فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذاب

عجائب القرآن----علامہ عبد المصطفٰے

جب حضرت موسیٰ ؑکا عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا تو جادوگر سجدے میں گر کر ایمان لائے مگر فرعون اور اس کے متبعین نے اب بھی ایمان قبول نہیں کیا بلکہ فرعون کا کفر اور اس کی سرکشی اور زیادہ بڑھ گئی اور اس نے بنی اسرائیل کے مومنین اور حضرت موسیٰ ؑ کی دل آزاری اور ایذا رسانی میں بھرپور کوشش شروع کر دی اور طرح طرح سے ستانا شروع کر دیا۔ فرعون کے مظالم سے تنگ دل ہوکر حضرت موسیٰ ؑ نے خداوند قدوس کے دربار میں اس طرح دعا مانگی کہ: ’’اے میرے رب! فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ہے لہٰذا انہیں ایسے عذابوں میں گرفتار فرما لے جو ان کیلئے سزا وار ہو اور میری قوم اور بعد والوں کیلئے عبرت ہو۔‘‘
حضرت موسیٰ ؑ کی دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلط فرما دیا۔ وہ پانچوں عذاب یہ ہیں۔
1۔ طوفان:
ناگہاں ایک ابر آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ پھر انتہائی زوردار بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا اور وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں تک آگیا۔ ان میں سے جو بیٹھا وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ نہ ہل سکتے تھے نہ کوئی کام کر سکتے ، ان کی کھتیاں اور باغات طوفان کے دھاروں سے برباد ہو گئے۔ سنیچر تک مسلسل سات روز تک وہ لوگ اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجودیکہ بنی اسرائیل کے مکانات فرعونیوں کے گھروں سے ملے ہوئے تھے مگر بنی اسرائیل کے گھروں میں سیلاب کا پانی نہیں آیا اور وہ نہایت ہی امن‘ چین کے ساتھ اپنے گھروں میں رہتے تھے۔ جب فرعونیوں کو اس مصیبت کے برداشت کرنے کی تاب و طاقت نہ رہی اور وہ بالکل ہی عاجز ہو گئے تو ان لوگوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے دعا فرمایئے کہ یہ مصیبت ٹل جائے تو ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے پاس بھیج دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا مانگی تو طوفان کی بلا ٹل گئی اور زمین میں ایسی سرسبزی و شادابی نمودار ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی بھی دیکھنے میں نہ آئی تھی۔ کھیتیاں بہت شاندار ہوئیں اور غلوں اور پھلوں کی پیداوار بے شمار ہوئی۔ یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے کہ یہ طوفان کا پانی تو ہمارے لئے بہت بڑی نعمت کا سامان تھا۔ پھر وہ اپنے عہد سے مکر گئے اور ایمان نہیں لائے اور پھر سرکشی اور ظلم و عصیان کی گرم بازاری شروع کر دی۔
2۔ ٹڈیاں:
ایک ماہ تک تو فرعونی نہایت عافیت سے رہے‘ لیکن جب ان کا کفر و تکبر اور ظلم وستم پھر بڑھنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قہر و عذاب کو ٹڈیوں کی شکل میں بھیج دیا کہ چاروں طرف سے ٹڈی دل کے بادل جھنڈ کے جھنڈ آگئے ۔جو ان کی کھیتوں اور باغوں کو یہاں تک کہ ان کے مکانوں کی لکڑیوں تک کو کھا گئیں اور فرعونیوں کے گھروں میں یہ ٹڈیاں بھر گئیں جس سے ان کا سانس لینا مشکل ہو گیا ۔مگر بنی اسرائیل کے مومنین کے کھیت اور باغ اور مکانات ان ٹڈیوں کی یلغار سے بالکل محفوظ رہے۔ یہ دیکھ کر فرعونیوں کو بڑی عبرت ہو گئی اور آخر اس عذاب سے تنگ آکر پھر حضرت موسیٰ ؑکے آگے عہد کیا کہ آپ اس عذاب کے رفع ہونے کیلئے دعا فرما دیں تو ہم لوگ ضرور ایمان قبول کرلیں گے اور بنی اسرائیل پر کوئی ظلم و ستم نہ کریں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے ساتویں دن یہ عذاب بھی ٹل گیا اور یہ لوگ پھر ایک ماہ تک نہایت ہی آرام و راحت میں رہے‘ لیکن پھر عہد شکن کی اور ایمان نہیں لائے اور پھر ان لوگوں کے کفر اور عصیاں و طغیان میں اضافہ ہونے لگا اور حضرت موسیٰ ؑ اور مومنین کو ایذائیں دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہماری جو کھیتیاں اور پھل بچ گئے ہیں‘ وہ ہمارے لئے کافی ہیں‘ لہٰذا ہم اپنا دین چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے۔
3۔گھن:
غرض ایک ماہ کے بعد پھر ان لوگوں پر ’’قمل‘‘ کا عذاب مسلط ہو گیا۔ بعض مفسرین کا بیان ہے کہ وہ گھن تھا جو ان فرعونیوں کے اناجوں اور پھلوں میں لگ کر تمام غلوں اور میووں کو کھا گئے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ایک چھوٹا سا کیڑا تھا جو کھیتوں کی تیار فصلوں کو چٹ کر گیا اور ان کے کپڑوں میں گھس کر ان کے چمڑوں کو کاٹ کر انہیں مرغ بسمل کی طرح تڑپانے لگا۔ یہاں تک کہ ان کے سر کے بالوں‘ داڑھی مونچھوں‘ بھنووں‘ پلکوں کو چاٹ چاٹ کر اور چہروں کو کاٹ کاٹ کر انہیں چیچک رو بنا دیا۔ یہ کیڑے ان کے کھانوں‘ پانیوں اور برتنوں میں گھسے پڑے تھے جس سے وہ لوگ نہ کچھ کھا سکتے تھے نہ کچھ پی سکتے تھے۔ نہ لمحہ بھر کیلئے سو سکتے تھے‘ یہاں تک کہ ایک ہفتہ میں اس قہر آسمانی و بلا ئے ناگہانی سے بلبلا کر یہ لوگ چیخ پڑے اور پھر حضرت موسیٰ ؑ کے حضور حاضر ہوکر دعا کی ، درخواست کرنے لگے اور ایمان لانے کا عہد و بچن دینے لگے۔ چنانچہ آپ نے ان لوگوں کی بے قراری اور گریہ و زاری پر رحم کھا کر دعا کر دی اور یہ عذاب بھی رفع دفع ہو گیا‘ لیکن فرعونیوں نے پھر اپنے عہد کو توڑ ڈالا اور پہلے سے بھی زیادہ ظلم وعدوان پر کمر بستہ ہو گئے پھر ایک ماہ بعد ان لوگوں پر مینڈک کا عذاب نازل ہو گیا۔
(جاری ہے)