قائد حزب اختلاف پارلیمانی اصلاحات کے لئے متحرک

قائد حزب اختلاف پارلیمانی اصلاحات کے لئے متحرک

فرخ سعید خواجہ
سیاسی صف بندیاں جاری ہیں، اپوزیشن کا گرینڈ الائنس کسی بھی دن تشکیل پا سکتا ہے البتہ ڈاکٹر طاہر القادری کا گرینڈ الائنس کا سر براہ بننے کا سکوپ بہت کم ہو گیا ہے، عمران خان خود بڑے لیڈر ہیں وہ کسی اور کو اب خود سے آگے نہیں آنے دیں گے وگرنہ جتنی دوڑ دھوپ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں سینئر سیاستدان ہونے کی وجہ سے چوہدری شجاعت حسین کو نئے سیاسی اتحاد کی سر براہی ملنے کے امکانات روشن تھے، جہاں تک مسلم لیگ ن میں دھڑے بندیوں کا تعلق ہے یہ بات محض افسانہ ہے نواز شریف کی قیادت پر ان کی پارٹی میںسب متفق ہیں البتہ ” نمبر ٹو“پوزیشن کے لئے ایک زمانے میں چوہدری شجاعت سکہ بند لیڈر تھے لیکن چوہدری نثار علی خاں اور مخدوم جاوید ہاشمی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے تھے ، ان دونوں کے درمیان کھینچا تانی سے ساری پارٹی آگاہ تھی لیکن تسلیم ان دونوں لیڈروںمیںسے ایک بھی نہیں کرتا تھا کہ ان کے درمیان کوئی دوری یا اختلاف ہے سو اب جاوید ہاشمی کی جگہ خواجہ آصف ہیں اور نثار آصف کشمکش جاری ہے۔
میاں نواز شریف کی طبعیت کا خاصا ہے کہ مزہ لیتے ہیں جاوید ہاشمی اور چوہدری نثارمیں جب اختلافات تھے میاں صاحب نے دخل اندازی سے گریز کیا، البتہ جب وفاقی وزیر اطلاعات مشاہد حسین سید اور وزیر اعظم کے پریس سیکرٹری صدیق الفاروق کا جھگڑا میڈیا کی زینت بن گیا تب جناب نواز شریف نے مداخلت کی اور صدیق الفاروق کو اپنے پریس سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا کر ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کا چیئر مین لگا دیا۔
اب جبکہ چوہدری نثار علی خان اور خواجہ آصف کے درمیان معاملہ ” تیس“ پر پہنچ گیا ہے تو یقیناً ان دونوں میں سے ایک کی وزارت تبدیل کر دی جائے گی، اس سے زیادہ میاں صاحب اور کچھ نہیں کریں گے۔ ادھر عمران خان 14اگست کو اسلام آباد میں سونامی مارچ کرنے کی تیاریوں میں ہیں جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اگست ہی میں انقلاب مارچ کا اعلان کر دیا ہے ، مولانا سراج الحق کی عید الفطر کے بعد عوامی تحریک چلانے کی خواہشیں بھی سامنے آ چکی ہے، چوہدری شجاعت چوہدری پرویز الٰہی اور شیخ رشید احمد ان تینوں جماعتوں کو کسی ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لئے کوشاں ہیں اب دیکھنا ہے کہ ان کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو پاتی ہیں۔
ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی اور شیخ رشید کا ہدف نواز شریف، شہباز شریف اور ان دونوں بھائیوں کی مرکز اور پنجاب میں حکومتیں ہیں جبکہ مولانا سراج الحق ، اسفند یار ولی خان، مولانا فضل الرحمن سمیت پیپلز پارٹی جمہوریت کا استحکام اور شفاف انتخابی نظام لانے کے خواہش مند ہیں، الطاف بھائی اور ان کی مسحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ وہ نظام انتخاب میں اصلاح چاہتے ہیں یا کب کس کے ساتھ جا کھڑے ہوں گے۔
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی اور آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن کے لئے جدو جہد کی طویل تاریخ موجود ہے اس میں نوابزادہ ، نصر اللہ خان، شہید بے نظیر بھٹو، نواز شریف سمیت متعدد چھوٹی جماعتوں کے رہنماﺅں مثلاً احسان وائیں، سید منظور علی گیلانی، رحمت خان وردگ ،نواز گوندل ، سید منیر حسین گیلانی ، سیف اللہ سیف کا بھی حصہ قابل قدر ہے ہم نے ماضی قریب کے سیاستدانوں کا ذکر کیا ہے بلا شبہ جدو جہد کی داستان طویل ہے اور اسی میں حصہ لینے اور جانی و مالی قربانیاں دینے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کی کثیر تعداد شامل رہی ہے۔جن سب کے نام دینا ممکن نہیں۔
