یوم باب الاسلام

 الطاف مجاہد
 80 ھ کی بات ہے کہ سراندیپ یا سیلون ( موجودہ سری لنکا) سے دمشق جانے والے ایک بحری جہاز کو جس میں وہاں کے راجا کی طرف سے بھیجے گئے تحائف لدے تھے اوربعض مسلمان عورتیں‘ بچے اورتاجر بھی سوار تھے سندھ کی بحری حدود میں ڈاکوئوں نے لوٹ لیا اور عورتوں اوربچوں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔ حجاج بن یوسف نے خلیفہ عبدالملک کی جانب سے راجا داہر کو لکھا کہ یہ واردات تمہارے علاقے میں ہوئی ہے لہٰذا تم اس کا انتقام لو مگر راجا نے بے بسی ظاہر کی جس پر حجاج نے خلیفہ عبدالملک کے عہد میں ہی ڈاکوئوں کو سبق سکھانے کی تیاری شروع کردی تھی اس دوران 86 ھ میں خلیفہ عبدالملک کا انتقال ہوگیا۔ حجاج نے تین بار یہاں لشکر بھیجے لیکن راجا داہر کی سرپرستی کے باعث وہ ڈاکوئوں سے مقابلے میں ناکام رہے جس پر ولید بن عبدالملک کے دور 93 ھ میں محمد بن قاسم ایک لشکر کے ہمراہ سندھ پہنچے اور ڈاکوئوں اور ان کے سرپرست راجا داہر کو شکست فاش سے دو چار کیا۔ محمد بن قاسم نے سندھ میں امن قائم کیا برسوں سے شخصی حکمرانی کے شکار عام آدمی کو اسلامی سلطنت کے زیر سایہ مساوی درجہ دیا۔ مملکت کے انتظامات بہتر بنائے اور نظام انصاف قائم کیا۔ محاصل کی وصولی کے قواعد آسان اور اتنے بہترین تھے کہ مسلمانوں سے اراضی پر عشر ‘ لگان اور غیر مسلم راجائوں سے خراج نیز مسلم ریاست کے غیر مسلم باشندوں سے وصول شدہ جزیہ ملک میں عوام کی بہبود پر خرچ کیا جاتا‘ جن کا شتکاروں کی پیداوار کم تھی انہیں سرکاری لگان کی معافی دی جاتی۔ بلا شبہ باغیوں کی سرکوبی کی گئی لیکن عام آدمیوں ‘ عورتوں اوربچوں کو زندگی گزارنے کے اتنے ہی مواقع میسر تھے جتنے کسی فاتح مسلمان کو دستیاب تھے۔ بزرگوں اور پرامن شہریوں کو کچھ نہ کہا گیا۔ احترام آدمیت کے یہ مناظر اہل سندھ کو محمد بن قاسم کا گرویدہ کر گئے انتہائی کم عمر محمد بن قاسم کے یہ اقدامات مقامی باشندوں کیلئے چونکا دینے والے تھے۔ واضح رہے کہ محمد بن قاسم کی تاریخ پیدائش اسلامی تذکروں میں75ھ بتائی گئی ہے وہ حجاج بن یوسف کے بھتیجے تھے اور فتح سندھ کے وقت 93 ھ میں ان کی عمر18برس تھی لیکن چھوت چھات اور شورد ‘ برہمن سماج کے شکار سندھ میں پسماندہ اورپست برادریوں کو اسلامی عقائد کے مطابق مساوی اہمیت دے کر آگے لانے کی سعی نے انہیں مقامی باشندوں کا ہیرو بنادیا ۔ جو انہیں فرمانروا سے زیادہ اپنا بھائی ‘بزرگ اور خاندان کا سربراہ یعنی مسیحا سمجھنے لگے تھے۔
 10رمضان المبارک کو ہرسال یوم باب الاسلام منایا جاتا ہے یہ دن محمد بن قاسم کے طفیل سندھ میں فروغ اسلام کا سبب بنا اور ارض مہران کے راستے دین حق کا پیغام سندھ سے ملتان ہوتا ہوا پورے برصغیر میں کرنیں بکھیر گیا اور 12صدیوں بعد قیام پاکستان کی صورت جو معجزہ برپا ہوا اسکا سبب بھی پہلی صدی ہجری کی وہ کوشش ہی تھی جب اسلام کا سبز ہلالی پرچم یہاں لہرایا گیا تھا۔
