انسداد پولیو مہم مخصوص جگہوں تک محدود

انسداد پولیو مہم مخصوص جگہوں تک محدود

راجہ عابدپرویز
abidrajput1@gmail.com
   شمالی وزیر ستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکی ہے، خیال کیا جارہا ہے کہ اگلے دو ہفتوںمیں جاری آپریشن مکمل ہوجائے گا،پاکستان کی تاریخ میں متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنیوالوں( آئی ڈی پیز) کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے ، تازہ ترین اعدادشمار کے مطابق آئی ڈی پیز کی تعداد 8لاکھ 52ہزار 495ہوگئی ہے جن میں سے 3لاکھ 72ہزار 562بچے اور 2لاکھ 52ہزار 727خواتین شامل ہیں، شمالی وزستان کے آئی ڈی پیز کے لئے بنوں کے مضافات بقہ خیل میں کیمپ قائم کیا گیا ہے،مگر اس کیمپ میں 40سے 50خاندانوں کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔ باقی لوگ بنوں ،لکی مروت، ٹانگ،پشاور اور سوات سمیت خیبر پختون خواہ سمیت ملک کے دیگر علاقوںمیں پھیل گے ہیں، یہ لوگ اپنے رشتہ داروں اور کرایہ کے مکانوں میں رہ رہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کاکوئی ڈیتا  حکومت کے پاس نہیں کہ ان لوگوںنے کہاں کہاں رہائش اختیار کی ہے، حکومتی اعدادوشمار کے مطابق فاٹا میں پولیو کے ابتک 68کیسز سامنے آچکے ہیں، پولیو ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو شدید مشکلات درپیش ہیں، پاکستانیوں پر سفر سے قبل پولیو کا سرٹیفیکیٹ رکھنے کی پابندی لگ چکی ہے، جبکہ ملک میں سرمایہ کاری سمیت دیگر معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے،شمالی وزیر ستان ہی ایک ایسا علاقہ ہے جو کہ پولیو کی نرسری بن چکاہے،حکومت اگر اس علاقے سے پولیو کا قلع قمع کرلے تو اسے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بعد دوسری بڑی کامیابی قراردیا جاسکتاہے، پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہوگی کہ وہ ایک وقت میں دو بڑی جنگوں میں کامیابی حاصل کرلے، مگر اس کے لئے سخت محنت اور پلاننگ کی ضرور ت ہے، آئی ڈی پیز میں شامل بچوں کو مختلف پوائنٹس بنا کر پولیو کے قطرے پلائے گے ،مگر اس کے بعد یہ لوگ خیبر پختون خوا، سمیت ملک کے دیگر علاقوںمیں پھیل چکے ہیں ،جوکہ پولیو کے پھیلا کا سبب بھی بن سکتے ہیں، شمالی وزیر ستان سے آئے ہوئے ساڑھے تین لاکھ بچوںکو آیا حکومت پولیو کے قطرے پلانے میں کامیاب ہوئی ہے یا پھر پہلے کی طرح اس بار بھی کاغذی مہم چلائی گئی، اگر ایسا ہوا تو پھر خدشہ ہے کہ پہلے جو بیماری ملک کے صرف ایک ہی علاقے میں محدود ہوکر رہ گئی تھی اب دیگر علاقوںمیں بھی پھیل جائے گی،اس حوالے سے وفاقی اور کے پی کے حکومت کو پیش بندی کرنا ہوگی ، ڈبیلو ایچ او اس بات کی سفارش کر چکا ہے کہ ان تمام علاقوںمیں پولیو کی مہمات کا آغاز کردیا جائے جہاں جہاں آئی ڈی پیز نے زیادہ یا کم تعداد میں رہائش اختیار کرلی ہے، ان مہمات میں بلا تخصیص تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں تاکہ جن بچوں کو بیماری منتقل ہونے کا خطرہ ہے انہیں بھی محفوظ بنایا جاسکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو پولیو کی اس موذی بیماری کی دلدل میں پھنسانے کی ذمہ داری امریکن سی آئی اے پرہے ،جس کی ایماء پر ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی پولیو مہم چلاکر اسامہ بن لادن تک پہنچا اور پھر اس کی اطلاع امریکہ کو دی، یہی وجہ ہے کہ آج تک فاٹا سمیت خیبر پی کے کے تمام پختون پولیو کے مہم کے خلاف ہوگئے  اور پولیو ورکروں پر اتنے حملے ہوئے کہ بالآخر حکومت کو ان علاقوںمیں پولیو مہمات کو بند کرنا پڑا،اس لئے اب اس بات کی ضرورت ہے پولیو کے مضمرات سے علمائے دین ، سیاسی نمائندوں اور علاقے کے عمائدین کو آگاہ کرتے ہوئے ان سے پولیو کے خاتمہ کی مہمات میں تعاون حاصل کیا جائے۔ یہی لوگ معاشرے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوںکو دور کرنے میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں، انہیں پولیو پروگراموںمیں اہم کردار دیا جائے اور انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں تاکہ وہ اپنے اثر رسوخ سے اس اہم کام کو آسان بنائیں ۔ پاکستان پولیو امراض کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہے اور آنے والے وقت میں ان میں مزیداضافہ ہورہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت روارئتی طریقہ کار ترک کرکے ہنگامی اور انقلابی اقدامات اٹھانے ہونگے جس سے اس بیماری کو جڑ سے ختم کیا جاسکے، بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان تین ملکوںمیں سب سے آگے ہے جس میں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے،پولیو کے خاتمہ کے لئے دنیا نے پاکستان پر بارش کی طرح ڈالر برسائے مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ،حکومتوں کی نااہلی اور چشم پوشی سے پولیو مہمات کی آڑ میں کروڑوں روپے کمائے گے ، ایک وقت تھا جب پولیو کے خاتمہ کی مہم کو اس میں شامل لوگوںنے آمدنی کا مستقبل ذریعہ بنایا ہواتھا،حکومت کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب دنیا نے تو محنت کرکے پولیو کو اپنے ملکوںسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور پاکستان وہیں کا وہیں کھڑا رہا ، پھر ہاتھ پائوں مارنے سے کیا فائدہ تھا ،جب تمام دنیا ہی پاکستان کی ناکامی پر امداد دینے کے بجائے الٹا پابندیاں لگانے لگی،اس سخت صورتحال میں اب بھی اگر پاکستان حکومت پولیو کوملک سے ختم کرنا چاہے تو بھی بچت ممکن ہے،مگر اس کے لئے سخت محنت اور لگن کی ضرور ت ہے، مجھ سمیت میڈیاکی متعدد رپورٹس نے حکومت کو ان مشکلات  کے بارے میں قبل از وقت آگاہ کیا مگر کسی نے اس اہم معاملے کی طرف توجہ نہ دی جس کی وجہ سے ملک پولیو کے حوالے سے شدید بحران اور مشکل میں چلا گیاہے، اب بھی ،ملکی اور بین الاقوامی آرگنائزیشنز اور لوگ حکومت کو جو تجاویز دے رہے ہیں پر عمل کرلیا جائے تو بھی بہت جلد اس مصیبت سے جان چھڑائی جاسکتی ہے، مگر اب دیکھنا ہے کہ شمالی وزیر ستان سے آئے ہوئے آئی ڈی پیز کے حوالے سے حکومت اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کرتی ہے اور اگر اب بھی تمام دعوئوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو پھر آنے والے وقت کی سختی کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں،جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پرعائد ہوگئی۔