چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ۔۔۔ الوداع

صلا ح الدین خان ۔۔۔       
 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پاکستان کی تاریخ ساز شخصیت  11دسمبر 2013کو ریٹائرہورہے ہیں ان کی شخصیت نے جوڈیشری میں ایک انقلابی کردار اداکرکے صحیح معنوں میں ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں جن کی کوششوں سے پاکستان کی عوام کو یہ احساس ہونے لگا کہ ملک میں ابھی انصاف باقی ہے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ اس تک بھی قانون کے ہاتھ پہنچ کر اسے کیفر کردار تک پہنچاسکتے ہیںچیف جسٹس کے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت ’’سوموٹوایکشن‘‘  کے اختیار پر تنقید کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی وجہ سے عوام کو بڑی حد تک انصاف ملا اسی انصاف کی فراہمی کے لئے پہلی بار سپریم کورٹ میں ’ ہومن رائٹس سیل‘ قائم ہوقومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی بنی،سابقہ ادوار میں جوڈیشری کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے کی روایت کو ختم کرتے ہوئے  ایک طرف توچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مظبوط آئینی بنیادوں پرعدالتی نظام قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوے کسی بھی قسم کے دبائو کو یکسر مسترد کردیا جبکہ دوسر ی طرف  صرف آئین و قانون اور انصاف کے اصولوں کومدنظر رکھتے ہوئے تاریخ ساز عدالتی فیصلے کیئے یہاں تک کے وقت کے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا جبکہ سوئس مقدمات میں صدر زرداری استثنیٰ کے باعث عدالت میں پیش ہونے سے بچتے رہے اس وقت کے دوسرے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف  ترقیاتی فنڈز کے غیر قانونی استعمال اوررینٹل پاور کیس میں ملزم قرار پائے ۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں سے متعلق عبوری حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے  حکومت نے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے خصوصی بنچ تشکیل دے دیا ۔چیف جسٹس نے عدلیہ کے وقار کو بلند کرنے اور ملک میں فوری اور سستے انصاف کی فراہمی آئین کی بالادستی کے قیام میں ایک ’’رول ماڈل‘‘  کردار ادا کیاجسے پاکستان کے علاوہ بین الا قوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ کے جواں ترین اور لمباعرصہ تک رہنے والے  چیف جسٹس ہیں انہیں بہت سے نشیب و فراز اور مشکل مراحل سے گزرنا پڑا ،30 جولائی 2005کو اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے انہیں چیف جسٹس آف پاکستان تعنیات کیاجبکہ 9مارچ 2007کو پرویز مشرف نے انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لئے کہا جسے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مسترد کردیا جس پرپرویز مشرف نے انہیں آرمی ہائوس بلایا پانچ ساتھی جرنیل اور خفیہ اداروں کے سربراہان نے ان پر دبائو ڈالا کہ وہ استعفیٰ دے دیں مگر افتخار چوہدری اس بات سے مسلسل انکار کرتے رہے جس پر پرویز مشرف نے سپریم جوڈیشل کونسل میں افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کرتے ہوئے ان پر کرپشن ،حکم عدالی عدم تعاون،اختیارات کا ناجائز استعمال ایسے الزامات لگا کر ریفرنس دائر کردیا ۔افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل کونسل پربداعتمادی کا اظہار کرتے ہوے پیش ہونے سے انکار کردیا اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف درخواست دائر کردی ۔درخواست کی سماعت جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں قائم 13رکنی فل کورٹ نے کرتے ہوے پرویز مشرف کے الزامات اور اقدامات کو بے بنیاد قرار دیا چیف جسٹس کی وکالت بلا معاوضہ پانچ رکنی وکلاء کے پینل نے کی ان میں چوہدری اعتزاز احسن،حامد خان،منیر اے ملک،علی احمد کرداور چوہدری طارق محمود شامل تھے پرویز مشرف وردی میں صدر منتخب ہونا چاہتے تھے ان کی خواہش تھی کہ اعلی عدالت بھی ان کے اس اقدام کی ثوثیق کردے معاملے سے متعلق جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی سپریم کورٹ کابینچ مذکورہ معاملے پر کیس کی سماعت کررہا تھا ، پرویز مشرف کوخدشہ تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف آئے گا دوسری جانب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے سے استعفی نہیں دے رہے  تھے ان سارے حالا ت کو دیکھتے ہوئے پرویز مشرف نے 3نومبر 2007کو ملک میں ایمرجنسی لگا کر چیف جسٹس سیمت 60ججز کو معطل کرتے ہوئے ان کو اپنے میں گھر میں فیملی سمیت نظر بند کردیا جبکہ عبد الحمید ڈوگر کو چیف جسٹس آف پاکستان تعینات کردیا ،نئے چیف جسٹس سمیت دیگر ججنر نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ، گھروں میں نظر بند 60ججنر کوہراساں کیا  گیا ان کی بجلی پانی کے کنکشن کاٹ دیئے گئے ، مواصلاتی روابط منقطع کردیئے گے بچوں کو سکول جانے سے روک دیا گیا انہی حالات میں افتخار محمد چوہدری نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات اور سپریم جوڈیشل کونسل میں مشرف کے ریفرنس کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جبکہ ججنر کالونی سے سپریم کورٹ تک سیکورٹی کے نام پر پویس اہلکار مشرف کے حکم پر انہیں سپریم کورٹ جانے سے روک رہے تھے ، 24مارچ  2008جنرل انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت  کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے حکم پر 60ججز کے گھروں میں نظر بندی ختم کردی گئی ، اکتوبر 2008کو افتخار محمد چوہدری نے سپریم کورٹ کاوزٹ کیا ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز نے معزولی کے خلاف وکلاء برادری ، سول سوسائٹی کے ساتھ 12سے 16مارچ 2009ء تک ’’لانگ مارچ‘‘ کااعلان جس میں ملک بھر کے وکلاء نے مارچ کے وکلاء لیڈروںکے ساتھ 16مارچ  کو اسلام آباد آناتھا جبکہ لاہورسے میاںمحمدنوازشریف نے وکلاء دیگرجماعتوں اورسول سوسائٹی کی قیادت کرتے ہوئے 16مارچ کواسلام آباد پہنچنا تھا۔لانگ مارچ کے اعلان سے اوروکلاء لیڈروں اعتزازاحسن،علی احمدکرد، اظہر من اللہ، حامدخان، منیراے ملک، عاصمہ جہانگیر وغیرہ کی جوشیلی تقریروں سے عوام میںجوش وخروش پیداہوگیا اس وقت ملک کے صدر آصف علی زرداری ،وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی اوروزیرداخلہ رحمان ملک تھے لانگ مارچ کوروکنے کیلئے ملک بھرمیں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے صوبوںسے وفاق کوآنے والے راستے بلاک کردیئے گئے تھے اسلام آبادکوکنٹینرزلگاکرسیل کردیاگیاتھا پورے ملک میں ایک افراتفری اور کشیدگی