برق گرتی ہے تو بے چارے غریبوں پر

ڈاکٹر محمود جاہ     
سارا دن کام کر کے عمر دراز شام گئے گھر لوٹا تھا۔ آتے ہی بچے اس کے گرد جمع ہو گئے۔ بچوں کی پیاری اور معصومانہ باتوں سے سارے دن کی تکان اور تھکاوٹ اتر گئی۔ صبح سے موسم میں خنکی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ عصر کے بعد ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ ایک دم اندھیرا چھا گیا۔ طوفانی ہوائوں کے جھکڑ چلنے لگے۔ سارے بچوں کو ایک کمرے میں جمع کر لیا۔ ایک دم موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ آندھی کی رفتار 110 میل فی گھنٹہ ہو گئی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ آج سب ہوا اڑا لے جائے گی۔ لگ رہا تھا کہ مکانات بگولے میں اڑ جائیں گے۔ اچانک زور دار دھماکہ ہوا۔ مکان کی کچی چھتیں زمین بوس ہو گئیں۔ کچھ دیر تک بچوں کی چیخوں کی آوازیں آتی رہیں پھر ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ملبے نیچے آ کر سب کچھ تباہ ہوگیا۔ طوفان بردو باراں تھما تو پڑوسیوں نے آ کر ملبہ اٹھایا۔ ہم سب زخمی تھے اور تین بچے جن کی پیاری باتوں نے کچھ لمحے پہلے سارے دن کی تکان اتاری تھی ابدی نیند سو چکے تھے۔ ثمر پشاور کے غریب محلے کا باسی عمر دراز اپنی داستان غم سناتے ہوئے زور زور سے ہذیاتی کیفیت ہی رونے لگا۔ اس نے ہمیں بھی رُلا دیا۔ طوفان گذرے دو دن ہو چکے تھے۔ بچوں کو کل دفنایا تھا۔ ابھی تک کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے اسلم مروت اور سب ساتھیوں نے مل کر اس گھر کے لیے عارضی طور پر ٹینٹ لگایا تو بوڑھا عمر دراز اپنا غم بھول کر دعائیں دینے لگا۔
25 اپریل رات اسلام آباد واپسی پر جونہی پشاور میں طوفان بردو باراں سے تباہی اور بربادی کی داستان سنی تو فوری طور پر ساتھیوں سے مشورہ کر کے پشاور جانے کا پروگرام بنا لیا۔ پشاور میں جونہی طوفانی بارشوں کی خبر ملی۔ خیبرپختونخواہ میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم کو فوراً پشاور پہنچنے کا کہا۔ مردان سے کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم رات گئے آفت زدہ علاقوں میں پہنچ کر مصروفِ عمل ہو گئی۔ اسلم مروت پشاور شہر سے اپنے لائو لشکر کے ساتھ مصیبت زدوں کی مدد کے لیے پہنچ گئے تھے۔ ہماری ٹیموں نے سب سے پہلے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی علاج اور خدمت کا سلسلہ شروع کر دیا اللہ کا فضل ہے کہ ملک کے کسی حصہ میں جب بھی کوئی آفت یا حادثہ ہوتا ہے تو اللہ کی توفیق اور مخیر حضرات کے تعاون سے ہماری ٹیمیں آفت زدہ علاقوں میں پہنچ کر مصروف عمل ہو جاتی ہیں۔ پشاور جانے کا پروگرام بنتے ہی مخیر حضرات کے فون آنا شروع ہو گئے۔ دیرینہ ساتھی اور خیر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے سید محبوب علی اور ان کے دوست وسیم نے راشن اور ادویات کے لیے فوراً رقم بھجوا دی۔ انسان دوست اور مختلف ہسپتالوں میں Medi Bank قائم کر کے مفت دوائیں مہیا کرنے والے سید جاوید نثار نے نہ صرف دوائیں بھجوائیں بلکہ پشاور میں Medi Bank کی ٹیم کو بھی ہمارے ساتھ کر دیا۔ سجاد شاہ نے متاثرین خواتین کے لیے خوبصورت چادریں اور بچوں کے لیے خوبصورت گفٹ تیار کر لیے۔ اشفاق نے دوائوں اور راشن کا انتظام کیا۔ توفیق اور پرویز کے موبائل ہسپتال سمیت رات گئے روانہ کیا۔
