اپنے پیاروں کی موت پر ضرور روئیں

طیبہ جبیں
موت ایک اٹل حقیقت ہے ارشاد خداوندی ہے ’’کل نفس ذائقہ الموت‘‘ موت کا ذائقہ  بلاشبہ ہر نفس کو چھکنا ہے  مجھے اپنی والدہ مرحومہ کی موت کا صدمہ آج تک یاد ہے جس کے گہرے اثرات اس بری طرح مجھ پر پڑے ہوئے کہ میں اور میرے بہن بھائی جیسے تادیر اس کیفیت سے نکل نہ سکے۔ میری والدہ سلطان جہاں آراء بیگم کو خدائے بزرگ و برتر ایک بیٹا اور دو بیٹیوں کی نعمت سے نوازا۔ ماں قدرت کا ایک عظیم تحفہ ہے اس کی خدمت کرنا باعث اجرو ثواب ہی نہیں دل کے اطمینان کا ذریعہ بھی میری والدہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون نہ تھیں اس کے باوجود انہوں نے ہم بہن بھائیوں کو صرف اعلیٰ تعلیم دلوائی مگر افسوس جب ہم دونوں بہن اور بھائی اپنے ماں باپ کیلئے  خوشیوں کا آنگن آباد کرنے کے قابل ہوئے تو گیارہ سال قبل والد انتقال کرگئے اور پھر 15سال قبل 30جولائی بروز جمعرات بمطابق 7شعبان المعظم علی الصبح ہماری والدہ بھی کسی علامت کسی عارضے کے بغیر  اچانک درد مضارفت دیکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہم سے جدا ہوگئیں گھر میں سب سے بڑی ہونے کے ناطے باقی افراد خانہ کی ڈھارس کیا بنتی خود اس صدمہ کو برداشت نہ کرسکی اتنی اچانک موت تھی کہ کیوں، کیسے جیسے سوالات مسلسل پیچھا کرتے رہے دم بخود ہوکر جو اثرات مجھ پر مرتب ہوئے اس سے تقریباً دو مہینے تک میری بھوک پیاس اور نیند بھی جاتی رہی ایک ماہر نفسیات سے مشورہ لینے کا سلسلہ شروع کیا ڈاکٹر کی اچانک موت واقع ہوگی لہذا میرے مرض کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگیا اور ایک وقت ایسا آگیا کہ مجھے بعض نسوانی مسائل نے گھیر لیا لیڈی ڈاکٹر کے پینل نے کوئی ٹیسٹ کراوئے بغیر معائنہ کے بعد کینسر کی نشاندہی کردی۔ کینسر ہسپتال میں چیک اپ کروایا تو انہوں نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے گائنی کے شعبہ میں اندرونی چیک اپ کروانے کا مشورہ دیا۔ لیڈی ڈاکٹر کے معائنے کے دوران سرجری کا طے کرلیا گیا مجھے خدا بتر جانے کیا ہوا کہ سات گھنٹے آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت کی آزمائش سے گزرنا پڑا جہاں غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود مجھے زچگی جیسے بڑے آپریشن سے گزار دیا گیا میری آزمائش یہی ختم نہ ہوئی ٹانکے کھل جانے سے پس پڑگئی تو مجھے دوسرے ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں داخل کروادیا گیا افراد خانہ شعبہ ایمرجنسی میں پہنچے تو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ تمام ٹانکے کاٹ کر شعبہ ایمرجنسی میں لے جاکر دوبارہ آپریشن کیا گیا جبکہ زہر جسم میں سرایت کر چکا تھا انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بہتر مرگ پر کئی روز بعد معجزاتی طورپر ہوش میں آنے پر گھر شفٹ کردیا گیا جہاں ساڑھے چار مہینے تک ٹائلٹ بیگ سمیت بستر پر معذور افراد کی طرح زندگی کے ایام کاٹتی رہی رب کریم کا عظیم احسان ہے کہ ان ساڑھے چار مہینوں میں گھر والوں کی دعائوں کے نتیجہ میں زخم مندول ہوگئے میں نارمل زندگی میں لوٹ آئی۔ مختصر گائنی کے ڈاکٹروں نے تو مجھے موت کی وادی میں دھکیل دیا تھا مگر مجھے اللہ نے زندگی بخشی۔ مگر ان تمام تکالیف سے گزرنے کے بعد اب مجھے سوسائٹی کی نظروں کا سامنا تھا یہی سوچ کر صبر کرلیتی ہوں رب کائنات نے زندگی دی ہے تو اس کا شکر بجالانا ہوگا اور اسے سلیقے سے گزارنا ہوگا۔ الحمداللہ محکمہ زراعت کی جانب سے گلدانی اور چمن آرائی کا پندرہ روزہ کورس میری نفسیاتی حالت کی بہتری کا ذریعہ ثابت ہوا بعد میں تین ماہ کا کورس جوائن کرلیا اور پھر ایک سالہ ڈپلومہ بھی مکمل کرلیا کسی بھی کام کیلئے الوار مرضی اور ثابت قدمی کس قدر ضروری ہے یہی میری زندگی کا نچوڑ ہے۔ بے شک کوئی بھی فردماں جیسے رشتے کی کمی پوری نہیں کرسکتا پھر بھی کوئی بھی گھر بغیر Head of familyکے چل نہیں سکتا۔ یہی سوچ کر آج زندگی کے حقائق سے نبردآزما ہوں میری چھوٹی بہن کمزور اور لاغر دیکھائی دینے لگی میری اس پر میرا اکلوتا بھائی جوگورنمنٹ سرونٹ ہے اس نے پانچ سال میں والدین کی عدم موجودگی کے باوجود بہنوں کو کسی طرح کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا رب کائنات کسی کو زندگی میں کوئی کمی نہ آنے دے اور دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال کردے(آمین)
میری تمام والدین سے استدعا ہے کہ تعلیم نسواں کو خصوصی اہمیت دیں تاکہ ہر کمزور مخلوق حالات کے تھپڑوں کا شعور کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