حضرت میراں بخش مجلی (سرکارؒ)

رانا دلشاد قادری


سرگودھا شہر کے مرکز سے کڑانہ کے خاموش زردرو پہاڑی سلسلہ کی طرف جانے والی شاہین آباد روڈ پر واقع تین محرابوں پر مشتمل بڑا سا خوبصورت دروازہ ہے جو بظاہر آستانِ فضل کی بتی کا صدر درواز ہے۔ ’’آستانہ فضل‘‘ کی یہ پرخلوص بستی جو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہتی ہے کہ القادر ماڈل ہائی سکول اور القادر طبیہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کوئی انسان علم و ہنر سے محروم نہ رہے اور ہر مریض اس گیٹ کے پہلو میں واقع شفاخانہ ’’الخیر‘‘ سے شفا پائے۔ عظیم دروازہ، خوبصورت مسجد اور گیارہ دری، ورلڈ موونگ گلوب، فضل ہال اور لنگرخانہ ہی بستی کا طرۂ امتیاز نہیں، پوسٹ آفس اور پی سی او کی سہولت بھی مہیا ہے۔ انگریز جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد بچی کھچی مسلم قوم کو توپوں کے دہانوں کے آگے باندھ کر انہیں اس طرح بکھیر دینا چاہتا تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں کہیں کوئی اسلام کا نام لیوا باقی نہ رہے لیکن ایسے میں ایک خوبصورت نوجوان… شاہ مرد کہئے کہ مرد کامل سید میراں بخش نام تھا اور شعر و ادب کے لگائو کے باعث مجلی تخلص فرماتے تھے۔ پاک و ہند کے شہر شہر، قربہ قریہ میں مجذوبانہ روپ دھارے جدوجہد کے پیغام کو نہایت رازداری سے عام کیا کرتے لیکن آزادی کی شمع اور جہاد کی غیرت آپ نے جن جوانوں کے سینوں میں روشن کر چھوڑی تھی وہ آپ کے مشن کو پھیلانے اور آگے بڑھانے کیلئے مصروف عمل ہو گئے۔ یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔ قوت آزادی کی یہ زنجیر مربوط و وسیع ہوتی گئی۔ آپ کے ارادتمندوں، ماننے والوں یا مریدوں کی تعداد بھی بڑی تھی کیونکہ آپ غلام احمد قادری کے خلیفۂ خاص باصفا اور جید ترین عالم دین تھے۔ حضرت میراں بخش مجلی کو نویں واسطہ سے شیخ طاہر بندگی گیارہویں واسطے سے سید کمال الدین کیتھلی اور 23ویں واسطے سے پیران پیر جناب غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی سے روحانی نسبت تھی اور پھر حضرت میراں بخش مجلی کو حریت پسندوں کی اس فوج کے معصوم سالار سید محمد فضل شاہ مل گئے۔ سادات ساڈھورا کے یہ نامور سپوت کہ جن کی گلی میں 1857ء کی جنگ آزادی نے دم توڑا تھا وہیں ریشمی رومال کی تحریک بیدار ہوئی۔
سید محمد فضل شاہ تاریخ سوزی سے تاریخ سازی کے سفر کے وہ گمنام شہید ہیں جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کے قریہ قریہ آزادی و حریت کی جوت جگائی اور اسلام کے پرچم سربلند کئے۔ حضرت میراں بخش مجلی بہت مختصر بات فرماتے۔ سوال کا جواب دینے کے بعد فرماتے کہ اب چلے جائو… آپ کبھی فضول باتوں میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ وقت کے انتہائی پابند اور قدردان تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وقت کو فضول اور بے کار باتوں میں ضائع کرنے کے بجائے یاد الٰہی میں یا کسی تعمیر ی سوچ اور کام میں صرف کرو… زندگی بہت مختصر ہے کوشش کرو کہ لوح وقت پر انمٹ نقوش چھوڑ جائو جو آنے والے وقتوں میں رہنما اصول کا کام دیں۔ طریقت کے لحاظ سے آپ وحدت الوجود کے قائل اور ’’پیار‘‘ مشرب انسان تھے۔ اپنے وقت کے بے مثال شاعر تھے۔ آپ کا کلام جو بعض پرانے قوالوں کے پاس محفوظ رہا اور وہ بھی بہت کم، باقی کلام غیرمطبوعہ ہونے کی بنا پر تقسیم ملک کی دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکا، آپ کا بہت کم کلام بعد میں جمع کر کے طبع کروایا گیا۔ تحریک پاکستان سے 20 سال قبل آپ نے ببانگ دہل فرمانا شروع کر دیا تھا کہ مسلمانو! یہاں سے چلے جائو، تمہیں یہ ملک چھوڑنا ہو گا۔
لدھیانہ میں سکول گرائونڈ کے پاس آپ کا شاندار مزار تعمیر کیا گیا جس پر تقسیم ہند کے بعد ایک ہندو نومسلم عقیدتمند عزیز نامی مجاوری کر رہا ہے۔ آپ کے عقیدت مندوں میں تین برگزیدہ ہستیاں ہوئی ہیں… پیر سید محمد فضل شاہ، صوفی فیض الحق فیض اور میاں شیر محمد (ہارون آباد)
حضرت میراں بخش مجلی کا سالانہ سہ روزہ عرس مبارک 22 مئی تا 24 مئی آستانہ فضل میں عقیدت و احترام سے منعقد ہو گا۔ تقریبات میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