کی صورتحال تھی 15مارچ2009ء کو نوازشریف مارچ کے ساتھ لاہورسے نکلے تولانگ مارچ کے شرکاء کو جگہ جگہ رکاوٹوں کا تصادم کاسامناکرنا پڑاپولیس اوردیگرسیکورٹی اداروںکے افرادکے درمیان شدیدتصادم ہوا مگرلانگ مارچ کے شرکاء ہررکاوٹ عبورکرتے رہے لاہورسے چلنے والے لانگ مارچ کے افرادکی تعدادبڑھتی رہی اورطویل ہوتارہا جسے روکناحکومت کیلئے ناممکن ہوگیا ان حالات کودیکھتے ہوئے 15اور16مارچ کی درمیانی رات وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے ایگزیکٹو آرڈرکے ذریعے معزول افتخار محمدچوہدری کوچیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پربحال کردیاجس پرلانگ مارچ روک دیاگیا 22مارچ سے چیف جسٹس نے باقاعدہ کام شروع کردیاْ
چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے اپنی بحالی کے بعدملک میںآئین وقانون کی بالادستی اورانصاف کی فراہمی کیلئے غیرمعمولی اقدامات کیئے انہوںنے انسانی حقوق سیل قائم کیا جبکہ میڈیامیںآنے  والی  خبروں پرسوموٹوایکشن لیتے ہوئے مقدمات درج کرکے ہرممکن انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی عدلیہ کوسیاست اورکرپشن سے پاک کرتے ہوئے تاریخ سازفیصلے دیئے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میںاس دوران تقریباً 2لاکھ درخواستیںدائرہوئیں ان میںسے ایک لاکھ 80ہزاردرخواستوں پردائرمقدمات کونمٹادیاگیاہے جبکہ ابھی بیس ہزاردرخواستیںالتواکاشکارہیں۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے نظریہ ضرورت کودفن کرتے ہوئے آئین وقانون قوائدوضوابط پرعمل کیا مقدمات میںمطلوب بااثرملزمان کوملک اوربیرون ملک سے نہ صرف گرفتارکروایا بلکہ اربوںروپے کی لوٹی ہوئی دولت کوقومی خزانے میںجمع کروایا ،اہم مقدمات میںپی سی اوججزکیس،اس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 14رکنی فل کورٹ نے30جولائی2009کوکی اس میںPCOکے تحت حلف اٹھانے والے ججزکومعطل کردیاگیا اس کیس میںکچھ پی سی او ججز بے غیرمشروط معافی مانگ لی جبکہ سابق جسٹس عبدالحمیدڈوگر سمیت متعدد ججزنے کیس میںاپنے دفاع کافیصلہ کیا تھا جسٹس عبدالحمیدڈوگر کی جانب سے وکیل نعیم بخاری پیش ہوئے بعدازاں صدرآصف علی زرداری نے بھی آفشل آرڈرکے ذریعے PCOججز کومعطل کردیاتھا سوئس عدالتوںمیںآصف علی زرداری کے خلاف60ملین ڈالر زمنی لانڈرنگ کیس میں آئین کے آرٹیکل 148کے تحت حاصل اثتشنیٰ کے باعث آصف علی زرداری عدالت عظمیٰ میں پیش نہیںہوئے جبکہ عدالتی حکم ہپر عدم عمل درآمدکرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے وزارت قانون کے ذریعے سوئس عدالتوںکومنی لانڈنگ کیس دوبارہ کھولنے کیلئے خط لکھنے سے انکارکردیا جس پرجسٹس ناصرالملک کی سربراہی میںقائم بینچ نے ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرتے ہوئے انہیںتین  سیکنڈکی سزاد ی گئی جس پروہ وزیراعظم کے عہدے کیلئے نااہل ہوگئے ان کے بعددوسرے آنے والے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے وائس حکومت کوخط لکھ کرجان بچائی موجودہ حکومت نے اٹارنی جنرل منیراے ملک کے ذریعے انکشاف کیا وزارت قانون کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے علاوہ بھی ایک خفیہ خط اس وقت کی سیکرٹری قانون یاسمین عباسی نے لکھاتھا جس میںسوئس حکومت سے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات نہ کھولنے اورمعاملے میںعدم دلچسپی کااظہار کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کیلئے کہاگیا اس دوسرے خفیہ خط کے معاملے پرحکومت پاکستان نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی رپورٹ ابھی سپریم کورٹ میںپیش ہونا ہے اور کیس ابھی زیرالتواء ہے۔