جن لوگوں کا ہدف نواز شریف، شہباز شریف کی حکومتیں اور خود یہ دونوں بھائی ہیں ان لوگوں کو شکوہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے ماضی سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ ہم انتہائی دکھ کے ساتھ یہ عرض کر رہے ہیں کہ اگر وہ دونوں بھائی نہیں سیکھ سکے تو آپ یار لوگ ہی ماضی سے سبق سیکھ لیں۔ کیونکہ کسی بھی عوامی تحریک کے نتیجے میں پاکستان میں جمہوریت یا جمہوری حکومت نہیں آئی1969میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی جگہ جنرل یحیٰ خان، 1977میں ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ جنرل ضیاءالحق، 1999ءکی نواز شریف مٹاﺅ ون پوائنٹ ایجنڈے پر مشتمل تحریک کے بعد نواز شریف کی جگہ جنرل سید پرویز مشرف تشریف لائے تھے اور اب بھی اگر خدانخواستہ کچھ ہوا تو نواز شریف حکومت کی جگہ کوئی سیاستدان نہیں بلکہ جنرل ہی آئے گا۔
ہماری رائے ہے کہ پاکستان میں مستحکم جمہوری نظام لانا ہے تو اس کے لئے شفاف الیکشن کو یقینی بنانا ہو گا اور الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر خود مختار بنانا ہو گا تا کہ الیکشن کے بعد ہونے والی دھاندلی کا الزام نہ لگائیں، عام انتخابات کے بعد ہارنے والوں کی طرف سے دھاندلی کا الزام جمہوری عمل کا حصہ ہے اور شکایات کا ازالہ ہونا چاہئے، ہمیں 11مئی 2013ءکے انتخابات کے حوالے سے دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے تناظر میں ایک غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن)کی تازہ ترین رپورٹ تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے با شعور حامیوں اور ووٹروں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے، اس تنظیم نے الیکشن 2013ءمیں بہت شہرت پائی ہے ان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ الیکشن 2013ءمیں قومی و صوبائی اسمبلی کی تقریبا ایک ہزار نشستوں پر الیکشن ہوئے، ان انتخابات کے بارے میں الیکشن کمیشن کے پاس 410شکایات آئیں۔ تحریک انصاف نے 58اور مسلم لیگ ن نے 66شکایات کی تھیں۔ تحریک انصاف کی 58میں سے 37حلقوں کی شکایتیں نمٹائی جا چکی ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی 66میں سے 38نمٹائی جا چکی ہیں۔ اس طرح تحریک انصاف کی زیر سماعت درخواستیں 21میں جبکہ مسلم لیگ ن کی 28زیر سماعت ہیں۔
گویا دھاندلی کی درج کروائی گئی زیادہ تر شکایتوں پر فیصلے آ چکے ہیں اور تھوڑا کام باقی ہے ،ایسے سوال یہ ہے کہ 35پنکچروں کی اب کیا حقیقت ہے؟ اور کیا زیر سماعت 21حلقوں کا نتیجہ قومی اسمبلی میں کوئی عددی اپ سیٹ کر سکتا ہے ، جواب یقیناً ناں ہی ہے لہٰذا بہتر یہی ہو گا کہ حکمران اور اپوزیشن جماعتیں ہوش سے کام لیں اور اس راہ پر چلیں جس پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ چل رہے ہیں، انہوں نے اصلاحات کے لئے حکومت کی مدت پانچ سے چار سال کرنے اور چیف الیکشن کمشنر کے لئے جج کی شرط ختم کرنے کے حوالے سے تجاویز دی ہیںان تجاویز کو بھی دیکھیں اور دیگر قابل عمل تجاویز لے کر آئیں جن کے ذریعے ثابت کریں کہ سیاستدان باہم مل کر جمہوری نظام چلا سکتے ہیں وزیر اعظم نواز شریف کو بحثیت سیاستدان مفاہمانہ پالیسی کے لئے سابق صدر آصف زرداری سے سبق سیکھنا چاہئے وگرنہ سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ملک بھی ایک مرتبہ پھر کئی برس پیچھے چلا جائےگا۔