دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج کی کارروائیوں میں تیزی

دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج کی کارروائیوں میں تیزی

 شمالی وزیرستان ایجنسی  میں جاری آپریشن ضرب عضب میں جہاں ہر گذرتے دن کے ساتھ پاک فوج کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں میںجہاں شدت پسندوں کی ہلاکتوں میں اضافہ کی خبریں موصول ہو رہی ہیں وہیں علاقہ سے نکل مکانی کرنے والوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی جاری ہے،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 58663خاندانوں کو جنکی مجموعی تعداد 7 لاکھ 51ہزار9 سو 86 بنتی ہے کو رجسٹریشن دی گئی جن میں سے 3 لاکھ 23ہزار بچے ہیںگرچہ دوہری رجسٹریشن کی شکایات بھی آئی ہیں جن کا بروقت ازالہ کیا جا رہا ہے ، تاہم نادرا نے اب تک 25 ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن کی تصدیق مکمل کر لی گئی ہے آئی ڈی پیز  میں سے  75 فیصد بنوں ،10 فیصد لکی مروت ،7 فیصد ڈیرہ اسماعیل خان و ٹانک اور باقی 10 فیصد دوسرے علاقوں میں قیام پذیر ہیں،وزیر اعظم میاں نوا ز شریف کی ہدایت پر نقل مکانی کرنے والوں کو کیمپوں میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی، صحت کی سہولیات اور پینے کے پانی کی فراہمی سمیت ہرممکن سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ متاثرین میں امدادی رقوم کی تقسیم کیلئے جدید نظام اپنایا گیا ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے تقریبا 27 ہزار 664 خاندانوں کو 32 کروڑ 95 لاکھ روپے امداد فراہم کی گئی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے ساڑھے چار ہزار ٹن امدادی اشیا31 ہزار خاندانوں میں تقسیم کی گئی ہیں، اگرچہ نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد بنوں میں مقیم ہے تاہم ڈیرہ اسما عیل خان، کرک، لکی، ہنگو اور دیگر اضلاع میں بھی متاثرین اپنے عزیز و اقربا یا کرائے کے مکانوں میں مقیم ہیں، بنوں کے علاوہ دیگر اضلاع منتقل ہونے والے متاثرین کو اگرچہ غیر سرکاری اداروں کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے امدادکی فراہمی کے حوالے سے شکایات کی جا رہی ہیں، نقل مکانی کرنے والوں کے لیئے فلاح انسانیت فائونڈیشن روز اول سے سرگرم ہے اور فائونڈیشن کی جانب سے  تیار خوارک کی فراہمی کے علاوہ ، فوڈ آئیٹمز، نان فوڈ ائٹمز بھی دئے جا رہے ہیں ، میڈیکل کمپ بھی قائم کئے گئے ہیں اورایمولینس کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، ایسی ہی خدمات الخد مت فائونڈیشن کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر بنوں اور لکی مروت کی مقامی یونٹوں کی جانب سے بھی امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں، وفاقی وزیر اکرم خان درانی کی جانب سے متاثرین کی شکایات سے فوری طور پر وزیر اعظم سیکریٹریٹ کو آگاہ کیا گیا جہاں سے شکایات کے ازالہ کے لیئے فوری احکامات جاری کردئے گئے، پاک فوج کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور متاثرین کی جانب سے فوجی جوانوں کے تعاون کو سراہا بھی جا رہا ہے، صوبائی حکومت بھی اس اہم معاملہ میں بھرپور اور سنجیدگی سے سرگرم ہے ، وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک دو مرتبہ خود بنوں میں آئی ڈی پیز کیمپوں کا دورہ کرچکے ہیں جبکہ صوبائی وزیر مال سردار علی امین خان گنڈہ پور اور پی ٹی آئی کے مقامی ایم پی ایز متاثرین کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور مشکلات کے فوری حل کے لیئے بنوں میں ہی مقیم ہیں، عمران خان فائونڈیشن کی جانب سے  بنوں میںآئی ڈی پیز کیمپوں کے قریب 4 سب مرسیبل ٹیوب ویل اور 20 ہینڈ پمپ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ آئی ڈی پیز کے علاج کیلئے زنانہ و مردانہ رضا کار ڈاکٹر بھیجنے کا اعلان بھی کیا اور بنوں کے ایک پورے ہسپتال کو چلانے کی پیشکش بھی کی گئی ہے،گذشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بنوں میں قبائلی جرگہ اور متاثرین سے ملاقات کی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بنوں میں شمالی وزیر ستان کے آئی ڈی پیز کے علاج اور صحت کی سہولیات کیلئے فوری طور پر پانچ ارب روپے جاری کرے وفاقی حکومت یہ رقم جلد ازجلد خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کرے تاکہ متاثرین کی ہنگامی بنیادوں پر