حلال غذائوں کی اہمیت

(مفتی محمد احسن ظفر)

دین اسلام ہمیں فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور اس میںسختی کے بجائے دعوت کے ذریعے انسان کواللہ تعالیٰ کے احکامات کا پابند بنایاگیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعت کی ان پابندیوں پر عمل کرنے میں سراسر انسان ہی کا فائدہ ہے اور بعض اوقات تو کھلی آنکھ سے اس فائدہ کا مشاہدہ بھی ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ہماری ناقص عقل اس فائدہ کا ادراک کرنے سے قاصر رہتی ہے اور ہم شریعت کے اس حکم کو جبر سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہم پر حلال و حرام کی جو حدود مقرر کی ہیں، یہ ہرگز سختی نہیں بلکہ ان پابندیوں پر عمل کرنے میں ضرور ہمارا ہی کوئی فائدہ ہے ۔ در حقیقت ہماری پریشانیوں اور مسائل کی ابتدا ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ جب ہم ان پابندیوں سے ہٹ کر زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں، زندگی کے کسی بھی شعبے میں جب ہم ان پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں تو طرح طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں، اسی طرح جب انسان کھانے پینے کی اشیاء میں شریعت کے احکامات سے ہٹتا ہے تو اس کا نتیجہ خطرناک بیماریوں اور بہت سے پیچیدہ مسائل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
گزشتہ صدی میں عالمی سطح پر ہونے والی تیز رفتار ترقی سے جہاں اور بہت سے جدید مسائل نے جنم لیا، وہیں ایک مسئلہ کھانے پینے کی اشیاء میں ڈالے جانے والے نت نئے اجزائے ترکیبی کی شرعی حیثیت کا بھی ہے۔ اس ترقی سے جہاں سائنس کی اور بہت سی شاخیں وجود میں آئیں، وہیں ایک شاخ Food Science کے نام سے سامنے آئی ہے اور تھوڑے ہی عرصے میںانسانی زندگی میںاس سے متعلقہ شعبے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اس میدان میں تحقیق کے حوالے سے اب تک جو بھی کام ہوا، اس میں شریعتِ اسلامیہ کے احکامات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اب تک اس شعبے میں کام کرنے والے حضرات کے پیشِ نظر زیادہ سے زیادہ یہ بات تھی کہ وہ اشیاء جو ان کی تحقیق کے مطابق، صحت کے لئے مضر ہوں، ان سے اجتناب کریں۔ اس کے علاوہ باقی تمام اشیائ￿ کو استعمال کرتے ہوئے سستی، معیاری، ذائقہ دار اور زیادہ عرصہ تک باقی رہنے والی اشیاء فراہم کی جائیں اور اس مقصد کی خاطر، سمندر میں اگنے والی نباتات سے لے کر فضا کی بلندیوں میں پرواز کرنے والے پرندوں کے پروں تک سے ہر ممکن استفادہ کیاگیا۔کسی چیز کو رنگ پیدا کرنے یا رنگ نکھارنے کے لئے بنایا گیا اور کسی چیزکو ذائقہ میں بہتری پیدا کرنے کے لئے ایجاد کیا گیا۔ غرض جو بھی نئے اجزائے ترکیبی وجود میں آئے ، ان میں دینِ اسلام کے بتائے ہوئے حلت اور حرمت کے ضوابط کو مدِنظر نہیں رکھا گیا۔
پھر جوں جوں عالمگیریت کے تحت دنیا سمٹ کر ایک village global کی شکل اختیار کرگئی وہ اشیاء جو کبھی صرف غیر مسلم ممالک میں ہی میسر ہوتی تھیں، مسلم ممالک میں بھی باسانی ملنے لگیں۔ بعض اسلامی ممالک نے اس مسئلہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کسی غذا کے غیر تصدیق شدہ ہو نے پر اس کی درآمد بھی روک دی۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اس وقت بھی ایسی اشیاء مارکیٹ میں فروخت ہو رہیں ہیں جو حلت و حرمت زمرے میں آتی ہیں۔ جبکہ قرآن و حدیث سے حلال غذاؤں کی اہمیت اور حرام غذاوں سے بچنے کی تاکید کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ہر مسلمان جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں آزمائش کے لئے بھیجا ہے اور اس کے ذمے کچھ فرائض عائد کرکے پوری کائنات کو اس کی خدمت میں لگا دیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