ین آر اوکیس میں پرویز مشرف نے 15اکتوبر 2007کو جاری کیا جس میں یکم جنوری 1986سے لے کر 12اکتوبر 1999تک ایسے سیاست دانوں ، سیاسی ورکروں بیورو کریٹوں کے خلاف مقدمات جن میں وہ منی لانڈرنگ ، قتل ، دہشت گردی ایسے جرائم میں ملوث ہیں کوریلیف دیا گیا ، سپریم کورٹ نے 12 اکتوبر 2007کو معطل کردیا جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے 27فروری   2008 کو اسے آئینی قراردیا ، وز یر قانون افضل سندھو نے 8041کی لسٹ پیش کی اس میں 34سیاست دان 3ایمبسڈر بھی شامل تھے، چیف جسٹس کی سربرہای میں 17رکنی بنچ نے 16دسمبر 2009کو کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے غیر آئینی کہہ کر کالعدم قراردیدیا ، واضح رہے پارلیمنٹ نے بھی این او آر کی توثیق نہیں کی تھی ، رینٹل پاور کیس میں مہنگے داموں کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدے کوکالعدم قراردیا گیا اس میں ملوث سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 26اعلی افسران کو معاملے کا ذمہدارقرار دیتے ہوئے نیب اور ایف آئی اے کو کارروائی کیلئے کہا گیا واضح رہے رینٹل پاور کیس میں ہی نیب کے تفیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر کامران فیصل کی پرسرار موت سے متعلق بھی کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے جس میں پولیس واقعہ کو خودکشی جبکہ  ورثاء قتل قراردے رہے ہیں عدالت نے کیس میں نئی میڈیکل ٹیم  اورآئی جی کو نئی تفیشی ٹیم بناکر تحقیقات کاحکم دیا ہے ، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف 54  میں سے 47ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز غیرقانونی طور پراپنے حلقے میں استعمال کیخلاف فیصلہ5دسمبر 2013کو جاری کیا گیا ہے ،حارث سٹیل مل بنک آف پنجاب کرپشن کیس میں کہ مرکزی ملزم ہمیش خان کو بیرون ملک سے انٹر پول کے ذریعے گرفتارکروانے اور لوٹی ہوئی رقم کی و اپسی میں عدالت عظمی نے اہم کردار ادا کیا ، اوگرا کرپشن کیس میں اوگرا کے سابق چیئرمین جو 82 ارب روپے کے فراڈ میں ملوث ہیں ان کی بیرون ملک سے واپسی پر گرفتار اور نیب وایف آئی اے کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ، جبکہ اس معاملے کو ہر طرح سے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ، ریکوڈک کیس اس کیس میں بلوچستان کی معدنیات سونے کے ذخائر سے متعلق معاہدوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی  قراردیا گیا ، تمام معاہدوں کوکالعدم قراردیا گیا ،فیصلے کے خلاف کمپنیوں کے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیاجہاں پر عدالت عظمی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اپیل خارج کردی گئی ، ملک بھر میں بلدیاتی اورکینٹ بورڈ کے انتخابا ت کروانا چیف جسٹس کارنامہ ہے سابقہ حکومتوں میں اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے معاملے کوٹالاجارہا تھا ، 54 اعلی