پیپلزپارٹی میں ہزاروں ساتھیوں سمیت شمولیت کی روایت برقرار

پیپلزپارٹی میں ہزاروں ساتھیوں سمیت شمولیت کی روایت برقرار

 احمد کمال نظامی
پاکستان کی سیاسی تاریخ نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے لیکن جس نشیب و فراز سے اس وقت پاکستانی عوام گزر رہے ہیں ایسی صورت حال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی کشتی گرداب میں ہے اور حیران کن بات ہے کہ موسم گرما ہے اور پاکستان کی دو سیاسی پارٹیاں ایک علامہ طاہرالقادری کی عوامی تحریک جس کی پارلیمنٹ میں سرے سے کوئی نمائندگی نہیں،جبکہ دوسری پارٹی تحریک انصاف اس میں پیش پیش ہے۔ مئی کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک صوبہ خیبر پی کے کی حکمرانی بھی نصیب ہوئی ہے لیکن عمران خان قومی اسمبلی میں اقلیت میں ہونے کے باوجود خود کو اپوزیشن لیڈر قرار دیتے ہیں جبکہ اپوزیشن کی قیادت پیپلزپارٹی کے حصے میں آئی ہے۔ عمران خان اور علامہ طاہرالقادری اسی شدید ترین موسم گرما میں ”ایک تم بھی لے آ¶ ہو سائبان شیشے کا“ کے مصداق سونامی اور انقلاب کے دعوے کر رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ دنوںفیصل آباد کا بھرپور دورہ کیا۔ پیپلزپارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی اور ضلعی صدر طارق محمود باجوہ نے انہیں فیصل آباد کے دورہ کی دعوت دی تھی۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا دورہ فیصل آباد اس شور وغل کے باوجود کامیاب رہا کہ مائی دا دربار کے سجادہ نشین سید اظہر حسین شاہ نے یعنی سیدزادے نے سید زادے کے ہاتھ پر سیاسی بیعت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ ہماری روایت یہ ہے کہ لوگ اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت برسراقتدار پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہیں ۔ سید یوسف رضا گیلانی نے بھی فیصل آباد میں مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان جس لانگ مارچ کی سیاست کر رہے ہیں۔ ان کے لانگ مارچ اور سیاسی دھرنے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کر سکتے اور نہ ہم جمہوریت کو ڈی ریل ہونے دیں گے۔ پیپلزپارٹی جمہوریت کے خلاف کسی لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی۔ راجہ ریاض احمد خاں کے ڈیرے پر پارٹی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ ہم پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام جمہوریت دشمنوں کی اختراع ہے جمہوریت کے استحکام اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لئے میاں نوازشریف کی نہیں جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بینظیر بھٹو شہید حکومت کے خلاف سازشیں نہ کی جاتیں تو آج نہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی بلکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آج نہیں تو کل سابق صدر پرویزمشرف نے ملک سے باہر جانا ہے اگر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانا ہے تو 1999ءسے آرٹیکل 6 پر عمل درآمد کیا جائے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے بیٹے کے اغوا کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصہ گزر چکا لیکن میرے بیٹے کو بازیاب نہیں کرایا گیا۔ اس کی بازیابی نہ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی ہے ناکامی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت ان کے بیٹے کو بازیاب کرائے۔ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں اور ہمیشہ مفاہمت کی سیاست کی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ علامہ طاہرالقادری نے ہمارے دور حکومت میں بھی لانگ مارچ اور دھرنا دیا لیکن ہم نے خوش اسلوبی اور مفاہمت سے مذاکرات کئے جبکہ حکومت طاہرالقادری سے خوفزدہ ہے اور اسی خوف کے نتیجہ میں سانحہ ماڈل ٹا¶ن پیش آیا جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان چوہدری کی سرگرمیوں اور عمران خان پر جوابی حملہ کرنے پر تبصرہ سے پہلوتہی کی اور ضرب عضب آپریشن کی بھرپور انداز میں حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا عمران خان لانگ مارچ کرتے ہیں یا نہیں ابھی تک عمران خان کی پالیسی واضح نہیں ہے ایک سانس میں وہ لانگ مارچ کی بات کرتے ہیں تو دوسرے سانس میں نئی تجاویز پیش کرتے ہوئے لانگ مارچ کو موخر کرنے کی بات کرتے ہیں۔ جمعیت علمائاسلام کے ناظم اعلیٰ مولانا فضل الرحمن نے تو عمران خان کے ڈھول کا پول یوں کھول دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اوپر سے حکم آ گیا تو تحریک انصاف 14۔اگست کو لانگ مارچ نہیں کرے گی۔ ماضی میں بھی عمران خان پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر رقص کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں اور سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا کا نام آتا رہا ہے۔ پاکستان میں عجیب روایت پڑ گئی ہے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے قائدین عمران خان اور طاہرالقادری ہم آواز ہو کر نظام بدلنے کی بات تو کرتے ہیں جو ان کے خیال میں ناکام ہو چکا ہے لیکن دونوں کے پاس کوئی متبادل نظام نہیں۔ سونامی اور انقلاب کے ان نعروں کا بظاہر مقصد صرف یہ نظر آتا ہے کہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے تاکہ عوام ان سے ان کی گزشتہ یا حالیہ کارکردگی سے متعلق سوالات نہ کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو نہ سونامی سے کوئی واسطہ ہے نہ انقلاب سے بلکہ موجودہ نظام کے تحت قوانین کا موثر نفاذ چاہتے ہیں اور پاکستان کے آئین میں دی گئی بنیادی سہولتوں اور حقوق ہی اگر انہیں مل جائیں تو یہ جمہوریت کی فتح اور جمہوریت کا استحکام ہے ۔ وفاقی وزیرمملکت عابد شیرعلی کا کہنا ہے کہ جمہوریت، جمہوریت کی قوالی کرنے والے عمران خان، شیخ رشید اور طاہرالقادری تو جمہوریت کے معنوں سے ہی آشنا نہیں ہیں۔ یہ سیاسی یتیم ہیں۔ شیخ رشید کبھی عمران خان، کبھی طاہرالقادری کی گود میں بیٹھتے ہیں۔ ان کا اپنا کوئی مو¿قف نہیں ہے۔ یہ اسمبلی سے مستعفی ہو کر عوام کی جان چھوڑ دیں اور ان جیسے لوگوں کو جیل میں ہونا چاہیے سانحہ ماڈل ٹا¶ن پر ہمیں ان سے زیادہ دکھ ہے مگر یہ لوگ مگرمچھ کے آنسو بہا کر لاشوں پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے سابق وزیرقانون رانا ثناءاللہ خاںنے فیصل آباد میں پھر اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹا¶ن کے حوالہ سے رانا ثناءاللہ خاں کا کہنا ہے کہ علامہ طاہرالقادری کو شامل تفتیش کیا جائے تو اس سانحہ کای تمام کڑیاں مل جائیں گی ۔ جس سے حقائق عوام کی نگاہوں کے سامنے آ جائےں گے اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ کس سازش کے تحت وہ کینیڈا سے پاکستان آئے ہیں اور اپنی آمد سے قبل انہوں نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے خونی ڈرامہ کھیلا۔ رانا ثناءاللہ خاں کا کہنا ہے کہ ناجائز تجاوزات اور رکاوٹیں ہٹانے کا کام ہائی کورٹ کے حکم پر کیا گیا۔ عوام انتظار کریں عدالتی کمیشن کی رپورٹ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے گی۔ میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کو قاتل قرار دینے والے ذرا اپنے دامن پر نگاہ ڈالیں۔ عیدالفطر کے بعد میلہ ضرور بھرے گا عمران خان اور طاہرالقادری جن کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں وہ بھی عوام کے سامنے آ جائیں گے وقت کا انتظار کریں جو سب سے بڑا منصف ہوتا ہے ۔