضوں  تک پہنچانے  کا ذریعہ  بنانا بھی ضروری ہے۔ عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں صوبے میں تمام ہسپتالوں کو جدید آلات سے آراستہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے قومی وسائل پر زیادہ حق غریبوں کا ہے تا کہ معاشرے کے کمزور طبقات میں احساس محرومی پیدا نہ ہووہ بھی تندرست اور توانا زندگی گزار سکیں۔اس سلسلہ میں صحت کے میدانوں میں مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہر ہسپتال میں فری ڈائیلیسس کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو صحت کی سہولیات مہیاکرنے میں سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے میڈیکل کے شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی انسانی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیں اورمریضوں کواولین ترجیح دیں۔انسانیت کی خدمت ایک عظیم جذبہ ہے ایسے لوگوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے میڈیکل کے شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین مواقع دیئے گئے ہیں وہ دکھی انسانیت کی خدمت کر کے اپنی آخرت  سنوار سکتے ہیں۔
 صحت کے شعبہ میں سرکاری سطح پر کام ہو رہا ہے،صوبائی دار الحکومت میں سٹیٹ آف دی آرٹ کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا  منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے لئے با اختیار بورڈ آف گورنر تشکیل دے دیا گیا ہے منصوبہ کی تکمیل سے گردے اور جگر کے امراض کے حوالے سے جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ انسٹی ٹیوٹ کے لئے 50 ایکڑ قطعہ اراضی مختص کر کے حد بندی کر دی گئی ہے انسٹی ٹیوٹ میں نرسنگ سکول اور ریسرچ سینٹر بھی بنے گا۔
پنجاب حکومت صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے  عوام کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں صحت عامہ کی معیاری اور جدید طبی سہولتوں کی فراہمی پر اربوں روپے صرف کئے جا رہے ہیں کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کا منصوبہ صحت عامہ کے شعبہ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا انسٹی ٹیوٹ میں بننے والا ہسپتال 750 بستروں پر مشتمل ہوگا انسٹی ٹیوٹ کے انتطامی معاملات کے لئے خود مختار بورڈ آف گورنر تشکیل دیا گیا ہے نالج پارک لاہور میں قائم ہونے والے پاکستان کے پہلے سٹیٹ آف دی آرٹ کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ اینڈ ریسرچ سینٹر میں غریب اور نادار مریضوں کا علاج مفت ہوگا۔ اس انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر سے مریضوں کو ایک چھت تلے جدید ترین طبی سہولیں میسر آئیں گی۔ وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کی جلد سے جلد تکمیل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے لیکن  اس کے لئے قومی جذبے اور محنت سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف گورنرز کے صدر ڈاکٹر سعید اختراس منصوبہ کو معیار کے ساتھ تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔ڈاکٹری کے اس مقدس پیشے میں ہرکسی کو اپنا کام دیانتداری سے سر انجام دینا چاہئے۔