(ترجمہ) اور آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اس سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ یقیناً اس میں اْن لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو غوروفکر سے کام لیں۔ (الھاثیہ : 13)
مالک کائنات نے ساری کائنات کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا فرمایا اور ہر ایک چیز کو انسان کی خاص خاص خدمت پر لگا دیا ہے اور انسان کو مخدومِ کائنات بنایا ہے، انسان پر صرف ایک پابندی لگا دی کہ ہماری مخلوقات سے نفع اٹھانے کی جو حدود ہم نے مقرر کر دی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، جن چیزوں کو تمہارے لئے حلال طیب بنا دیا ہے ان سے احتراز کرنا بے ادبی اور ناشکری ہے اور جن چیزوں کے کسی خاص استعمال کو حرام قرار دیدیا ہے، اس میں خلاف ورزی کرنا اللہ کی نافرمانی ہے۔ اسی طرح ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
وہی(اللہ)ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا کیا۔ (البقرۃ:29)
اس آیت میں انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ وہ کائنات کی جتنی چیزوں سے فائدہ اْٹھاتا ہے، سب اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی ہے، ان میں سے ہر چیز اس کی توحید کی گواہی دے رہی ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ساتھ نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا کتنی بڑی ناشکری ہے۔ اسی بات کی وضاحت قرآن پاک کی ایک اور آیت سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
(ترجمہ) اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ (الذارات:56)
اب سوال یہ ہے کہ عبادت کسے کہتے ہیں؟عبادت درحقیقت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے(1) امتثال الاوامر یعنی اللہ تعالی کے تمام احکامات کو بجا لانا۔(2) اجتناب النوہی یعنی جن جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے باز آجانا۔اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں انسان کے آنے کااصل مقصد ،اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کو بجا لانا اور جن جن باتوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے من جملہ احکامات میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ اللہ جل شانہ نے مسلمانوں کے لئے پاکیزہ غذاؤں کو حلال،اور گندی غذاؤں کو حرام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں بھی بے شمار حکمتیں ہیں اور اتنی بات تو بالکل واضح ہے کہ ہر غذا کی تاثیر ہوتی ہے۔ حرام غذا سے جو جسم پرورش پاتا ہے، وہ نہ صرف باطنی بلکہ ظاہری طور پر بھی بہت سی برائیوں اور بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مثلاً خنزیر حرص، بے حیائی، بے غیرتی اور نجاست خوری میں مشہور ہے۔ اس کے خوراک میں استعمال سے حیا اور عزت وناموس رخصت ہو جاتی ہے۔ الغرض حق جل شانہ نے بہت سی چیزوں کو حرام فرمایا کہ یہ چیزیں گندی اور ناپاک ہیں، ان کے استعمال سے انسان کا قلب اور اس کی روح گندی اور ناپاک ہو جاتی ہے۔ حلال چیزوں کے کھانے سے قلب میں اللہ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور حرام چیزوں کے استعمال سے دل سے اللہ کی محبت رخصت ہو جاتی ہے اور قلب اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے خالی ہو جاتا ہے۔ گویاگندگی اور نجاست کا کیڑہ گندگی ہی سے زندہ رہتا ہے، عطر سونگھ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔
بہت سی آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ میں حلال چیزیں کھانے اور حرام اشیاء سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اے لوگو! زمین میں جو حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ۔ (البقرۃ:168)
