حکایات صحابہ

مولانا محمد زکریا

___________

حضرت عائشہؓ کا صدقہ
حضرت عائشہؓ کی خدمت میں دو گونین درہموں کی بھر کر پیش کی گئیں جن میں ایک لاکھ سے زیادہ درہم تھے۔ حضرت عائشہؓ نے طباق منگایا اور ان کو بھر بھر کر تقسیم فرمانا شروع کر دیا اور شام تک سب ختم کر دئیے۔ ایک درہم بھی باقی نہ چھوڑا۔ خود روزہ دار تھیں، افطار کے وقت باندھی سے کہا کہ افطار کے لئے کچھ لے آئو۔ وہ ایک روٹی اور زیتون کا تیل لے آئیں اور عرض کرنے لگیں کیا اچھا ہوتا کہ ایک درہم کا گوشت ہی منگا لیتیں آج ہم روزہ گوشت سے افطار کر لیتے۔ فرمانے لگیں، اب طعن دینے سے کیا ہوتا ہے۔ اس وقت یاد دلاتی تو میں منگا لیتی ہے۔
حضرت عائشہؓ کی خدمت میں اس نوع کے نذرانہ امیر معاویہؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ کی طرف سے پیش کئے جاتے تھے۔ کیونکہ وہ زمانہ فتوحات کی کثرت کا تھا۔ مکانوں میں غلہ کی طرح سے اشرفیوں کے انبار پڑے رہتے تھے اوراس کے باوجود نہایت سادہ اور معمولی طریقے سے زندگی گزاری جاتی تھی۔ حتیٰ کہ افطار کے واسطے بھی ماما کے یاد دلانے کی ضرورت تھی۔ پچیس ہزار روپے کے قریب تقسیم کر دیئے اور یہ خیال بھی نہ آیا کہ اپناروزہ ہے اور گوشت بھی منگانا ہے آج کل اس قسم کے واقعات اتنے دور ہو گئے ہیں کہ خود واقعہ کے سچا ہونے میں تردد ہونے لگا۔ لیکن اس زمانہ کی عام زندگی جن لوگوں کی نظر میں ہے۔ ان کے نزدیک یہ اور اس قسم کے سینکڑوں واقعات کچھ بھی تعجب کی چیز نہیں۔ خود حضرت عائشہؓ کے بہت سے واقعات اس کے قریب قریب ہیں ایک دفعہ روزہ دارتھیں اور گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایک فقیر نے آ کر سوال کیا، خادمہ سے فرمایا کہ وہ روٹی اس کودے دو۔ اس نے عرض کیا کہ افطار کے لئے گھر میں کچھ بھی نہیں فرمایا۔ کیا مضائقہ ہے۔ وہ روٹی اس کو دے دو اس نے دے دی ۔ ایک مرتبہ ایک سانپ ماردیا۔ خواب میں دیکھا کوئی کہتا ہے کہ تم نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا فرمایا : اگر وہ مسلمان ہوتا تو حضورؓ کی بیویوں کے یہاں نہ آتا۔ اس نے کہا مگر پردے کی حالت میں آیا تھا۔ اس پر گھبرا کر آنکھ کھل گئی اور بارہ ہزار درہم جوایک آدمی کا خون بہا ہوتے ہیں صدقہ کئے عروۃؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ ستر ہزار درہم صدقہ کئے اور اپنے کرتہ میں پیوند لگ رہا تھا۔

حضرت خنساؓء کی اپنے چار بیٹوں سمیت جنگ میں شرکت
حضرت خنساؓء مشہور شاعرہ ہیں۔ اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ساتھ مدینہ آ کر مسلمان ہوئیں ابن اثیر کہتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی عورت نے ان سے بہتر شعر نہیں کہا نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد ۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں 16ھ میں قادسیہ کی لڑائی ہوئی جس میں خنسائؓ اپنے چاروں بیٹوں سمیت شریک ہوئیں۔ لڑکوں کو ایک دن پہلے بہت نصیحت کی اور لڑائی کی شرکت پر بہت ابھارا، کہنے لگیں کہ میرے بیٹو! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے ہو اور اپنی ہی خوشی سے تم نے ہجرت کی۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہو، اسی طرح ایک باپ کی اولاد ہو۔ میں نے نہ تمہاے باپ سے خیانت کی نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا نہ میں نے تمہاری شرافت میں کوئی دھبہ لگایا۔ نہ تمہارے نسب کو میں نے خراب کیا۔ تمہیں معلوم ہے کہ جل شانہ نے مسلمانوں کے لئے کافروں سے لڑائی میں کیا کیا ثواب رکھا ہے۔ تمہیں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آخرت کی باقی رہنے والی زندگی دنیا کی فنا ہو جانے والی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔ اللہ جل شانہ کا پاک ارشاد ہے
(ترجمہ)’’ اے ایمان والو تکالیف پر صبرو (اور کفار کے مقابلہ میں) صبر کرو اور مقابلہ کے لئے تیار رہو، تاکہ تم پورے کامیاب ہو‘‘۔ لہذا کل صبح کو جب تم صحیح و سالم اٹھو تو بہت ہوشیاری سے لڑائی میں شریک ہو، اور اللہ تعالیٰ سے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد مانگتے ہوئے بڑھو اور جب تم دیکھو کہ لڑائی زور پر آ گئی ہے اور اس کے شعلے بھڑکنے لگے تو اس کی گرم آگ میں گھس جانا اور کافروں کے سردار کا مقابلہ کرنا انشاء اللہ جنت میں اکرام کے ساتھ کامیاب ہو کر رہو گے۔ چنانچہ جب صبح کو لڑائی زوروں پر ہوئی تو چاروں لڑکوں میں سے ایک ایک نمبروار آگے بڑھتا تھا اور اپنی ماں کی نصیحت کو اشعار میں پڑھ کر امنگ پیدا کرتا تھا اور جب شہید ہو جاتا تھا تو اسی طرح دوسرا بڑھتا تھا اور شہید ہونے تک لڑتا رہتا تھا بالآخر چاروں شہید ہوئے اور جب ماں کو چاروں کے مرنے کی خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ان کی شہادت سے مجھے شرف بخشا ۔ مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کی رحمت کے سایہ میں ان چاروں کے ساتھ میں بھی رہوں گی۔ ایسی بھی اللہ کی بندی مائیں ہوتی ہیں جو چاروں شہید ہو جائیں اور ایک ہی وقت میں سب کام آ جائیں تو اللہ کا شکر ادا کریں۔

حضرت ابن زبیر ؓ کا حضرت عائشہ کو صدقہ سے روکنا
حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت عائشہؓ کے بھانجے تھے اور وہ ان سے بہت محبت فرماتی تھیں انہیں نے ہی گویا بھانجے کو پالا تھا۔ حضرت عائشہ کی اس فیاضی سے پریشان ہو کر کہ خود تکلیفیں اٹھائیں اور جو آئے فوراََ خرچ کر دیں۔ ایک دفعہ کہہ دیا کہ خالہ کا ہاتھ کس طرح روکنا چاہیے۔ حضرت عائشہ کو بھی فقرہ پہنچ گیا اس پر ناراض ہو گئیں کہ میرا ہاتھ روکنا چاہتا ہے اور ان سے نہ بولنے کی نذر کے طور پر قسم کھائی حضرت عبداللہ بن زبیر کو خالہ کی ناراضی کا بہت صدمہ ہوا بہت سے لوگوں سے سفارش کرائی مگر انہوں نے اپنی قسم کا عذر فرمادیا۔ آخر جب عبداللہ بن زبیر بہت ہی پریشان ہوئے تو حضور اقدسؐ کی ننھیال کے دو حضرات کو سفارشی بنا کر ساتھ لے گئے وہ دونوں حضرات اجازت لے کر اندر گئے یہ بھی چھپ کر ساتھ ہولئے۔ جب وہ دونوں پردہ کے پیچھے بیٹھے اور حضرت عائشہ پردہ کے اندر بیٹھ کر بات چیت فرمانے لگیں تو یہ جلدی سے پردہ میں چلے گئے اور جا کر خالہ سے لپٹ گئے اور بہت روئے اور خوشامد کی وہ دونوں حضرات بھی سفارش کرتے رہے اور مسلمان سے بولنا چھوڑنے کے متعلق حضورؐ کے ارشادات یاد دلاتے رہے اور احادیث میں جو ممانعت اس کی آئی ہے وہ سناتے رہے جس کی وجہ سے حضرت عائشہ ان احادیث میں جو ممانعت اور مسلمان سے بولنا چھوڑے پر جوعتاب وارد ہوا۔ اس کی تاب نہ لا سکیں اور رونے لگیں آخر معاف فرمادیا اور بولنے لگیں لیکن اپنی اس قسم کے کفارہ میں بار بار غلام آزاد کرتی تھیں حتیٰ کہ چالیس غلام آزاد کئے اور جب بھی قسم توڑنے کا خیال آجاتا، اتنا روتیں کہ دوپٹہ تک آنسوئوں سے بھیگ جاتا۔ الف، ہم لوگ صبح سے شام تک کتنی قسمیں ایک سانس میں کھا لیتے ہیں اور پھر اس کی کتنی پرواہ کرتے ہیں اس کا جواب اپنے ہی سوچنے کا ہے۔ دوسرا شخص کون ہر وقت پاس رہتا ہے جو بتا دے لیکن جن لوگوں کے ہاں اللہ کے نام کی وقعت ہے اور اللہ سے عہد کر لینے کے بعد پورا کرنا ضروری ہے۔ ان سے پوچھو کہ عہد کے پورا نہ ہونے سے دل پر کیا گذرتی ہے اسی وجہ سے حضرت عائشہ کو جب یہ واقعہ یاد آتا تھا تو بہت زیادہ روتی تھیں۔
حضرت عائشہ کی حالت اللہ کے خوف سے
حضرت عائشہ سے حضور اقدسؐ کو جتنی محبت تھی وہ کسی سے مخفی نہیں حتی کہ جب حضور سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے تو آپ نے فرمایا عائشہ سے اس کے ساتھ ہی مسائل سے اتنی زیادہ واقف تھیں کہ بڑے بڑے صحابہ مسائل کی تحقیق کے لئے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ حضرت جبرئیل ؑ ان کو سلام کرتے تھے جنت میں بھی حضرت عائشہؓ کو حضور کی بیوی ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ منافقوں نے آپ پر تہمت لگائی تو قرآن شریف میں آپ کی برأۃ نازل ہوئی خود حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ دس خصوصیات مجھ میں ایسی ہیں کہ کوئی دوسری بیوی ان میں شریک نہیں ۔ ابن سعدؓ نے ان کو مفصل نقل کیا ہے صدقہ کی کیفیت پہلے قصوں سے معلوم ہو ہی چکی لیکن ان سب باتوں کے باوجود اللہ کے خوف کا یہ حال تھا فرمایا کر تیں کہ کاش میں درخت ہی ہو جاتی کہ تسبیح کرتی رہتی اور کوئی آخرت کا مطالبہ مجھ سے نہ ہوتا۔ کاش میں پتھر ہوتی، کاش میں مٹی کا ڈلا ہوتی، کاش میں پیدا ہی نہ ہوتی، کاش میں درخت کا پتا ہوتی، کاش میں کوئی گھاس ہوتی۔

حضرت ام سلمہؓ کے خاوند کی دعا اور ہجرت
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ حضور اقدس ؐ سے پہلے حضرت ابو سلمہؓ صحابی کے نکاح میں تھیں۔ دونوں میں بہت ہی زیادہ محبت اور تعلق تھا جس کا اندازہ اس قصہ سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ام سلمہؓ نے ابو سلمہؓ سے کہا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ اگر مرد اور عورت دونوں جنتی ہوں اور عورت مرد کے بعد کسی سے نکاح نہ کرے تو وہ عورت جنت میں اسی مرد کو ملے گی۔ اسی طرح اگر مرد دوسری عورت سے نکاح نہ کرے تو وہی عورت اس کو ملے گی۔ اس لئے آئو ہم اور تم دونوں عہد کر لیں کہ ہم میں سے جو پہلے مر جائے تو دوسرا نکاح نہ کرے۔ ابو سلمہؓ نے کہا کہ تم میرا کہنا مان لوگی ام سلمہؓ نے کہا کہ میں تو اسی واسطے مشورہ کر رہی ہوں کہ تمہارا کہنا مانوں، ابو سلمہؓ نے کہا کہ تو میرے بعد نکاح کر لینا پھر دعا کی کہ یا اللہ میرے بعد ام سلمہؓ کو مجھ سے بہتر خاوند عطا فرما جو نہ اس کو رنج پہنچائے اور نہ تکلیف دے۔ ابتدائے اسلام میں دونوں میاں بیوی نے حبشہ کی ہجرت ساتھ ہی کی۔ اس کے بعد وہاں سے واپسی پر مدینہ طیبہ کی ہجرت کی جس کا مفصل قصہ خود ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب ابو سلمہؓ نے ہجرت کا ارادہ کیا تو اپنے اونٹ پر سامان لادا اور مجھے اور میرے بیٹے سلمہؓ کو سوار کرایا اور خود اونٹ کی نکیل ہاتھ میں لے کر چلے۔ میرے میکے کے لوگوں بنو مغیرہ نے دیکھ لیا۔ انہوں نے ابو سلمہؓ سے کہا کہ تم اپنی ذات کے بارے میں تو آزاد ہوسکتے ہو مگر ہم اپنی لڑکی کو تمہارے ساتھ کیوں جانے دیں، کہ یہ شہر در شہر پھرے۔ یہ کہہ کر اونٹ کی نکیل ابو سلمہ ؓ کے ہاتھ سے چھین لی اور مجھے زبردستی واپس لے آئے۔ میرے سسرال کے لوگ بنو عبدالاسد کو جو ابو سلمہؓ کے رشتہ دار تھے جب اس قصہ کی خبر ملی تو وہ میرے میکہ والوں بنو مغیرہ سے جھگڑنے لگے کہ تمہیں اپنی لڑکی کا تو اختیار ہے مگر ہم اپنے لڑکے سلمہؓ کو تمہارے پاس کیوں چھوڑ دیں جب کہ تم نے اپنی لڑکی کو اس کے خاوند کے پاس نہیں چھوڑا اور یہ کہہ کر میرے لڑکے سلمہ کو بھی مجھ سے چھین لیا اب میں اور میرا لڑکا اور میرا شوہر تینوں جدا جدا ہو گئے۔ خداوند تو مدینہ چلے گئے۔ میں اپنے میکہ میں رہ گئی اور بیٹا اپنی ددھیال میں پہنچ گیا۔ میں روز میدان میں نکل جاتی اور شام تک رویا کرتی۔ اسی طرح پورا ایک سال مجھے روتے گزر گیا۔ نہ میں خاوند کے پاس جا سکی نہ بچہ مجھے مل سکا ایک دن میرے ایک چچا زاد بھائی نے میرے حال پر ترس کھا کر اپنے لوگوں سے کہا کہ تمہیں اس مسکینہ پر ترس نہیں آتا کہ اس کو بچہ اور خاوند سے تم نے جدا کر رکھا ہے اس کو کیوں نہیں چھوڑ دیتے غرض میرے چچا زاد بھائی نے کہہ سن کر اس بات پر ان سب کو راضی کر لیا۔ انہوں نے مجھے اجازت دے دی کہ تو اپنے خاوند کے پاس جانا چاہتی ہے تو چلی جا۔ یہ دیکھ کر بنو عبدالاسد نے بھی لڑکا دے دیا میں نے ایک اونٹ تیار کیا اور بچہ گود میں لے کر اونٹ پر تنہا سوار ہو کر مدینہ کو چل دی۔ تین چار میل چلی تھی کہ تغیم میں عثمان بن طلحہ مجھے ملے۔ مجھ سے پوچھا کہ اکیلی کہاں جا رہی ہو۔ میں نے کہا کہ اپنے خاوند کے پاس مدینہ جا رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کوئی تمہارے ساتھ نہیں ۔ میں نے کہا کہ اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے میرے اونٹ کی نکیل پکڑی اور آگے آگے چل دئیے۔ خدا پاک کی قسم مجھے عثمان سے زیادہ شریف آدمی کوئی نہیں ملا۔ جب اترنے کا وقت ہوتا وہ میرے اونٹ کو بٹھا کر خود علیحدہ درخت کی آڑ میں ہو جاتے میں اتر جاتی اور جب سوار ہونے کا وقت ہوتا اونٹ کو سامان وغیرہ لاد کر میرے قریب بٹھا دیتے میں اس پر سوار ہو جاتی اور وہ آ کر اس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلنے لگتے۔ اسی طرح ہم مدینہ منورہ پہنچے۔ جب قبُامیں پہنچے تو انہوں نے کہا تمہارا خاوند یہیں ہے۔ اس وقت تک ابو سلمہ ؓ قباہی میں مقیم تھے۔ عثمان مجھے وہاں پہنچا کر خود مکہ مکرمہ واپس ہو گئے پھر کہا کہ خدا کی قسم عثمان بن طلحہ سے زیادہ کریم اور شریف آدمی میں نے نہیں دیکھا اور اس سال میں جتنی مشقت اور تکلیف میں نے برداشت کی شاید کسی نے کی ہو۔ اللہ پر بھروسہ کی بات تھی کہ تنہا ہجرت کے ارادہ سے چل دیں۔ اللہ جل شانہ نے اپنے فضل سے ان کی مدد کا سامان مہیا کر دیا ۔ ہجرت کا سفر اگر کوئی محرم نہ ہو تو تنہا بھی جائز ہے بشرطیکہ ہجرت فرض ہو جائے ۔ اس لئے ان کے تنہا سفر پر شرعی اشکال نہیں۔

