کم سن بچے اور محنت مزدوری

بچے ماں باپ کے لئے دنیا اور دولت جبکہ ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں وہ سرمایہ جسے مستقبل میں آگے بڑھ کر ملک و قوم کی تقدیر کو بدلنا اور اپنے فرائض کی ذمہ داری کو سنبھالنا ہے آج ہم اپنی نوعیت کے پیش نظر اس انمول سرمائے کو ضائع کر رہے ہیں وہ بچے جن کے ہاتھوں میں علم کی کتاب ہونی چاہیے تھی۔ آج دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے مشقت کر رہے ہیں وہ بچے جنہیں علم کی شمع سے محبت ہونی چاہیے تھی۔ آج وقت و حالات سر مجبوریوں کے سائے تلے زندگی کی بھاگ دوڑ میں شامل ہیں۔ صد افسوس کہ ہم نے اس ملک کی 67 سالہ زندگی میں ایک مضبوط نئے کل کیلئے ان کم سن بچوں کے معیار زندگی کو کبھی ترجیح نہیں دی۔ جس کے بھیانک نتائج آج ہمارے سامنے کھلی کتاب ہیں۔ افسوس کہ اس ملک کی شرح خواندگی میں آج بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ عمل میں نہیں لایا جا سکا یا رجحان کی اہمیت کو صحیح معنوں میں فروغ نہیں مل سکا کہ ہم نو عمر آبادی کی دانشورانہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا پاتے ایک اندازے کے مطابق ملکی 68 فیصد نوجوان آبادی کا 35 فیصد جن میں 9 سال سے 15 سال تک کے کم سن بچے شامل ہیں جن کا مستقبل غیر سنجیدگی کا شکار ہو کر تاریک ہو چکا ہے حکومت وقت کو اس معاملے میں کوئی سروکار ہی نہیں کہ وہ ٹھوس اقدامات عمل میں لا کر نئی نسل کی بقاء کو محفوظ بنا سکے یہی وہ بچے ہیں جو آج حالات سے سمجھوتہ کرنے کے لئے فیکٹری، کارخانوں میں محنت مزدوری کر رہے ہیں کیونکہ دو وقت کی روٹی بھی غریب آدمی کے لئے سکولن سے کھانا اب مشکل ہو گیا ہے یہی وہ بچے ہیں جو صبح سے شام ہاتھ میں اخبار لئے اخبار فروشی کرتے ہیں گھر کا چولہا جلتا رہے کی فکر میں مشقت کرتے دکھائی دیتے ہیں خود اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے ہوٹلوں میں چائے بنانا، برتن دھو کر چار پیسے کمانے کیلئے مزدوری کرتے ہیں۔ دن رات ورکشاپ پر کام کرنے ہاتھ منہ کالک سے بھر جب واپس گھر کو لوٹتے ہیں تو اگلے دن کا نظام پیہہ چلتا ہے ایسے میں حالات اگر عام انسان کے لئے یکساں نہ ہوں تو مہنگائی کے اس دور میں غریب بچے حصول علم سے محروم ہو جاتے ہیں تعلیم کو جواب ان بچوں کے لئے ایسے ہین لگتا ہے جیسے غریب آدمی کے لئے قطار میں کھڑے چینی یا آٹا حاصل کرنا، کیا حکومت پاکستان نے ان بچوں کے مستقبل کی ضمانت نہیں دی یا پھر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہونا چاہتی؟ کیا ہم پاکستان کو اس دہرائے پر آن کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں کہ جہاں اس ملک کا آنیوالے وقت میں کوئی وارث نہ رہے؟ پر لمحہ فکریہ کن ہے کہ ہمیں اپنا کل اور آج بچانا ہے اور اس کے لئے حکومت پاکستان کو وہ لمحہ کن فیصلے کرنا ہونگے کہ ان 35 فیصد کم سن بچوں کے بہترین مستقبل کی بقاء کو یقینی بنانا ہوگا۔ حکومتی سطحی پر مصالحتی کردار ادا کرنا ہوگا کہ ملک کا ہر بچہ بچہ علم کی پیاس بھجا سکے علم کی مع کونے کونے پہنچے اور موجودہ حالات اور صورتحال کو بہتر بنا کر اس قیمتی سرمائے کا تحفظ کرنا ہوگا۔ ایسے اقدامات عمل میں لا کر قانون نافذ کرنے کی ضرورت ہے کہ پیارا پاکستان پھلے پھولے اور تیزی سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھے میری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ وہ سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے پاکستان کے آنیوالے کل کے لئے فکر مند ہو اور ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرے جہاں سب ملک و ملت کے لئے ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
وسیم عباس
 ماس کمیونیکیشن پارٹ II، گورنمنٹ کالج آف ٹائون شپ لاہور