آنیوالے چیف جسٹس صاحبان کیلئے راستے کا تعین

رستم اعجاز ستیrustam.ejaz@yahoo.com  ....
عوامی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری آج ایک تاریخ رقم کرنے کے بعدریٹائر ہو جائیں گے، چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انکا دور عدالتی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب ہے انکی سربراہی میں آذاد عدلیہ نے ایک تاریخ رقم کی، چیف جسٹس کی رخصتی ملک میں غریب عوام کی اکثریت کیلئے افسردگی جبکہ ایک محدود مراعات یافتہ طبقے کیلئے آسودگی کا باعث ہے، وہ ہمیشہ عوام الناس کے دلوں میں زندہ رہیں گے، انہوں نے غریب لوگوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے طاقتوروں سے ٹکرانے سے گریز نہیں کیا، پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نوٹس لیا، ایل پی جی مافیا کیخلاف فیصلہ دیا، سی این جی مافیا پر ہاتھ ڈالا،حاجیوں کو لوٹنے والوں کی گرفت کی، قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو کہٹرے میں لائے، حکمرانوں کی بے مہاری روکنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا، عام آدمی کی سپریم کورٹ کی بھجوائی گئی درخواستوں پر انہیں انصاف فراہم کیا، وہ طبقہ جو خود کو آئین و قانون سے بالا سمجھتا تھا اسے انصاف کے کہٹرے میں لایا گیا،سابق آمر پرویز مشرف کو غاصب قرار دیا ،افتخار چوہدری کی سربراہی میں آزاد عدلیہ نے عوام کے حقوق کے سرپرست ہونے کا کرداد بخوبی سر انجام دیا، چیف جسٹس نے مظلوموں کے حقوق کیلئے زور آوروں کا للکارا، سات سو کر قریب لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا،2005 میں انہوں نے ملک سے جبری گمشدگیوں کا از خود نوٹس لیا ، تین نومبر2007کو انہوں نے لاپتہ افراد کے مقدمہ کی سماعت کی اور پانچ نومبرکو اگلی تاریخ مقرر کی لیکن شام کو ایمرجنسی نافذ ہوئی اور چیف جسٹس سمیت ساٹھ کے قریب ججز کو قید کر دیا گیا، بعد ازاں ملک میں جمہوریت بحال ہوئی اور پاکستان پیپلز پارٹی بر سر اقتدار آئی لیکن بد قسمتی سے جمہوری حکومت بھی دو معاہدوں کے باوجود چیف جسٹس سمیت سابق آمر پرویز مشرف کے ڈسے ہوئے ججز کو بحال کرنے سے انکاری ہو گئی، پیپلز پارٹی کے قائدین نے عوامی خواہشات کے برعکس تنقید کی توپوں کا رخ چیف جسٹس کی جانب موڑ لیا، عوام کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سا ایسا گناہ تھا جسکی وجہ سے سابقہ حکومت افتخار چوہدری کو بحال کرنے سے انکاری ہو گئی، عوام نے ایک تاریخی لانگ مارچ کیا جسکی بدولت دوسری مرتبہ چیف جسٹس اپنے عہدے پر بحال ہوئے، دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا جج ہو جسکی بحالی کیلئے عوام الناس نے تحریک چلائی ہوئی، جسے دو مرتبہ منصب سے محروم کیا گیا ہو اور وہ دوبارہ واپس آگیا ہو، شاید ہی کو جج ہوگا جسکے لئے عوام نے فیصلہ کن لانگ مارچ کیا ہو، جس نے عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ملک کے بدعنوان اور طاقتور مافیا پر اتنا مضبوط ہاتھ ڈالا ہو اور لوٹے ہوئے اربوں روپے قومی خزانے میں واپس لایا ہو چیف جسٹس افتخار ایک نڈر، بے باک اور با ضمیر جج رہے جو کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتا ہے، بین الاقوامی سطح پر بھی انکی صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا، وہ ایشیا کے واحد جج ہیں جنہیں نیو یارک بار ایسوسی ایشن نے تاحیات رکنیت کے اعزازسے نوازا، ہارورڈ لاء سکول نے افتخار چوہدری کو فریڈم ایوارڈ سے نوازا، لاء سکول کے ڈین راجر جے ڈینس نے انہیں حقیقی ہیرو قرار دیا، پاکستان کے عوام نے انہیں عوامی چیف جسٹس ( اپنا چیف جسٹس) قرار دیا،چیف جسٹس پر تنقید کرنے والوں کی غالب اکثریت کا تعلق ملک کے مراعات یافتہ طبقے سے ہے، وہی پانچ فیصد طبقہ جس نے ملک کے95فیصد غریب عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے،مراعات یافتہ طبقے اور اس طبقے کے حمایتوں کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ چیف جسٹس نے چہرے دیکھ کر فیصلے کرنے کے بجائے آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے شروع کر دیئے، ہمارے ملک میں جب بھی کسی باثر شخص پر الزام لگتا ہے ہے تو اسکی حمایت کرنے والے آئین و قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں، با اثر افراد کے شعوری یا غیر شعوری ایجنٹ ہر شعبے میں موجود ہوتے ہیں، جو عوامی کو گمراہ کرنے کیلئے طرح طرح کی دلیلیں تراشتے رہتے ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں عدلیہ پر لوگوں کا اعتماد اس ھد تک بڑھ گیا کہ صرف2011میں اعلیٰ عدلیہ کو از خود نوٹس لینے کے؛لئے ڈیڑھ لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں جو عدالتوں پر عوامی اعتماد کا مظہر ہے،کوئی بھی گوشت پوست کا انسان غلطیوں سے پاک نہیں ہوتا چیف جسٹس سے بھی غلطیاں سر زد ہوئی ہوں گے لیکن انکی اچھائیوں کا پلڑا بہت بھاری ہے جسے عوام بھلا نہیں سکتے، دوسری جانب عوام کی اکثریت کی توقع ہے کہ نئے آنے والے چیف جسٹس صاحبان کا دور بھی چیف جسٹس افتخار چوہدری کی چیف جسٹس شپ کا تسلسل ہو گا،، بعض حلقوں نے چیف جسٹس کی عدلیہ کے ایوانوں سے رخصتی کی تاریخ قریب آتے ہی یہ بحث شروع کر رکھی ہے کہ آنے والے چیف جسٹس صاحبان چیف جسٹس افتخار چوہدری کے فلسفہ پر عمل کریں گے یا کسی دوسرے طریقے سے عدلیہ کی سمت کا تعین کریں گے، عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ ہر آنے والے چیف جسٹس کو افتخار چوہدری کے راستے کو ہی اختیار کرنا ہوگا جس میں عدالتوں پر عوامی اعتماد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سات ماہ کیلئے جسٹس تصدق حسین جیلانی ، انکے بعد جسٹس نا صر الملک، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوں گے جنہیںعوامی خواہشات کے مطابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے کھٹن راستے پر ہی چلنا ہوگا، جب تک ملک کی عدلیہ بیدار رہے گی عوام اسکی پشت پر رہیں گے۔