شام کے بعد عراق نشانہ‘ ایران کو اکسانے کی کوشش!

شام کے بعد عراق نشانہ‘ ایران کو اکسانے کی کوشش!

دنیائے سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیںہوتا خاص کرجب بات بین الاقوامی سیاست کی ہو ،صدیوں کے پرانے دوست پل بھر میں دشمن اور پل بھر میں دوست بن جاتے ہیں، ایسا ہی کچھ معاملہ حالیہ دنوں میں ایران سعودی عریبہ اور مغربی قوتوں کے مابین پیش آیا۔جب برطانیہ نے تین سال کے طویل وقفے کے بعد ایران کے لئے اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کاا علان کیا۔برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ کے مطابق یہ ایسے اقدام کا نہایت موزوں وقت تھا،مزیدبرآں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مطابق عراق میں بڑھتا ہوا فساد برطانیہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔جس کے پیش نظر کٹھن اور دشوار فیصلے لینا پڑ سکتے ہیں۔برطانیہ کا یہ اعلان بہت سے لوگوں کے لئے حیرانی کاباعث توبنا لیکن وہ لوگ جو بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لئے ایسا فیصلہ حیرانی کا موجب نہیں ہے، اس تبدیلی کے اثرات اس وقت جنم لینا شروع ہوئے جب بعض عرب اور خلیجی ممالک نے مغربی قوتوں کے ساتھ ملکر شام میں اسد مخالف تنظیموں کو اسلحہ اورمالی وسائل فراہم کرنا شروع کئے۔ اب جبکہ یہی گروپ اور تنظیمیں عراق میں اسی پیسے کی مدد سے اپنے پائوں جمانے میں مصروف ہیں، مغربی میڈیا اور سیاست دان مسلمانوں میں اس فساد کو  مسترد کرنے سے قاصر ہیں حالانکہ کہ آئی سس (isis) جوکہ اس فساد کو ہوا دے رہا ہے وہی گروپ ہے جس کو مخصوص مسلک کی بنیاد پر مغرب نے میڈیا اور مالی وسائل کے ذریعے پروان چڑھا کر کئی برس تک شام کے صدر اسد مخالف انقلابی قوت کے طور پر پیش کیا اس تمام معاملے میں غور طلب بات یہ ہے کہ ایران جسے مغرب ایکسس آف ایول (axis of evil) مانتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ اب اس کا حاصل کر کے خطے کے مسالک میں ٹکراؤ  پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر آئی سس(isis)کیا ہے اور کہاں سے آئی ہے، آئی سس اسلامک سٹیٹ ان عراق اینڈ شام کا مخفف ہے، جو کہ ایک مخصوص مسلک کی حامل تنظیم ہے اور مشرق وسطیٰ میں مخصوص نظریات کی حامل ریاست کے قیام کے مقصد سے شام میں اس کی داغ بیل ڈالی گئی۔ آئی سس اسلامک سٹیٹ اینڈلیونت (ISIL) کے نام سے بھی جانی جاتی رہی ہے جہاں لیونت سے مراد لبنان، اسرائیل، اردن، ترکی، شام اور قبرص ہیں۔ آئی سس کی ابتدائی فنڈنگ یورپ‘ امریکہ‘ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے کی گئی جس کا اولین مقصد شام میں بشارالاسد کی حکومت گرانا تھا یہ تنظیم آگے جاکر عراق میں سرگرم ہو چکی ہے۔ اسی لئے اب اس ایران سے تصادم فضا میسر آگئی ہے۔
 بی بی سی کے مطابق آئی سس کے مالی ذخائر 2 ارب امریکی ڈالر کے قریب ہیں۔ موقع کوغنیمت جانتے ہوئے مغربی قوتوں نے اس ممکنہ تصادم میں ایران کی قوت کو استعمال میں لانا قبول کر لیا ہے برطانیہ کا ایران میں طویل عرصہ بعد اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنا شائد اسی جانب ایک قدم ہے۔ مبصرین کا خیال ہے ایران کو نہایت سوچ سمجھ کر اس معاملے میںآگے بڑھنا ہوگا اور اس کی بڑی وجہ امریکہ کا ماضی ہے کیونکہ امریکہ نے ماضی میں جب بھی کسی مسلمان ملک کے ساتھ جنگی مقاصد کی غرض سے شراکت داری کی اس  ملک کو سوائے تباہی کے کچھ نصیب نہ ہوا۔ اور شاید اب یہ باری ایران کی ہے جس کے ساتھ امریکہ یووز اینڈ ڈسپوز (USE AND DISPOSE) والا معاملہ برتے گا۔ یہاں پرایران کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنا ہوگئی کہ جب بھی امریکہ اور برطانیہ نے گذشتہ دہائی میں کئی ممالک میں امن کے قیام کی غرض سے چڑھائی کی،ان ممالک کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،اور ان کے نصیب میں بے چارگی ، افلاس اور بدامنی کے علاوہ کچھ نہیںآیا۔ عراق میں ہونے والی خانہ جنگی کے علاوہ افغانستان اور لیبیا کی مثالیں ہم سب کے سامنے ہیں۔