صوفیاکرام کا پیغامِ محبت

محمد دلاور چودھری 

dilawarch25@gmail.com

صوفیا کا پیغامِ محبت کیا ہے، یقینا یہی ہے کہ ان کا سارا پیغام ہی محبت ہے۔ ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی اپنی کتاب ”پاکستان میں صوفی تحریکیں“ میں لکھتے ہیں ۔ لفظ صوفی کے حوالے سے بہت سی تعریفیں ملتی ہیں جن میں سب سے عام یہی ہے کہ لفظ ”صوفی“ کو صوف کا لباس پہننے سے نسبت ہے۔ بعض لوگ اسے اصحاب صفہ کے ساتھ والہانہ محبت سے منسوب کرتے ہیں اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ صوفی لفظ ”صفا“ سے مشتق ہے۔ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش ؒ فرماتے ہیں کہ لفظ ”صفا“ سب سے عمدہ ہے کیونکہ کدورت اس کی ضد ہے۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ صوفی وہ ہے جس کا دل کدورت سے پاک ہو۔
حضرت علی ہجویریؒ کی ایک بہت مشہور کتاب ”کشف الاسرار“ بھی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں۔ ”لاہور میں ایک بزرگ حسام الدینؒ سے ملا اور انکی پارسائی سے بے حد متاثر ہوا۔ میں نے التجا کی کہ میری روحانی ترقی کیلئے کچھ ارشاد فرمائیے۔ انہوں نے جواب دیا ہر دم لوگوں کی دل جوئی اور تسکین میں مصروف رہو تاکہ وہ اپنا غم بھول جائیں۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ لگاﺅ ۔ حاصل کیا ہوا علم ضائع نہ کرو۔ ہر وقت اپنے مرشد سے لو لگائے رکھو“۔ اشفاق احمد اپنی کتاب غالباً ”سفر در سفر“ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایک بار میرے دل میں سمائی کہ میں تصوف کی راہ پر چلوں چنانچہ میں ایک دوست کے ساتھ کسی بڑی روحانی شخصیت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کسی نے ایک بزرگ کا پتہ بتایا اور ہم ان کے پاس پہنچ گئے۔ کچے کمرے کے ساتھ اس کے سادہ سی مسجد تھی۔ ہم کچے کمرے میں جا گھسے، دعا و سلام کے بعد اپنے مطلب کی بات کی۔ بزرگ یہی تلقین کرتے رہے کہ اللہ کے بندوں سے محبت کرو، میں نے انہیں بتایا کہ میں فلاں فلاں وِرد بھی کر لیتا ہوں۔ کچھ مزید بتائیں تو وہ کہنے لگے آپ صوفی بننا چاہتے ہیں یا محض روحانی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر صوفی بننا چاہتے ہیں تو اللہ سے محبت کریں اور کسی لالچ خواہ وہ روحانی طاقت حاصل کرنے کا ہی کیوں نہ ہو، کا خیال دل سے نکال کر اللہ سے محبت کرنے کا طریقہ اپنائیں اور وہ ہے اللہ کے بندوں سے محبت.... ان کی خدمت ہے۔ اور اس دوران انہوں نے رکابی میں سالن نکال کر دو روٹیوں کے ساتھ ہمارے سامنے رکھ دیا۔ اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ہم کھانے لگے مگر وہاں مکھیاں بہت تھیں اور بار بار ڈائیو لگا کر رکابی کی طرف آتی تھیں۔ بزرگ یہ دیکھ کر ہمیں پنکھی جھلنے لگے اتنی ہی دیر میں مغرب کی اذان ہو گئی۔ ہمیں بڑی شرم آ رہی تھی۔ میں نے کہا ”آپ نے امامت کرانی ہے، نمازی انتظار کر رہے ہیں، آپ تشریف لے جائیں ہم کھا لیں گے لیکن وہ بزرگ متواتر پنکھی جھلتے رہے اور بڑے پیار سے کہا کہ آپ کھائیں لیکن ہم نے کہا اس طرح تو آپ کی نماز قضا ہو جائے گی۔ بزرگ نے مسکرا کر کہا نماز کی قضا ہے لیکن انسان کی خدمت کی قضا نہیں ہے آپ کھائیں“
بابا بلھے شاہؒ اشفاق احمد صاحب کے اس واقعہ سے کم و بیش اڑھائی سو برس قبل گزرے ہیں لیکن ان بزرگوں کی زبان ایک جیسی ہوتی ہے کیونکہ وہ عالمگیر زبان بولتے ہیں اور یہ عالمگیر زبان انگریزی، اردو یا فارسی نہیں بلکہ محبت کی زبان ہے اس لئے بلھے شاہؒ نے بھی اشفاق احمد کے بزرگ والی بات کچھ اس طرح کہی تھی۔
یار دے ناں دی توں نیت کھلو جا تینوں آکھن عشق نمازی