حضرت اُم زیادؓ کی چند عورتوں کے ساتھ خیبر میں شرکت
حضور اقدس ؐ کے زمانہ میں مردوں کو تو جہاد کی شرکت کا شوق تھا ہی جس کے واقعات کثرت سے نقل کئے جاتے ہیں۔ عورتیں بھی اس چیز میں مردوں سے پیچھے نہیں تھیں۔ ہمیشہ مشتاق رہتی تھیں اور جہاں موقع مل جاتا پہنچ جاتیں۔ ام زیادؓ کہتی ہیں کہ خیبر کی لڑائی میں ہم چھ عورتیں جہاد میں شرکت کے لئے چل دیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو ہم کو بلایا ۔حضورؐ کے چہرہ انور پر غصہ کے آثار تھے۔ ارشاد فرمایا کہ تم کس کی اجازت سے آئیں اور کس کے ساتھ آئیں ہم نے عرض کیا،یا رسول اللہ ہم کو اُون بننا آتا ہے اور جہاد میں اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ زخموں کی دوائیں بھی ہمارے پاس ہیں اور کچھ نہیں تو مجاہدین کو تیر ہی پکڑانے میں مدد دیں گے۔ اور جو بیمار ہو گا اس کی دوا دارو کی مدد ہو سکے گی۔ ستو وغیرہ گھولنے اور پلانے میں کام دے دیں گی ۔ حضورؐ نے ٹھہر جانے کی اجازت دے دی۔ حق تعالیٰ شانہ نے اس وقت عورتوں میں بھی کچھ ایسا ولولہ اور جرأت پیدا فرمائی تھی جو آج کل مردوں میں بھی نہیں ہے۔ دیکھئے یہ سب اپنے شوق سے خود ہی پہنچ گئیں اور اپنے لئے کتنے کام تجویز کر لئے ۔حنین کی لڑائی میں ام سلیمؓ باوجود کہ حاملہ تھیں۔ عبداللہ بن ابی طلحہ پیٹ میں تھے، شریک ہوئیں اور ایک خنجر ساتھ لئے رہتی تھیں۔ حضورؐ نے فرمایا۔ یہ کس لئے ہے عرض کیا کہ اگر کوئی کافر میری طرف بڑھے گا تو اس کے پیٹ میں بھُونک دوں گی۔ اس سے پہلے احد وغیرہ کی لڑائی میں بھی یہ شریک ہوئی تھیں۔ زخمیوں کی دوا دارو اور بیماروں کی خدمت کرتی تھیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ اور ام سلیمؓ کو دیکھا کہ نہایت مستعدی سے مشک بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور جب خالی ہو جاتی تو پھر بھر لاتیں۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

حضرت ام حرامؓ کی غزوۃ البحر میں شرکت کی تمنا
حضرت ام حرامؓ حضرت انسؓ کی خالہ تھیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت سے ان کے گھر تشریف لے جاتے اور کبھی دوپہر وغیرہ کو وہیں آرام بھی فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر آرام فرما رہے تھے کہ مسکراتے ہوئے اٹھے ام حرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کس بات پر آپ مسکرا رہے تھے آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ مجھے دکھلائے گئے جو سمندر پر لڑائی کے ارادہ سے اس طرح سوار ہوئے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔ ام حرامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ دعا فرما دیجئے کہ حق تعالیٰ شانہ مجھے بھی ان میں شامل فرماویں۔ حضورؐ نے فرمایا تم بھی ان میں شامل ہو گی اس کے بعد پھر حضورؐ نے آرام فرمایا اور پھر مسکراتے ہوئے اٹھے ام حرامؓ نے پھر مسکرانے کا سبب پوچھا۔ آپؐ نے پھر اسی طرح ارشاد فرمایا ام حرامؓ نے پھر وہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ آپ دعا فرما دیں کہ میں بھی ان میں ہوں آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم پہلی جماعت میں ہو گی۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں امیر معاویہؓ نے جو شام کے حاکم تھے جزائر قبرس پر حملہ کرنے کی اجازت چاہی حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں امیر معاویہؓ نے جو شام کے حاکم تھے جزائر قبرس، پر حملہ کرنے کی اجازت چاہی حضرت عثمانؓ نے اجازت دے دی امیر معاویہؓ نے ایک لشکر کے ساتھ حملہ فرمایا جس میں ام حرامؓ بھی اپنے خاوند حضرت عبادہؓ کے ساتھ لشکر میں شریک ہوئیں اور واپسی پر ایک خچر پر سوار ہو رہی تھیں کہ وہ بدکا اور یہ اس پر سے گر گئیں جس سے گردن ٹوٹ گئی اور انتقال فرما گئیں اور وہیں دفن کی گئیں۔
ف یہ ولولہ تھا جہاد میں شرکت کا کہ ہر لڑائی میں شرکت کی دعا کراتی تھیں مگر چونکہ ان دونوں لڑائیوں میں سے پہلی لڑائی میں انتقال فرمانا متعین تھا اس لئے دوسری لڑائی میں شرکت نہ ہو سکی اور اسی وجہ سے حضورؐ نے اس میں شرکت کی دعا بھی نہ فرمائی تھی۔
حضرت ام سلیمؓ کا لڑکے کے مرنے پر عمل
ام سلیمؓ حضرت انسؓ کی والدہ تھیں جو اپنے پہلے خاوند یعنی حضرت انس کے والد کی وفات کے بعد بیوہ ہو گئی تھیں اور حضرت انسؓ کی پرورش کے خیال سے کچھ دنوں تک نکاح نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد حضرت ابو طلحہؓ سے نکالح کیا جن سے ایک صاحبزادہ ابو عمیرؓ پیدا ہوئے جن سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے گھر تشریف لے جاتے تو ہنسی بھی فرمایا کرتے تھے۔ اتفاق سے ابو عمیرؓ کا انتقال ہو گیا۔ ام سلیمؓ نے ان کو نہلایا دھلایا کفن پہنایا اور ایک چار پائی پر لٹا دیا۔ ابو طلحہؓ کا روزہ تھا ام سلیمؓ نے ان کو نہلایا دھلایا کفن پہنایا اور ایک چارپائی پر لٹا دیا۔ ابوطلحہؓ کا روزہ تھا۔ ام سلیمؓ نے ان کے لئے کھانا وغیرہ تیار کیا اور خود اپنے آپ کو بھی آراستہ کیا۔ خوشبو وغیرہ لگائی رات کو خاوند آئے کھانا وغیرہ بھی کھایا۔ بچہ کا حال پوچھا تو انہوں نے کہہ دیا کہ اب تک سکون معلوم ہوتا ہے بالکل اچھا ہو گیا بے وہ فکر ہو گئے رات کو خاوند نے صحبت بھی کی صبح کو جب وہ اٹھے تو کہنے لگیں کہ ایک بات دریافت کرنا تھی اگر کوئی شخص کسی کو مانگی چیز دے دے۔ پھر وہ اسے واپس لینے لگے تو واپس کر دینا چاہئے اسے روک لے واپس نہ کرے وہ کہنے لگے کہ ضرور واپس کر دینا چاہئے، روکنے کا کیا حق ہے مانگی چیز کا تو واپس کرنا ہی ضروری ہے۔
یہ سن کر ام سلیمؓ نے کہا کہ تمہارا لڑکا جو اللہ کی امانت تھا وہ اللہ نے لے لیا۔ ابو طلحہؓ کو اس پر رنج ہو اور کہنے لگے کہ تم نے مجھ کو خبر بھی نہ دی۔ صبح حضورؐ خدمت میں ابو طلحہؓ نے اس سارے قصہ کو عرض کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی اور فرمایا کہ شاید اللہ جل شانہ اس رات میں برکت عطا فرماویں ایک انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضورؐ کی دعا کی برکت دیکھی کہ اس رات کے حملے سے عبداللہ بی ابی طلحہؓ پیدا ہوئے جن کے نو بچے ہوئے اور سب نے قرآن شریف پڑھا۔