 محمد بن قاسم نے رحمدلی ‘ نرم مزاجی اور حسن سلوک سے جس مسلم ریاست کی بنیاد رکھی وہ بعد کے ادوار میں بھی اسی شناخت کے ساتھ برقرار رہی ۔ امویوں کے بعد صفاری‘ ہباری ‘ ترخان‘ ارغون‘ کلہوڑے ‘ تالپور برسراقتدار رہے لیکن سندھ کا مسلم تشخص موجود رہا ۔ حتیٰ کہ 1843 ء میں انگریزوں نے حید رآباد کی چویاری تالپور سلطنت ختم کرکے سندھ پرقبضہ کیا تو کچھ عرصہ بعد اسے بمبئی پر یذیڈنسی سے منسلک کردیا ۔ اس سے قبل1839 ء میں سیٹھ نائوں چند ہوت مل کی منتقم المزاجی اور تالپوروں کی عاقبت نااندیشی کے باعث انگریز کراچی پر تسلط جماچکے تھے 1936 ء تک جب سندھ کو علیحدہ مسلم صوبے کا تشخص ملا درمیان کے 90 سے زائد برسوں میں سندھ پر انگریزوں کی پشت پناہی سے صوبہ بمبئی کی ہندو اکثریت حکومت کرتی رہی۔ حتیٰ کہ سندھ کو صوبہ کی حیثیت ملنے کے بعد انتخابات ہوئے تو تب بھی ہندو اقلیت کی ذہین وفطین لیڈر شپ مسلم اکثریت کو لڑا کر درپردہ بادشاہ گررہی۔ سندھ پر انگریزی تسلط کے ابتدائی برسوں ہی میں صوبے کی مسلم اکثریت کو اندازہ ہوگیا تھا کہ بمبئی میں بیٹھنے والا انگریز کمشنر انہیں پسماندہ رکھنا چاہتا ہے کراچی کے سرسید حسن علی آفندی سے لیکر نوشہروفیروز کے الہندو شاہ ا ور بدین کے میر غلام محمد تالپور تک نے علم کو ذریعہ آزادی جانا اور تعلیمی ادارے قائم کئے۔آغا حسن علی آفندی کے سندھ مدرستہ الاسلام میں تعلیم پانے والے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مشہور زمانہ 14نکات پیش کئے جس کا ایک نکتہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور علیحدہ صوبے کی حیثیت کا تھا اور جب سندھ کو یہ درجہ ملا تو اسکی صوبائی اسمبلی میں 3مارچ 43ء کو سائیں جی ایم سید نے تاریخی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ یہ قرارداد سرکار سے سفارش کرتی ہے کہ وائس رائے کے ذریعے اس صوبے کے مسلمانوں کے یہ جذبات اور خواہش ہزمجسٹی تک پہنچائے کہ ان کو اپنا مذہب فلاسفی ‘ سماجی رسوم ‘ ادب اور روایات جو ہندوئوں سے مختلف ہیں اقتصادی اور سیاسی نظریات پر (مشتمل) ہیں۔ اس لئے وہ علیحدہ قوم قرار دیئے جانے کے حقدار ہیں اوران کی آزاد قومی حیثیت متحدہ برصغیر کے ان زونوں میں ہے جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔ یہ متحدہ ہندوستان میں کسی بھی صوبے کی قانون ساز اسمبلی کی طرف سے پہلا مطالبہ تھا جس میں مسلم لیگ کی قرار داد لاہور کی حمایت کی گئی تھی اس سے قبل شیخ عبدالمجید سندھی نے 1938ء میں کراچی کے عیدگاہ میدان میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کی کراچی کانفرنس میں علیحدہ مسلم مملکت کی قرارداد پیش اورمنظور کرائی تھی۔
برصغیر میں پہلی اسلامی ریاست محمد بن قاسم نے قائم کی جسے بعد میں صفاریوں‘ ہباریوں‘ مغلوں ‘ ترخانوں‘ غزنویوں‘تغلقوں اور غوریوں وشیرشاہ سوری نے وسعت دی دلچسپ امر یہ ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ پر بمشکل ساڑھے تین برس حکومت کی لیکن طرز حکمرانی سے لیکر رعایا کے دل جیتنے تک اتنے واضح ‘ گہرے ‘ بھرپور اور دلکش نقوش چھوڑے کہ 15 ویں صدی ہجری میں بھی اسے یہاں کے باشندے یاد رکھے ہوئے ہیں۔
 محمد بن قاسم سے محمد علی جناح تک کی تاریخ روشن‘ تابناک اور درخشاں ہے جو اموی مسلم سلطنت کے قیام سے شروع ہو کر آزاد مسلم ریاست پاکستان پر مکمل ہوئی۔ محسن کش قوتیں لاکھ پروپیگنڈہ کریں فاتح سندھ محمد بن قاسم اور قائداعظم محمد علی جناح پر سندھ کی دھرتی ہمیشہ ناز کرتی رہے گی۔