عالمی ہفتہ روڈ سیفٹی

عالمی ہفتہ روڈ سیفٹی

 آج وطن عزیز میں اگر چہ  تیز رفتاری کے ساتھ سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں  لیکن ہر سال سینکڑوں نئی گاڑیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے   ٹریفک میں اضافہ  کی وجہ سے سڑکیں بھی چھوٹی محسوس ہوتی ہیں    ٹریفک حادثات کی ایک وجہ کار  ،موٹر سائیکل چلانے والے کی لا پرواہی اور ناتجربہ کاری  بھی ہوتی ہے اسی وجہ سے حادثات میں کئی بار  قیمتی جانیں بھی  چلی جاتی ہیں۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد سے ہی  ان جان لیو احادثات سے بچا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ٹریفک مینجمنٹ اور انفراسٹرکچر میں بہتری لانے سے  بھی حادثات میں کمی ہوسکتی ہے۔یہ سچ ہے کہ  غیر خواندہ ڈرائیور وں کیوجہ سے ٹریفک میں مشکلات پیش آتی ہیں۔  جبکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کر کے ٹریفک حادثات کو کم کیا جاسکتا ہے   اگرچہ ٹریفک کو رواں رکھنے کے لئے سڑکوں پر  نمایاں طور پر سائن بورڈ  پر ہدایا ت  تحریر و تصاویر کی صورت لگائی جاتی ہیں تاکہ گاڑی اور موٹر سائیکل سوار ان پر عمل کر کے اپنی اور دوسروں کی جان کا تحفظ یقینی بنائیں۔ عوام کی سہولت کے لئے
ریسکیو 1122 کئی  اضلاع میں ہر ایک کو میسر ہے جن کے بر وقت اقدامات سے روزانہ درجنوں افرد کو امداد ملتی ہے۔ باوجود تمام تر اقدامات کے روزانہ ٹریفک حادثات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہاہے اسکی روک تھام کے لئے دنیا بھر میں آگاہی مہم چلائی جاتی ہے  اس سال بھی دنیا بھر کے ساتھ پاکستان میں   4 تا 10 مئی ہفتہ روڈ سیفٹی منایا جا رہا ہے تاکہ عوام کواس حوالے سے آگاہی ہو کیونکہ ٹریفک قوانین کا سب کو علم ہونا چاہئے اسکے لئے ہم سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا یہ ایسا گھمبیر مسئلہ ہے جس پر عمل کر کے ٹریفک حادثات کو کم کرسکتے ہیں۔ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ کم عمر بچوں کو کار یا موٹر سائیکل کی چابی نہ دیں۔ سیفٹی کو یقینی بنانے کے لئے بلا لائسنس گاڑی چلانے کی حوصلہ شکنی کے لئے اگرچہ گا ہے بگاہے اقدامات ہوتے رہتے ہیں مگر عموماً دیکھنے میں آرہا ہے کہ زیادہ تر موٹر سائیکل سوارہیلمنٹ  پہننے  اورکار سوار سیٹ بیلٹ باندھنے  کی پابندی نہیں کرتے جس سے حادثات کی صورت میں ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
چند سال قبل اسوقت کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار چیمہ نے روڈ سیفٹی سیمینار میں کہا تھا پاکستان میں ہر سال ٹریفک حادثات میں ہونے والے اموات میں نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے دنیا بھر میں اتنے لوگ قتل نہیں ہوتے جتنے ہر سال ٹریفک حادثات کی نذر ہو جاتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ٹریفک ایجوکیشن کا مضمون نصاب تعلیم میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اسّی فیصد حادثات ڈرائیورز کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ تیز رفتار ی دوران ڈرایئونگ   غیر ذمہ دار رویہ، منشیات کا استعمال، لین وائیلیشن کرنا، ٹریفک سگنل توڑنا، مقابلہ بازی میں گاڑی دوڑانا اور سب سے بڑھ کر کم عمری کی ڈرائیونگ حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
بلاشبہ  روڈ سیفٹی ایک سماجی مسئلہ ہے جس میں تمام اداروں اور افراد کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ اورضرورت اس امرکی  ہے کہ اس میں ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اور بڑی بڑی شاہرائوں پر سی سی ٹی وی لگا کر نہ صرف ٹریفک پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ بلکہ اس سے ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والے بھی محتاط ہو جائیں گے۔ اور وہ محتاط ڈرائیونگ کر کے اپنی اور دوسروں کی جانوں کے لئے بھی خطرے کا باعث نہ  بنیں ۔ ہر سال روڈ سیفٹی مہم چلانے کا بھی یہی مقصد ہے۔ کہ زیادہ سے زیادہ  لوگوں کو اس سے آگاہی ہو۔