حکمران جماعت میں گروہ بندی ”قیاس آرائیاں مسترد“

حکمران جماعت میں گروہ بندی ”قیاس آرائیاں مسترد“

نواز رضا
گذشتہ ہفتے قومی سیاسی افق پر پیش آنے والا سب سے اہم واقعہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان ’’صلح‘‘ کا تھا جو حکومت میں موجود کچھ لوگوں کو ابھی تک ’’ہضم ‘‘ نہیں ہو پا رہی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے تازہ ترین بیان سے بات واضح ہوتی ہے کہ ’’ سب اچھا ہے‘‘ کی اپنی جگہ اہمیت ہے مگر ابھی تک کہیں نہ کہیں خرابی بھی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کو بیان دینے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ اپوزیشن کے حلقوں کو ابھی تک اس ’’صلح‘‘ پر یقین نہیں آرہا وہ حیران وششدر ہیں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان کیونکر ’’صلح‘‘ ہو گئی ہے کچھ لوگ تو اس لگائی گئی آگ پر اپنا پکوان تیار کرنا چاہتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جیسی’’دیو مالائی‘‘ شخصیت نے نہ صرف پارٹی کو کسی بڑے ’’حادثے‘‘ سے بچا لیا ہے بلکہ پارٹی کے اندر اور باہر لوگوں کی ان سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے جو نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان حائل خلیج کو بڑھانا چاہتے تھے۔ جاتی عمرا رائے ونڈ میں وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی حالیہ ملاقاتوں میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دونوں کے درمیان فاصلے ختم ہو گئے ہیں ۔ سیاسی حلقوں میں کچھ عرصے سے چوہدری نثار علی خان اور سینیٹر محمد اسحقٰ ڈار کے درمیان کشیدہ تعلقات کا تذکرہ ہو رہا تھا لیکن چوہدری نثار علی خان نے ان کے بارے میں اپنے مثبت جذبات کا اظہار کرکے ’’اختلاف‘‘ کے باب کو ہی بند کر دیا ہے تاہم انہوں ایک وفاقی وزیر کا نام لئے بغیر اپنے دل کی بات کہہ دی اور بیچ چوراہے میں ’’ بھانڈہ ‘‘ پھوڑ دیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے چوہدری نثار علی خان ’’صلح‘‘ کے باوجود ایک وزیر سے تعلقات کار بحال کرنے کے لئے تیار نہیں وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی ان کے مزاج سے بخوبی واقف ہیں لہٰذا انہوں نے اس وزیر سے صلح کرنے پر اصرار نہیں کیا ۔ پارٹی میں پیدا ہونے والی اونچ نیچ میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بالعموم ساتھیوں کے لئے ’’ریسکیو1122‘‘ بن کر آتے ہیں ۔اب کی بار بھی انہوں نے پارٹی کے’’ تماشا‘‘ بننے سے پہلے ہی تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کروا دئیے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان ’’ناراضی‘‘ موضوع گفتگو بنی رہی ہے جس کے ختم ہونے کے بارے میں لوگوں کو ابھی تک یقین نہیں آرہا اورابھی تک ان سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔و فاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد اسلام آباد واپس آئے تو ان مصالحانہ کوششوں کے بارے میں عجیب وغریب باتیں کی جانے لگیں ۔جس کے بعد چوہدری نثار علی خان نے ایک بیان جاری کر کے اس کی دوٹوک وضاحت کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے ہونیوالی ملاقاتوں کامحور و مقصد قومی ،سیاسی اور ملکی معاملات تھے۔ انہوں نے کسی وزیر کے بار میں شکایت کی ہے اور نہ ہی ان کے اسحاق ڈارسمیت کسی سے تعلقات خراب ہیں۔ تاہم ایک’’ وزیر‘‘ اپنی ذاتی تشہیر اور اپنے بغض کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے چھپ کر کارروائیاں کر رہا ہے اس کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ۔ مجھے اس دن تشویش ہو گی جب کسی با کر دار ،سچے اور ایماندار شخص کی طرف سے میری مخالفت یا مجھ پر تنقید کی جائے گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہو اور میں اپنے ذاتی مسائل لے کر بیٹھ جائوں؟ چوہدری نثار علی خان نے کسی وزیر کا نام لیے بغیر اپنا مافی الضمیر عوام کے سامنے رکھ دیا ہے تاہم ابھی تک سیاسی حلقوں میں مذکورہ وزیر کے نام کے بارے میں قیاس آرائیاںکی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی وزیر میری وزارت میں مداخلت کر رہا ہے اور نہ ہی کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر نہ صرف کابینہ بلکہ پوری پارلیمانی پارٹی سے انتہائی خوشگوارمیرے تعلقات ہیں۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہارکیا کہ’’ اس سلسلے میں بار بار وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا نام لیا جاتا رہا ہے ۔ ہمارے درمیان کوئی غلط فہمی تو درکنار باہمی عزت و احترام کا رشتہ پایا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہی ماحول باقی کابینہ کے ارکان کے حوالے سے ہے۔چوہدری نثار علی خان نے اس تاثر کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے کہ پارٹی میں ایک سے زیادہ گروپ بن چکے ہیں ۔چوہدری نثار علی خان کو یہ بیان دینے کی ضرورت اس لئے پیش آئی شاید پارٹی کے اندر کچھ عناصر نے ابھی تک ’’صلح‘‘ کو دل سے قبول نہیں کیا۔ چوہدری نثار علی خان کا بیان مسلم لیگی قیادت کے لئے لمحہ فکریہ ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ(ن)کا ہائوس ان آرڈر نہیں ہے دوسری طرف وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت قائم ہوئے ایک سال ہی ہوا ہے تحریک انصاف کی قیادت نواز شریف حکومت گرانے کے لئے سرگرم عمل ہو گئی ہے ۔اس وقت عمران خان موجودہ حکومت کے لئے سب سے بڑے سیاسی چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری سب کچھ کینیڈا میں چھوڑ کر انقلاب برپا کرنے کے لئے پاکستان واپس آگئے ہیں ایسی صورت حال میں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جہاں چوہدری نثار علی خان کے ساتھ صلح جوئی کے جذبے سے کام لیا ہے وہاں مسلم لیگ(ن) کا’’ ہائوس ان آرڈر ‘‘ کرنے کے لئے ناراض مسلم لیگی رہنمائوں سے ملاقاتیں بھی شروع کر دی ہیں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل قیصر محمود شیخ اور سابق سیکریٹری جنرل سرانجام خان کو گلے لگا یا ہے اور انہیں پارٹی میں سرگرم کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دونوں رہنمائوں نے ابتلا کے دور میں مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہیں چھوڑا پچھلے ایک ماہ کے دوران وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان’’ ناراضی ‘‘ حکومت گرانے کے لئے سرگرم قوتوںکے حوصلے بلند کر دئیے تھے لیکن اسلام آباد میں’’ عمران خان شو‘‘ کو ناکام بنانے کے ’’بڑے کھلاڑی‘‘ کا کردار چوہدری نثار علی خان نے ادا کرنا تھا ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان لاہور میں صلح کے بعد وزیر اعظم ہائوس میں پہلی ملاقات ہوئی ہے جس میںوفاقی وزیر داخلہ کو 14اگست2014ء کے حوالے سے اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کو عمران خان کے ’’سونامی مارچ ‘‘ اور طاہر القادری کے انقلاب کا راستہ روکنے کے لئے فری ہینڈ دے دیا گیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان پیدا ہونے والی ’’ناراضی‘‘ کے اصل اسباب شاید ہی کسی کو معلوم ہوں حتیٰ کہ وفاقی وزراء کی اکثریت بھی اس سے آگاہ نہ ہوگی ۔خود وزراء ایک دوسرے سے اختلافات کے بارے میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے پائے جاتے ہیں اگر کسی کو تھوڑی بہت سن گن ہو بھی تو وہ کوئی بات کرنے میں محتاط ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے درمیان ’’ ناراضی‘‘ دور کرانے کی پارٹی کے کسی لیڈر کو جرأت نہ ہوئی یہ کام صرف میاں شہباز شریف ہی کر سکتے تھے جنہوں نے کئی روز کی شبانہ روز کوششوں کے بعد ’’سرد مہری‘‘ کو ’’ گرمجوشی‘‘ میں تبدیل کر دیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان پچھلے 30سال سے ’’سیاسی رفاقت ‘‘ چلی آرہی ہے جو گہری دوستی میں تبدل ہوچکی ہے۔ لہذا اس دوستی میں ناراضی کا ہونا ایک معمولی بات ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ان کی 30سالہ دوستی میں پانچ چھ بار ناراضی ہوئی لیکن خلوص پر مبنی تعلقات میں پیش آنے والے ایسے واقعات دونوں کے درمیان کبھی کشیدگی کا باعث نہ بن سکے۔ میاں شہباز شریف دیرینہ ساتھیوں کے مابین تعلقات میں باہمی احترام کو بروئے کار لانے میں کامیاب رہے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان میدان سیاست میں ’’بے لچک ‘‘ شخصیت کے مالک ہیں ۔وہ اپنے موقف پر کمپرومائز کئے بغیر تمام امور چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔شاید ان کا یہی انداز سیاست کچھ لوگوں کویلئے قابل قبول نہیں ۔