28 اپریل 2015ء کو صبح سویرے میو ہسپتال کے ڈاکٹر قدرت اللہ نیازی، کامران سکندر، اعظم، اشفاق، رفیق، قاری عبدالرحمان کے ساتھ پشاور کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ مردان سے محمد اقبال بھی ساتھ آن ملے۔ 6 گھنٹہ کے طویل سفر کے بعد جاتے ہی کام شروع کر دیا۔ اسلم مروت نے پہلے ہی میلہ سجایا ہوا تھا۔ Medi Bank کی ٹیم بھی پہنچی ہوئی تھی۔ مریضوں کی کثیر تعداد جمع تھی۔ ہر کوئی اپنی بربادی کی داستان سنا رہا تھا۔ اسلم مروت کے گرد بچوں کا جم غفیر تھا۔ پشاور کے نیک دل کلکٹر محمد عامر نے اپنا اینٹی سمگلنگ اسکواڈ بھی ہمارے لیے بھیج دیا تھا۔ آرام کی بجائے جاتے ہی میڈیکل کیمپ کا آغاز کر دیا۔ ثمر باغ بالا کے مکین پنجاب سے علاج اور خدمت کے قافلے کی آمد پر بہت خوش تھے۔ خیبرپختونخواہ  سے اپنا 2005 ء سے پیار اور محبت کا رشتہ ہے۔ یہاں گذشتہ 10 سال سے علاج اور خدمت کا سلسلہ جاری ہے یہاں سے پیار اور محبت ملتا ہے۔ اللہ نے ہمیں توفیق دی کہ سب سے پہلے ہم متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور متاثرین کی خدمت کی اسلم مروت نے بچوں میں گولیاں ٹافیاں اور دوسرے گفٹس کی تقسیم کا کام سنبھال لیا۔ ساتھ ساتھ راشن بھی تقسیم ہوتا رہا۔ مریض عورتیں، بچے اور مرد اپنی تباہی کی داستانیں سناتے رہے۔ ثمر باغ کے علاقے میں سارے مریضوں کو چیک کر کے دوائیں دے کر آگے بڑھے اور دوسری جگہ پکا غلام میں کیمپ کا آغاز کیا۔ یہاں بھی مریض جسم میں درد، بخار، کھانسی، خارش، سانس کی تکلیف کے ساتھ آئے۔ مرد اور عورتیں اینٹیں گرنے اور ملبے تلے آنے کی وجہ سے زخمی تھے ان کی مرہم پٹی کی اور جسم میں درد کی شکایت کر رہے تھے۔ سب کو دوائیں دیں۔ متاثرہ علاقوں میں ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ٹیم نہ پہنچی تھی۔ رات گئے ادھریما کے متاثرہ علاقے میں میڈیکل کیمپ لگایا کافی دیر تک مریضوں کا علاج جاری رہا۔ عورتوں اور بچوں کی کثیر تعداد یہاں جمع تھی۔ اشفاق اور عبدالرئوف نے متاثرین میں ریلیف اشیاء اور راشن تقسیم کیا۔ یہاں بھی متاثرین اپنی تباہی اور بربادی کی داستانیں سنا کر ہمیں رُلاتے رہے۔ اہل علاقہ کو جب پتہ چلا کہ لاہور سے میڈیکل ٹیم آئی ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ یہاں بھی زیادہ تر مریضوں کو چھتیں اور دیواریں گرنے سے چوٹیں آئی ہوئی تھیں۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے بچوں کو انفیکشن اور بخار تھا۔ ہمارے کیمپوں میں ابھی تک 2000 سے زیادہ مریضوں کا علاج ہو چکا تھا۔ متاثرہ علاقوں میں گذشتہ تین دن سے بجلی بند ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ دو دنوں میں پشاور میں موٹر وے کے قریب متاثرہ گائوں وڈپگا، پکا غلام بودو، ادھریما اور ثمر باغ میں میڈیکل اور ریلیف کیمپ لگائے اور سینکڑوں مریضوں کو چیک کر کے ادویات دیں اور جن مریضوں کو فوری مرہم پٹی کی ضرورت تھی ان کو ابتدائی طبی امداد دی۔
محمد خان نے روتے روتے اپنے موبائل سے تین سال کے زریں گل کی تصویر دکھائی جو ملبے تلے آ کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ اگلے دن چار سدہ کے علاقے واحد گڑھی میں کیمپ لگایا۔ اس علاقے میں 60 گھروں کی چھتیں اڑ گئیں اور متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی تیار اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ یہاں بھی کوئی ٹیم ابھی تک نہ پہنچی تھی۔ رات گئے تک ان علاقوں میں کام کیا اور 500 مریضوں کو چیک کر کے ادویات دیں۔
پشاور اور چار سدہ میں متاثرین کی خدمت کرتے ہوئے اس بات کا شدید احساس ہوا کہ طوفان بادو باراں سے صرف غریب لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ کچے گھروں کی چھتیں گری ہیں اور زیادہ تر غریب لوگ اور ان کے بچے اس کی نذر ہوئے ہیں۔ ملک میں جنگلات کے خاتمے جس میں بنیادی کردار ٹمبر مافیا کا ہے کی وجہ سے موسموں میں انجانی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ ملک میں ہونے والے پے در پے واقعات اور طوفانوں اور زلزلوں کی آمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے۔ اس وقت اجتماعی توبہ کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہیے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو کر ناگہانی مصیبتوں اور آفتوں سے نجات دے۔