لفظ حِل کے اصل معنی گرہ کھولنے کے ہیں،جو چیز انسان کے لئے حلال کردی گئی گویا ایک گرہ کھول دی گئی اور پابندی ہٹادی گئی، حضرت سہیل بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نجات تین چیزوں میں منحصر ہے (1) حلال کھانا، (2) فرائض ادا کرنا (3) رسول اللہ ؐ کی سنت کا اتباع کرنا۔
اسی طرح ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ (المائدۃ: 88)
ایک اور آیت میں ارشاد ہے:
اے پیغمبرو؛ پاکیزہ چیزوں میں سے (جو چاہو)کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ یقین رکھو کہ جوکچھ تم کرتے ہو، مجھے اس کا پورا پورا علم ہے۔ (المؤمنون: 15)
لفظ طیّبات کے لغوی معنی ہیں پاکیزہ، نفیس چیزیں اور چونکہ شریعتِ اسلام میں جو چیزیں حرام کر دی گئی ہیں، نہ وہ پاکیزہ ہیں نہ اہل عقل کے لئے نفیس و مرغوب ہیں۔ اس لئے طیبات سے مراد صرف حلال چیزیں ہیں جو ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے پاکیزہ و نفیس ہیں۔ اس آیت سے یہ بتلایا گیا ہے کہ تمام انبیائؑ کو اپنے اپنے وقت میں یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ کھانا حلال اور پاکیزہ کھاؤ، دوسرے یہ کہ عمل نیک صالح کرو۔ جب انبیائؑ کو یہ خطاب کیا گیا ہے جن کو اللہ نے معصوم بنایا ہے تو اْن کی اُمت کے لوگوں کے لئے یہ حکم زیادہ قابلِ اہتمام ہے اور اصل مقصود بھی امتوں ہی کو حکم پر چلانا ہے۔
علماء نے فرمایا ہے کہ ان دونوں حکموں کو ایک ساتھ لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ حلال غذا کا عمل صالح میں بڑا دخل ہے،جب غذا حلال ہوتی ہے تو نیک اعمال کی توفیق خود بخود ہونے لگتی ہے اور غذا حرام ہو تو نیک کام کا ارادہ کرنے کے باوجود بھی اس میں مشکلات حائل ہوجاتی ہیں۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہے:
لہٰذا اللہ نے جو حلال پاکیزہ چیزیں تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں، انہیں کھاؤ، اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرتے ہو۔ (النحل:114)
اسی طرح بہت سی احادیثِ مبارکہ میں حلال کھانے ،اور حرام سے بچنے کی تاکید آئی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: لوگو اللہ تعالی پاک ہے وہ صرف پاک ہی کو قبول کرتا ہے، اوراس نے اس بارے میں جو حکم اپنے پیغمبروں کو دیا ہے وہی اپنے سب مومن بندوں کو دیا ہے۔ پیغمبروں کے لئے اس کا ارشادہے؛ اے رسولو؛ تم کھاؤ پاک اور حلال غذا اورعمل کرو صالح، میں خوب جانتا ہوں تمہارے اعمال۔ اور اہل ایمان کو مخاطب کرکے اس نے فرمایا ہے کہ؛ اے ایمان والو؛ تم ہمارے رزق میں سے حلا ل اور طیب کھاؤ(اور حرام سے بچو)
اس کے بعد حضورؐ نے ذکر فرمایا ایک ایسے آدمی کا،جو طویل سفر کر کے(کسی مقدس مقام پہ) ایسی حالت میں جاتا ہے کہ اس کے بال منتشر ہیں اور جسم اور کپڑوں پر گرد و غبار ہے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کے دعا کرتا ہے‘‘ اے میرے ربّ، اے میرے پروردگار ’’اور حالت یہ ہے کہ اس کاکھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے، اس کا لباس حرام ہے اور حرام غذا سے اس کی نشو و نما ہوئی ہے، تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول ہو گی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت اور دُعا کے قبول ہونے میں حلال کھانے کو بڑا دخل ہے، جب غذا حلال نہ ہو تو عبادت اور دْعا کی مقبولیت کا بھی استحقاق نہیں رہتا۔ آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مسلما ن پر جہاں اور بہت سے شرعی احکامات کا بجا لانا ضروری ہے وہیں اس پر یہ بھی لازم ہے کہ حلا ل چیزیں کھانے کا اہتمام کرے اور حرام چیزوں کے کھانے سے مکمل اجتناب کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے۔