”آپریشن ضرب عضب “کی حمایت میں تاریخی اجتماع

”آپریشن ضرب عضب “کی حمایت میں تاریخی اجتماع

 شہزادچغتائی
دنیائے اسلام کی سب سے بڑی فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایم کیو ایم نے رمضان المبارک میں کراچی کے باغ جناح میں جلسہ عام کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔ شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب کی حمایت میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا جس میں لاکھوں افرادنے عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج کو بلینک چیک دیدیا۔ جلسہ عام کا آغاز قومی ترانے سے ہوا۔ بعد میں شرکاءنے کھڑے ہو کرفوج کو سلیوٹ کیا اور تالیاں بجائیں۔ جلسہ عام کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں سیاسی جماعتوںکے رہنماﺅں نے بھی شرکت کی جن میں پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن)‘ فنکشنل مسلم لیگ‘ عوامی مسلم لیگ‘ مسلم لیگ (ق)‘ پاکستان جمہوری پارٹی‘ مسلم لیگ قیوم گروپ شامل تھے۔ اس طرح اتوار کو کراچی کے باغ جناح میں مسلح افواج اور قوم ایک صفحہ پر آگئے‘ عوام نے سارا وزن فوج کے پلڑے میں ڈال دیا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اکیلی نہیں‘ بلکہ پوری قوم ساتھ ہے اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دہشت گردوں کاخاتمہ ہوگا‘ پھر چور اچکوں کا احتساب ہوگا۔ ایم کیو ایم کے جلسہ عام میں لاکھوں افرادنے شرکت اور بیک وقت افطار بھی کیا۔ جس کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی افطاری قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کے لئے بڑی تعداد میں روزے کی حالت میں لوگ گھروں سے نکلے جن میں بزرگ‘ خواتین‘ بچے اور معذور افراد شامل تھے۔ جلسہ گاہ میں جوق در جوق آنے والوں میں معذور افراد بھی شامل تھے جو بیساکھیوں کے سہارے آرہے تھے‘ کچھ نوجوان ا یسے بھی تھے جو چل نہیں سکتے تھے وہ لڑھکتے ہوئے جلسہ گاہ میں داخل ہورہے تھے۔ جلسہ کی ایک انفرادیت یہ تھی کہ یہ رمضان المبارک میں کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ہونے والا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ اس سے قبل رمضان المبارک میں جلسوں کی کوئی روایت نہیں ملتی‘ ا یم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا موقف ہے کہ کراچی میں مسلح افواج کی حمایت میں جو جلسہ عام ہوا اس کی نظیر قومی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا خطاب موضوع بحث بن گیا اور وہ توجہ کامرکز بن گئے۔ ان کے خطاب کے کچھ دیر کے بعد الیکٹرانک چینلوں پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے پرویز مشرف کیس میں دوسرے فوجی افسروں کی گرفتاری کامطالبہ کیوں کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں ہونے والے جلسہ عام کا اسٹیج حالانکہ کم وقت میں تیار کیا گیا لیکن یہ اسٹیج بہت بڑا اور فوج سے یکجہتی کا مظہر تھا۔ اسٹیج کے سامنے والے حصے پر پاکستانی پرچم لگایا گیا اورایک قوم ایک مشن کے تصور کو اجاگرکیا گیا۔ اسٹیج 80 فٹ لمبا‘ 20 فٹ اونچا اور 35 فٹ چوڑا تھا‘ جسکوکنٹینروں سے بنایا گیا تھا۔ اسٹیج پر قائد اعظم محمد علی جناح اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تصاویر آویزاں کی گئیں تھیں۔ جلسہ گاہ کے اطراف چاروں جانب عمارتوں میں بینر لگائے گئے تھے جن پر مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کے الفاظ درج تھے۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں کوئی اس آپریشن کا نام سننے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن آج یہ آرمی چیف راحیل شریف کا کرشمہ ہے کہ پوری قوم حکومت اور سیاستدان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس وقت فوج کو جو سپورٹ مل رہی ہے‘ وہ 65 ءکی جنگ سے بھی بڑھ کر تھی۔ ایم کیو ایم کے جلسہ میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید شرکاءکی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ ان کو جب تقریر کیلئے بلایا گیا تو بہت دیر تک تالیاں بجائی گئیں اورنعرہ بازی کی گئی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی شیخ رشید کا تقریر میں بار بار ذکر کیا۔ شیخ رشید نے کہا کہ پا کستان کی فوج کوئی رائل آرمی نہیں‘ جن سر حدوں کے محافظ نہ ہوں وہ کمزور ہوجاتی ہےں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فوج کے خلاف سازشیں ناکام بنا دی جائیں۔شیخ رشید نے کہا ایم کیو ایم نے جلسہ عام میں شرکت کے لئے تمام جماعتوں کو مدعو کر کے فوج کی حمایت کا حق ادا کر دیا ہے۔ جلسہ عام میں خواتین اور بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی جو کہ پاکستان کاپرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ خواتین نے ”پاکستان زندہ باد“ ”مسلح افواج زندہ باد“ کے نعرے لگائے خواتین اور بچے دورردراز علاقوں سے آئے تھے۔ شرکاءچلچلاتی دھوپ میں بیٹھے تھے‘ شرکاءکے لئے افطار کا بندوبست کیا گیا تھا‘ لیکن بعض خواتین اور بچے افطار ساتھ لائے تھے۔ الطاف حسین کے خطاب کے بعد شرکاءنے سکون سے افطار کیا اورکوئی بد نظمی نہ ہونے پائی۔ روزہ داروں کے لئے سبیلیں بھی لگائی گئی تھیں۔ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے جلسہ عام کی تیاریاں ایک ہفتہ تک جاری رہیں اس دوران ایم کیو ایم کے رہنماﺅں نے ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کو جلسہ عام میں شرکت کی دعوت دی جو کہ تمام جماعتوں نے قبول کرلی لیکن جماعت اسلامی نے دعوت وصول تو کی لیکن قبول نہیں کی۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر نعیم الرحمن نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن مسئلہ کا حل نہیں اس لئے اسے بندکیا جائے۔ جماعت اسلامی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو کہ آپریشن عضب کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں آپریشن کے حق میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اور مسلح افواج متحد ہوگئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ کر اچی کے جلسہ عام میں جانیں قربان کرنے والوں کو جوخراج عقیدت پیش کیا گیا اس کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ کراچی میں حالیہ دنوں کے دوران مسلح افواج کی حمایت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات بہت طمانیت بخش ہے کہ کراچی شہر عالم اسلام کا سب سے بڑا تجارتی مرکز آپریشن ضرب عضب کی پشت پرکھڑا ہے اور شہری دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے دعا گو ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے سب سے زیادہ ثمرات کراچی کوملیں گے جوکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ان دنوں کراچی کے درد دیوار پرفوج کی حمایت میں نعرے لکھے ہیں‘ تمام بل بورڈوں پر جنرل راحیل شریف اور فوج کے جوانوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔ بچوں میں فوجی وردی اور پاکستانی پرچم کے بیج مقبول ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر قومی نغمے بج رہے ہیں‘ انٹرنیٹ اور فیس بک پر جنرل راحیل شریف اور فوجیوں کی تصاویر کی بھر مار ہے۔ ملک بھرکے میڈیا کی بیٹھکوں میں حالانکہ یہ باتیں ہورہی ہیں کہ ملک میں مارشل لا لگنے والا ہے لیکن یہ بات طے ہوگئی ہے کہ مارشل لاءنہیں لگے گا۔ کراچی میں آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں عوامی اجتماع ایک ایسے موقع پر ہوا‘ جب یہ سیاسی اور عسکری حلقے یہ محسوس کررہے ہیں کہ دشمنوں نے پاکستان میں جو جنگ چھیڑی ہے اس کو عوام کے تعاون کے بغیرنہیں جیتا جاسکتا کیونکہ دشمن نے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار کر رکھا ہے اور کراچی سے وزیرستان تک پاکستان کو میدان جنگ میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ بھارتی فوجیں افغانستان میں داخل ہوگئی ہیں اور 25 ہزار بھارتی فوج مغربی سرحد پر موجود ہے۔ اس طرح مشرقی سرحدوں کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ نہیں ہے اورمغربی سرحدوں سے پاکستان میں مداخلت ہورہی ہے ۔ کراچی ائیر پورٹ پر 8 جون کو حملہ کرنے والے 10 ازبک باشندے مغربی سرحدی علاقوں کے راستے داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ کراچی میں جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ سعید نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور بھارتی سازشوں میں مصروف ہیں اور انہوں نے ملک میں آگ لگا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جس کو بجھانا وقت کی ضرورت ہے۔ بھارت اور امریکہ اب مغرب سے پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں اور پاکستان کو کمزور کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے افغانستان میں آنے سے پاکستان کوبہت نقصان ہوگا۔ انہوں نے شمالی وزیرستان کے آپریشن کو ناگزیر قراردیا اور کہا کہ امریکی اورپاکستانیوں کا خیال تھا کہ وزیرستان میں فوج اور عوام آمنے سامنے ہوجائے گی اورپاکستان میں انتشار پیدا ہوگا لیکن خوش قسمتی سے ا یسا نہیں ہوا۔