پاکستان قرآت ونعت کونسل کویت کے زیر اہتما م پہلی گرینڈمحفل حمد ونعت کا انعقاد

عبدالشکورابی حسن( بیورو چیف کویت سٹی)


کویت کی سرزمین پر حسن قرآت اور حمد ونعت کی محافل کا انعقاد معمولات زندگی کا حصہ ہے ۔ گذشتہ دنوں پاکستان قرأت و نعت کونسل کویت کے زیراہتمام قصر ہال حولی میں گرینڈ محفل حمد و نعت کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں پاکستان سے آنے والے نعت خواں اویس رضا قادری، محمد حمزہ ظفر علی سہروردی (ہالینڈ) سہیل احمد قادری (انگلینڈ) حافظ قاری جاوید اختر (انگلینڈ) نے شرکت کی۔ مشہور اینکر تسلیم احمد صابری نے اپنے مخصوص انداز سے کمپیئرنگ کے فرائض انجام دیئے۔ شرکاء سے کھچا کھچ بھرے ہال میں عقیدت مندوں کے شوق کا عالم یہ تھا کہ کئی افراد نے کھڑے ہو کر اپنے پسندیدہ نعت خوانوں کو سنا اور دل کھول کر داد دی۔ پروگرام کے ابتداء میں محمد افضل شافی نے کمپیئرنگ کرتے ہوئے پاکستان قرأت و نعت کونسل کویت کا تعارف مختصراً پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان قرأت و نعت کونسل کی یہ پہلی گرینڈ بین الاقوامی محفل حمد و نعت ہے،جس کا مقصد نئی نسل میں قرأت و نعت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ تلاوت قرآن کریم پیش کرنے کی سعادت حافظ قاری محمد صہیب انجم کو حاصل ہوئی۔ محمد عارف اعجاز، پہلے نعت خواں تھے، انہوں نے مشہور نعت ’’اللَّھُمَّ صلیِّ علیٰ سیّدِنَا وَ مَوْلانَاْ مُحَمَّدِِ‘‘ پیش کر کے سماں باندھ دیا۔ حافظ فیصل ریاض نقشبندی نے مشہور نعتیں پیش کر کے شرکاء سے بھرپور داد وصول کی۔ محمد افضل شافی کے بعد کمپیئرنگ کے فرائض ادا کرتے ہئے تسلیم احمد صابری نے حضرت صدیق اکبرؓ کے فضائل بیان کئے ۔ انہوں کے کہاکہ قبول اسلام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اسلام کی راہ میں اپنا مال و متاع رسول اکرمؐ کے قدموں میں رکھ دیا، غلام آزاد کرائے اور ہجرت سمیت ہرمصیبت میں ان کے ساتھ رہے ۔تسلیم احمد صابری نے اس موقع پر شرکائے محفل کی فرمائش پر کلام پیش کیا۔
پاکستان کے سفیر محمد اسلم خان کا تقریب میں آمد پر زبردست استقبال کیا گیا۔ تقریب کے میزبان نے برطانیہ سے آنے والے قاری جاوید اختر کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ برطانیہ میں 20 سال سے زائد عرصہ سے نعتیہ محافل کا اہتمام کر رہے ہیں۔ قاری جاوید اختر نے پاکستان قرأت و نعت کونسل کے صدر شہزاد احمد، محمد افضل شافی، سرپرست اعلیٰ محمد عارف بٹ، حافظ محمد شبیر ممبر اوپیک، عرفان کیانی، طارق علی محسن کو کامیاب محفل کے انعقاد پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں مزید عزت اور بلندیاں عطا فرمائے، انہوں نے درج ذیل نعتیں پیش کر کے بھرپور داد سمیٹی۔
میں ہوں سرکارِ مدینہ کا گدا
جو بھی مانگوں مجھے سرکار عطا کرتے ہیں
دل ٹھکانہ میرے حضورؐ کا ہے
جلوہ خانہ میرے حضورؐ کا ہے
تسلیم احمد صابری نے شرکاء کی فرمائش پر مشہور منقبت ’’اہلِ نظر کی آنکھ کا تارا علی علی‘‘ پیش کی۔ اس موقع پر قاری اویس رضا قادری کی آمد پر زبردست استقبال کیا گیا۔ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے اویس رضا قادری نے کہا کہ انہیں دوسری بار کویت آنے کا موقع ملا، انہوں نے کہا کہ رسول اکرمؐ کا فرمان ہے کہ ’’نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ آپ بڑی بڑی محافل کراتے ہیں لیکن عہد کریں کہ آئندہ کبھی نماز قضا نہیں کریں گے۔ انہوں نے نعتیہ کلام پیش کرکے سماں باندھ دیا۔
شرکاء کی فرمائش پر نعتیہ کلام اور منقبت پیش کرتے ہوئے انہوں نے اس محفل کے انعقاد کوسرکار مدینہ کے فضل و کرم اور برکتوں کا خزینہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان خواجہ معین الدین چشتی اور پاکستان داتا گنج بخش کی نگری ہے، سرحدیں محبتوں کو تقسیم نہیں کر سکتیں، آخر میں انہوں نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ آپ یہاں کویت میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، ملک کی عزت اور وقار کا لحاظ رکھنا ہم سب کا فرض ہے ۔ تقریب کے اختتام پراویس رضا قادری نے سلام بٰحضو ر سرور کونین،ختم مرسلین ؐ پیش کرنے کے بعد دعا بھی کرائی۔ اس دوان قرعہ اندازی کے ذریعے شرکاء میں عمرہ کے ٹکٹ تقسیم کئے گئے۔ عزت ماب سفیر پاکستان نے اختتامی کلمات میں پاکستان قرأت و نعت کونسل کو کامیاب محفل کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مبارک محفلیں روح کی تازگی کا سبب بنتی ہیں۔ رات گئے یہ تقریب کئی خوشگوار یادیں لئے اختتام کو پہنچی۔