حضرت اسماؓ کا عورتوں کے اجراء کے بارے میں پیارے نبی ﷺ سے سوال

اسماؓ بنت یزید انصاری صحابیہ حضور اقدسؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان میں مسلمان عورتوں کی طرف سے بطور قاصد حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں بیشک آپؐ کو اللہ جل شانہ نے مرد او عورت دونوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ اس لئے ہم عورتوں کی جماعت آپؐ پر ایمان لائی اور اللہ پر ایمان لائی لیکن ہم عورتوں کی جماعت مکانوں میں گھری رہتی ہے۔ پردوں میں بند رہتی ہے مردوں کے گھروں میں گڑی رہتی ہے اور مردوں کی خواہشیں ہم سے پوری کی جاتی ہیں ہم ان کی اولاد کو پیٹ میں اٹھائے رہتی ہیں اور ان سب باتوں کے باوجود بہت سے ثواب کے کاموں میں ہم سے بڑھے رہتے ہیں ۔جمعہ میں شریک ہوتے ہیں جماعت کی نمازوں میں شریک ہوتے ہیں بیماروں کی عیادت کرتے ہیں جنازوں میں شرکت کرتے ہیں۔ حج پر حج کرتے رہتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر جہاد کرتے رہتے ہیں اور جب وہ حج کے لئے یا عمرہ کے لئے یا جہاد کے لئے جاتے ہیں تو ہم عورتیں ان کے مالوں کی حفاظت کرتی ہیں ان کے لئے کپڑا بنتی ہیں ان کی اولاد پالتی ہیں کیا ہم ثواب میں ان کی شریک نہیں۔ حضور اقدس ؐ یہ سن کر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ تم نے دین کے بارے میں اس عورت سے بہتر سوال کرنے والی کوئی سنی صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ہم کو خیال بھی نہ تھا کہ عورت بھی ایسا سوال کر سکتی ہے اس کے بعد حضور اقدس ؐ اسماؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ غور سے سن اور سمجھ جن عورتوں نے تجھ کو بھیجا ہے ان کو بتا دے کہ عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ اچھا برتائو کرنا اور اس کی خوشنودی کو ڈھونڈنا اور اس پر عمل کرنا ان سب چیزوں کے ثواب کے برابر ہے۔ اسماؓ یہ جواب سن کر نہایت خوش ہوتی ہوئی واپس ہو گئیں۔ ف عورتوں کا اپنے خاوندوں کے ساتھ اچھا برتائو کرنا اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا بہت ہی قیمتی چیز ہے مگر عورتیں اس سے بہت ہی غافل ہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے ایک مرتبہ حضور اقدسؐ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ عجمی لوگ اپنے بادشاہوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں، کہ ہم آپ کو سجدہ کیا کریں۔ حضور اقدس ؐ نے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اگر میں اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کا حکم کرتا تو عورتوں کو حکم کرتا کہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں پھر حضورؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عورت اپنے رب کا حق اس وقت تک ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ خاوند کا حق ادا نہ کرے۔ ایک حدیث میں آیا کہ ایک اونٹ آیا اور حضورؐ کو سجدہ کیا صحابہؓ نے عرض کیا جب یہ جانور آپ کو سجدہ کرتا ہے تو ہم زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔ حضورؐ نے منع فرمایا اور یہی ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ کسی کو اللہ کے سوا سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۔ ایک حدیث میں آیا کہ جو عورت ایسی حالت میں مرے کہ خاوند اس سے راضی ہو وہ جنت میں جائے گی۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر عورت خاوند سے ناراض ہو کر علیحدہ رات گزارے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں ایک حدیث میں آیا ہے کہ دو آدمیوں کی نماز قبولیت کے لئے آسمان کی طرف اتنی بھی نہیں جاتی کہ سر سے اوپر ہی ہو جائے ایک وہ غلام جو اپنے آقا سے بھاگا ہو اور ایک وہ عورت جو کہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہو۔