ف بڑے صبر اور ہمت کی بات ہے کہ اپنا بچہ مر جائے اور ایسی طرح اس کو برداشت کرے کہ خاوند کو بھی محسوس نہ ہونے دے چونکہ خاوند کا روزہ تھا اس لئے خیال ہوا کہ خبر ہونے پر کھانا بھی مشکل ہو گا۔

حضرت ام حبیبہؓ کا اپنے باپ کو بستر پر بٹھانا
ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ حضور اقدس صلی اللہ علیہ سے پہلے عبید اللہ بن بخش کے نکاح میں تھیں۔ دونوں خاوند بیوی ساتھ ہی مسلمان ہوئے اور حبشہ کی ہجرت بھی اکٹھے ہی کی وہاں جا کر خاوند مرتد ہو گیا اور اسی حالت ارتداد میں انتقال کیا حضرت ام حبیبہؓ نے یہ بیوگی کا زمانہ حبشہ ہی میں گزارا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نکاح کیا پیام بھیجا اور حبشہ کے بادشاہ کی معفرت نکاح ہوا جیسا کہ باب کے ختم پر بیبیوں کے بیان میں آئے گا۔ نکاح کے بعد مدینہ طیبہ تشریف لائیں صلح کے زمانہ میں ان کے باب ابو سفیان مدینہ طیبہ آئے کہ حضورؐ سے صلح کی مضبوطی کے لئے گفتگو کرنا تھی بیٹی سے ملنے گئے وہاں بستر بچھا ہوا تھا اس پر بیٹھنے لگے تو حضرت ام حبیبہ نے وہ بستر الٹ دیا۔ باپ کو تعجب ہوا کہ بجائے بستربچھانے کے اس بچھے ہوئے کو بھی الٹ دیا پوچھا کہ وہ یہ بسترہ میرے قابل نہیں تھا اس لئے لپیٹ دیا یا میں بستر کے قابل نہیں تھا حضرت ام حبیبہؓ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے پاک اور پیارے رسول کا بستر ہے اور تم بوجہ مشرک ہونے کے ناپاک ہو، اس پر کیسے بٹھا سکتی ہوں باپ کو اس بات سے بہت رنج ہوا اور کہا کہ تم مجھ سے جدا ہونے کے بعد بری عادتوں میں مبتلا ہو گئیں۔ مگر ام حبیبہؓ کے دل میں حضورؐ کی جو عظمت تھی اس کے لحاظ سے وہ کب اس کو گوارا کر سکتی تھیں کہ کوئی ناپاک مشرک، باپ ہو یا غیر ہو، حضورؐ کے بستر پر بیٹھ سکے۔ ایک مرتبہ حضورؐ سے چاشت کی بارہ رکعتوں کی فضیلت سنی تو ہمیشہ ان کو پابندی سے نبھا دیا۔ ان کے والد بھی جن کا قصہ ابھی گزرا ہے بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو تیسرے دن خوشبو مہنگائی اور اس کو استعمال کیا اور فرمایا کہ مجھے نہ خوشبو کی ضرورت نہ رغبت ، مگر میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عورت کو جائز نہیں کہ خاوند کے علاوہ کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، ہاں خاوند کے لئے چار مہینہ دس دن ہیں۔ اس لئے خوشبو استعمال کرتی ہوں کہ سوگ نہ سمجھا جائے۔ جب خود اپنے انتقال کا وقت ہوا تو چضرت عائشہؓ کو بلایا اور ان سے کہا کہ میرا تمہارا معاملہ سو کن تھا اور سوکنوں میں آپس میں کسی نہ کسی بات پر تھوڑی بہت رنجش ہو ہی جاتی اللہ مجھے بھی معاف فرمای دیں اور تمہیں بھی حضرت عائشہؓ نے فرمایا اللہ تمہیں سب معاف کر ے اور درگزر فرمائیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ تم نے مجھے اس وقت بہت ہی خوشی پہنچائی اللہ تمہیں بھی خوش و خرم رکھے۔ اس کے بعد اسی طرح ام سلمہؓ کے پاس بھی آدمی بھیجا۔
ف سوکنوں کے جو تعلقات آپس میں ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کی صورت بھی دیکھا نہیں چاہا کرتیں مگر ان کو یہ اہتمام تھا کہ دنیا کا جو معاملہ ہو وہیں نمٹ جائے۔ آخرت کا بوجھ سر پر نہ رہے اور حضورؐ کی محبت اور عظمت کا اندازہ تو اس بسترہ کے معاملہ سے ہو ہی گیا۔