افسران کی ترقیاں و تعیناتیاں کیس میں عدالت عظمی نے خلاف ضابطہ گریڈ 21 میں کی  جانے والی ترقیوں و تعیناتیوں کو کالعدم قراردیتے ہوئے فیصلہ دیا ، چیف جسٹس نے نہ صرف زرعی اصلاحات جیسے اہم کیس کو اوپن کیا بلکہ اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد خفیہ اداروںکی جانب سے مبینہ طور اٹھائے جانے والے 11 قیدیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ دیا حکومت گرانے کیلئے آئی بی  کی جانب سے خفیہ فنڈز کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق مقدمات میں سخت سٹینڈ لیا جس کے نتیجہ میں متعدد لاپتہ افراد کا سراغ ملا ان کی واپسی ہوئی یہ وہ نازک معاملات ہیں جس کیلئے عدلیہ کو تاقدین نظریہ ضرورت اپنانے کا مشورہ دیتے رہے مگر تاحال عدالت عظمیٰ کا سٹینڈ ہے کہ ہر صورت لاپتہ افراد کی بازیابی کوممکن بنایا جائے ماورائے آئین کوئی اقدام قابل قبول نہیں اگر کوئی ملزم ہے تو اس  کے خلاف کیس ٹرائل کیا جائے چیف جٹس کے دور میں اس کے علاوہ اہم مقدمات میں چینی کی قیمتیں کیس ‘ کاربن ٹیکس پٹرولیم مصنوعات قیمتیں‘  ٹیکس‘ لوڈشیڈنگ توانائی بحران بجلی کی قیمتیں‘ حج کرپشن‘ این آئی سی ایل کیس‘ سٹیل ملزم سیکنڈل ‘ بی او بی آئی کیس ‘ وکیوٹرسٹ کیس‘ کراچی بلوچستان بدامنی کیس ‘ وکلاء ٹارگٹ کلنگ کیس‘ عراق کویت جنگ متاثرین کیس‘ جیل اصلاحات کیس ‘ نیو مری پروجیکٹ کیس ‘ سی ڈی اے زرعی فارمز کیس‘ آئی جی بہو قتل کیس‘ جعلی ادویات کیس ‘ انسانی حقوق کے متعلق کیسز سوموٹوز ‘ کراچی شاہ زیب قتل کیس ‘ سیالکوٹ تشدد قتل کیس ‘ اسلام آباد میک ڈونلڈ ایف نائن پارک اراضی کیس ‘ جعلی ڈگریاں کیسز‘ ماحولیاتی آلودگی لاہور کنال روڈ کی تعمیر روڈ توسیع کے دوران درختوں کی کٹائی کیس ‘ ایفی ڈرین کیس ‘ وغیرہ کیسز شامل.ہیں
_____________________________________________
والد صاحب کا تعلق پولیس سے تھا
  چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری 12دسمبر 1948ء کو پیدا ہوا آپ کے والد چوہدری جان محمد پولیس میں تھے جن کا تعلق فیصل آباد سے تھا آپ کے 3بھائی ہیں آپکی بیگم قائقہ افتخار سے آپ کے 2بیٹے اسلان افتخار اور احمد بالاچ 3بیٹیاں ہیں۔ آپ نے بی اے اور ایل ایل بی جامشور و سندھ سے کیا وکلاء بار سے 1997میں  منسلک ہوئے آپ ہائی کورٹ میں بطور وکیل 1976میں انرول ہوئے جبکہ سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے ان کی انرول منٹ 1985ء میں ہوئی۔ 1989ء میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اوربلوچستان ہائی کورٹ کے 1990سے 1999ء تک جج رہے -2002ء میں سپریم کورٹ کے جسٹس کی حیثیت سے تعینات ہوئے آپ بلوچستان کوئٹہ بار کے صدر دو مرتبہ ممبر بار کونسل بنے جبکہ دو مرتبہ الیکشن کمشنر بلوچستان رہے اور دو مرتبہ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے چیئرمین رہے ۔ 1999 کوبلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے ۔جسٹس افتخار محمد چوہدری 30جون 2005کو چیف جسٹس آف پاکستان تعینات ہوئے۔ چیف جسٹس کی 11دسمبر 2013ء کو ریٹائرڈ منٹ کے بعد 12دسمبر 2013ء کو جسٹس تصدق حسین جیلانی نئے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھائی گے۔______________________________________________________________