علاج ، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، پیرامیڈکس، طبی آلات اور ادویات کی قلت دور کی جا سکے انہوں نے کہا کہ بنوں کے علاوہ لکی مروت، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر اضلاع میں بھی آئی ڈی پیز کی صحت اورپینے کے پانی کی ضروریات ہنگامی بنیادوں پر پوری کی جا سکیں بصورت دیگر بیماریاں پھوٹنے اور کوئی بڑا انسانی المیہ رونما ہونے کا خدشہ ہے جسمیں وفاقی حکومت اتنی ہی ذمہ دار ہو گی انہوں نے بنوں میں  پی ٹی آئی کے زیر اہتمام کنٹرول روم اور شکایات سیل  کا بھی افتتاح کیا،  خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، سپیکر صوبائی اسمبلی الحاج اسد قیصر، وزیر مال علی امین گنڈا پور، وزیر تعلیم محمد عاطف خان ، پی ٹی آئی کے دیگر مرکزی رہنمائوں کے ہمراہ بنوں میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بنوں میں لاکھوں آئی ڈی پیز اور انکی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مقامی ہسپتال انکے علاج اور صحت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کی تعداد 7 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ مقامی آبادی کی تعداد 10 لاکھ ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے صحت اور آبنوشی کے علاوہ امن و امان کی صورتحال بھی توجہ طلب بن چکی ہے انہوں نے آئی ڈی پیز بالخصوص انکے بچوں کے مسائل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور پاک فوج کے درمیان قریبی معاونت ہونی چاہیے تاکہ انہیں کم ازکم صحت کی بہترین سہولیات مہیا ہوں کیونکہ شمالی وزیر ستان کے یہ متاثرین وسیع ترقومی مفاد کی خاطر ہجرت کرنے اور قربانیاں دینے پر مجبور ہوئے ہیں عمران خان نے وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ سے مزید مطالبہ کیا کہ بنوں میں آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال اور امن و امان پر کنٹرول کیلئے کم ازکم 500 ایف سی اہلکار فوری طور پر واپس کرے کیونکہ خیبرپختونخو امیں پولیس کی نفری پہلے ہی بہت کم ہے انہوں نے بنوں میں آئی ڈی پیز کیلئے پاسپورٹ دفتر اور نادراسنٹر کھولنے نیز آئی ڈی پیز کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی بنوں میں ہی ادائیگی کے انتظامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا اسی طرح انہوں نے علاقے کے ہسپتالوں کو لوڈ شیڈنگ سے مستشنی کرنے کا مطالبہ بھی کیا قومی اور بین الاقوامی اور فلاحی اداروں کو این او سی جاری کرنے سے متعلق معاملے پر انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اس سلسلے میں پاک فوج کے سربراہ سے بات کریں گے تاکہ آئی ڈی پیز کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر این جی اوز کی زیادہ سے زیادہ معاونت حاصل کی جائے جنہیں ایمرجنسی بنیادوں علاج، خوراک ، آبنوشی ، صحت عامہ اور دیگر اُمور کا کافی تجربہ بھی ہوتا ہے اس موقع پر متاثرین کی جانب سے عمران خان کو آئی ڈی پیز کوعالمی ادارہ خوراک کی جانب سے ناقص آٹا مہیا کرنے کی شکایت  کی گئی جس کانوٹس لیتے ہوئے انہوں نے  متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین کو معیاری غذائی اشیائی کی فراہمی یقینی بنائے جائے اس موقع پر انہیں مقامی انتظامیہ کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ  آئی ڈی پیز کیلئے راشن کی تقسیم کے مراکز کی تعداد 2 سے 9 تک بڑھا دی گئی ہے اب 28616 خاندانوں میں فی خاندان 12ہزار وپے ماہوار کے حساب سے 34کروڑ 33لاکھ 92 ہزار روپے تقسیم کئے گئے ہیں، متاثرین کو نقد ادائیگی کے بجائے زونگ سم کے ذریعے ادائیگی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے اب تک 20ہزار سمز ایکٹویٹ کردیئے گئے ہیں  عمران خان نے بریفینگ کے دوران سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ایک مشترکہ نظام کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا جن کے ارکان میں صوبائی وزیر مال علی امین گنڈاپور اورپی ٹی آئی کے صوبائی جنرل خالد مسعود اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی منگل سے بنوں میں اپنی موجودگی میں ٹیمیں بنا کر پاک فوج ، ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ سمیت تمام اداروں قریبی رابطے اور نگرانی کے فرائض ادا کرے گی تاکہ آئی ڈی پیز کوصحت، خوراک، پانی اور دیگر تمام بنیادی سہولیات بروقت اور منظم
 انداز میں مہیا ہوں ۔