حضرت شیخ سعدیؒ کا واقعہ سنئے۔ وہ بتاتے ہیں جب چھوٹے تھے تو دادا سے ضد کی کہ مجھے بھی تہجد کی نماز کیلئے اٹھائیں۔ دادا بولے ابھی تم چھوٹے ہو، تمہارے لئے ضروری نہیں۔ لیکن جب ضد انتہا کو پہنچی تو دادا نے تہجد کے وقت اٹھا دیا۔ سعدیؒ بتاتے ہیں کہ وضو کرتے ہوئے میرا دل غرور سے بھر گیا اور میں نے دادا سے کہا کتنے غافل ہیں وہ لوگ جو اس وقت سو رہے ہیں۔ دادا نے جواب دیا ”خلقِ خدا کی غیبت کرنے سے بہتر تھا تم بھی سوئے رہتے“
میاں محمد بخشؒ کا کلام ملاحظہ کریں۔ بعض لوگ اسے بلھےؒ کا شعر بھی کہتے ہیں لیکن میری تحقیق کے مطابق یہ میاں محمد بخشؒ کا ہے۔
برے بندے نوں لبن ٹریا پر برا نہ لبھا کوئی
جد من اندر جھاتی پائی من توں برا نہ کوئی
محبت کی یہ عالمگیر زبان اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی ذاتی مفادات کو قربان کرنا سیکھ لیتا ہے، بلکہ اپنی ہستی کی نفی بھی کر لیتا ہے۔ حضرت جنید بغدادیؒایک روز اپنے مریدوں کے ساتھ بیٹھے تھے بات انسان اور فرشتوں اور تمام مخلوقات کی پیدائش سے پہلے کی ہونے لگی۔ ایک مرید بولا کہ جب ہم سب اور باقی مخلوقات نہیں تھی اس وقت تو صرف خدا ہی تھا تو حضرت جنید بغدادیؒ بولے کہ نادان ابھی بھی خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں ہے۔ کئی برس بعد شاہ حسینؒ نے بھی اس حوالے سے درست ہی کہا ہے کہ : ربا میرے حال دا محرم توں
اندر توںای، باہر توں ای، رُوں رُوں وچ تُوں
تُوں ای تانا، تُوں ای بانا، سب کچھ میرا تُوں
کہے حسین فقیر نماناں، میں نائیں سب تُوں
محبت کی اس عالمگیر زبان کے حصول کے لئے شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ فرماتے ہیں کہ ”اگر وفا کرنی ہے تو ندی کے کنارے اُگی گھاس کی طرح کرو۔ کبھی کوئی ڈوبتا ہوا اس کا سہارا لے تو وہ اُسے بچا لیتی ہے یا پھر خود بھی کناروں سے ناطہ توڑ کر اس کے ساتھ ڈوب جاتی ہے“ ایک جگہ فرماتے ہیں۔
وہ اُبلتے ہیں نور کے چشمے
سُوئے شرق رواں دواں ہو جا
بن کے راگ آشنائے ذکر خفی
خلوتِ خاص میں نہاں ہو جا
تیرا مسلک غمِ محبت ہے
اپنے مسلک کا پاسباں ہو جا
یعنی محبت کی یہ عالمگیر زبان حاصل کرنے کی ایک منزل یہ بھی ہے کہ خود اپنا امتحان بننا پڑتا ہے، بلکہ فانی و خاکی جسم کو کڑے امتحان سے گزارکر سرپا عشق بنانا پڑتاہے اور یہ منزل وہ منزل ہے جس کی طرف اقبالؒ نے اپنے فلسفہ عشق میں اشارہ کیا ہے۔
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
اس فلسفہ عشق کے تحت ”میں“” کیا“ ”کیوں“ ”کیسے“ ”کب“ یہ سب ختم ہو جاتا ہے جب جسم سرتاپا عشق ہو جائے تو پھر ”میں“” کیا“ ”کیوں“ ”کیسے“ ”کب“ رہ بھی کیسے سکتا ہے۔ کیونکہ تنقید تو عقل کا شیوہ ہے جبکہ عشق کوئی مطالبہ نہیں کرتا۔ سرتاپا عشق بننے والے منصور کو انا الحق کا نعرہ لگا کر دار پر بھی مسکرا کر چڑھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ تکلیف کا احساس تو خاکی جسم کو ہوتا ہے ۔لیکن جو سرتاپا عشق بن جائے اس کا درد کہاں اسے تکلیف کیسی؟ حضرت سلطان باہوؒ اسی لئے تو کہتے ہیں۔
الف ایمان سلامت ہر کوئی منگے، عشق سلامت کوئی ہُو
منگن ایمان شرماون، عشقوں دل نوں غیرت ہوئی ہُو
حاصل اس بحث کا یہ ہی ہے کہ صوفیا کرام کا پورا پیغام ہی عشق ہے۔ ایک شعر ملاحظہ کریں جسے بلھے شاہؒ سے ہی منسوب کیا جاتا ہے لیکن بلھے شاہؒ پر مستند سمجھے جانے والے اساتذہ کی مختلف رائے ہے، بلکہ اسے میاں محمد بخشؒ کی تخلق کہاجاتا ہے۔
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کج ڈھیندا
اک بندے دا دل ناں ڈھاویں رب دلاں وچ رینداں
بعض ماہرین دوسرا مصرعہ اس طرح بھی لکھتے ہیں۔
اک بندےاںدا دل ناں ٹاویں میرا رب دلاں وچ ریندا
اگر ہم صوفیا کرام کے پیغامِ محبت پرمکمل عمل نہیں بھی کر سکتے تو کم از کم نفرت کو ترک کر کے ایک دوسے کا خون بہانا تو چھوڑ سکتے ہیں اور یہی ہمارے انسان ہونے کی چھوٹی سی دلیل ہو گی۔ بقول کبیر
اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے
ایک نور سے جگ اُپیجا کون پلے کون مندے