عدلیہ تحریک نے عوام کے شعور کو اجاگر کیا
 چیف جسٹس افتخار  محمد چوہدری  نے متعدد مواقع  پر کہا کہ  عدلیہ کاکام ریاستی اداروں کو آئین پر چلنے پر مجبور کرنا ہے اس کے بعیر نہ گڈ گورنس قائم ہوسکتی  ہے اور نہ ہی مضبوط بنیادون  پر  معیشت  اور جمہوریت ‘  چیک اینڈ بیلنس کے نظام سے اداروں  کی کارکردگی  بہتر ہوتی  ہے  منصب کی تبدیلی آئینی  ضرورت  ہے بنچ اور بار  میں مضبوط تعلق ہے کوئی حکومت بدعنوانی پر قائم  راہ سکتی  ہے  مگر اناصاف کی فراہمی کے  بغیر قائم نہیں  رہ سکتی ‘ عدلیہ ‘ مقننہ ‘ انتظامیہ  سب  پر آئین پاکستان پر اس کی روہ  کے مطابق عمل درامد کرنے کی ذمہ  داری  ہے  وکلاء سول سوسائٹی  نے آزادعدلیہ کے لئے جو قربانیاں  دیں  اس کے باعث ملک میں مضبوط آئینی عدالتی  نظام ہے انتظامیہ  عدلیہ  علیحدہ علیحدہ آئین وقانون سے کوئی بالاتر نہیں پاکستان کے عدالتی  نظام  کی بہتری کا اعتراف  بین الاقوامی سطح پر کیا جارہا  ہے جس سے پاکستان  کے وقار میں  اضافہ ہورہا ہے عوام کو ان کی دہلیز  تک فوری  اورسستے  انصاف کی فراہمی  عدلیہ کی اولین ترجیح  ہے  خلاف آئین  اقدامات  ‘ کرپشن ‘ ناانصافی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی مستقبل کی عدلیہ اب مستحکم  بنیادوں پر کام کرے گی عدلیہ  بحالی  تحریک نے عوام کے شعور  کو اجاگر کیا عزت سے ریٹائرمنٹ  پر ’’ یوم تشکر ‘‘ منائوں گا ۔______________________________________________________

سوموٹو ایکشن

 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدی کی شخصیت  نے پاکستان کی تاریخ  اور ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی کیلئے  انقلابی کردار ادا کیا ہے ان کی جارحانہ اقدامات کے باعث شروع ہوا بعض آئینی ماہرین نے  سوموٹو ایکشن کو ضرورت سے زیادہ استعمال اور  تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مہم جوئی سے تعبیر کیا جبکہ مجموعی طور پر لوگوں  کی ایک بڑی تعداد  نے اسے فوری اورسستے انصاف کی فراہمی کا ذریعہ کہا ‘ چیف جسٹس دن رات کام کرکے آئین کو اس کی روح کے مطابق استعمال کرکے عدالتی  سسٹم کو مضبوط کیا جو آنے والوں کیلئے  ایک مشعل راہ  ہے ان خیالات کا اظہار آئینی  ماہرین نے کیا ان میں اعتزاز احسن ‘ اظہر من اللہ  ‘  علی احمد کرد‘ توفیق آصف ‘ شیخ احسن  الدین ‘ اکرام چوہدری ‘ چوہدری جاوید ‘ نیاز اللہ ‘  بیرسٹر سیف الرحمن ‘ ذوالفقار ملوکا ‘ چوہدری اسلام ‘ حشمت حبیب ‘  قاری عبدالرشید ‘ قلب حسن ‘ وغیرہ نے کیا ‘  انہوں نے مزید  کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری  کو دیکھ کر دیگر ساتھی  ‘ ججز کے بھی حوصلے بڑھے ‘ چیف جسٹس کے دوران  سماعت ریمارکس عرصہ دراز  تک  پاکستان کی تاریخ کا حصہ  رہیں گے ‘ انہوں نے ساتھی ججز کے ساتھ  مل کر عدلیہ کا وقار بلند کیا ‘ جمہوریت کو مضبوط کیا  حکومتی اداروں کو مستحکم کرنے کے لئے ان کے مستقل سربراہان  تعینات کرنے پر زور دیا ‘ جبکہ اعلیٖ سرکاری افسران کی بلاوجہ برطرفی ٹرانسفر پوسٹنگ ایسے کیسز میں فیصلے  دے کر بیوروکریسی  میں ایماندار  افراد کی حوصلہ افزائی کی ‘ عدلیہ  بحالی تحریک کے دوران وکلاء وسول سوسائٹی نے چیف جسٹس  سے اپنی والہانہ  محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بحال کروایا جو ایک انقلابی اقدام  تھا ۔