امن کی ضمانت

امن کی ضمانت

اسلحہ لائسنسی ہو یا غیر لائسنسی دونوں کسی بھی انسان کی جان لے سکتے ہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آئے روز خبریں آتی ہیں کہ ذرا سی بات پر تلخ کلامی ہوئی اور اس نے فائر کر کے دوسرے شخص کو قتل کر دیا۔ اسی طرح عید کے روز ایک وکیل اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ قبرستان گیا جہاں معمولی بات پر دوسرے فریق نے شہر خموشاں ہی میں تینوں باپ بیٹوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ اسی طرح کبھی یہ  وحشت ناک خبر دلوں کو سوگوار کر دیتی ہے کہ شادی کے موقع پر باراتیوں نے خوشی کا اظہار ہوائی فائرنگ سے کیا اور دو بچے اس کی زد میں آکر  اس دنیا سے چلے گئے۔’’اسلام ہمیں رواداری محبت کا درس دیتا ہے جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچا لیا اور جس نے ایک انسان کو ناحق مارا اس نے ساری انسانیت کا خون کر دیا‘‘
 دیکھا جائے تو آج وطن عزیز پاکستان میں زیادہ جانی  نقصان لائسنسی اسلحہ سے ہو رہا ہے اور ڈاکوئوں کے پاس بھی وہی اسلحہ ہے جو پولیس کو ناکوں پر لائسنس دکھا کر صاف بچ نکلتے ہیں اور آگے جا کر ڈاکے یا عام شہریوں کو اسلحہ دکھا کر خوفزدہ کر کے ان کے مال و اسباب کو لوٹ لیتے ہیں اور مزاحمت پر مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
 آج جس شخص کے پاس کھانے کو روٹی نہیں مگر آتشی اسلحہ سے لیس ہے۔ بیوی نے کھانا پکانے میں ذرا سی دیر لگائی اور شوہر نے اسلحہ نکال کر اسے مار  دیا ۔ اسلحہ قانونی ہویا  غیر قانونی  چین سمیت بڑے بڑے  ترقی یافتہ ممالک  میں کسی عام شہری کو رکھنے کی اجازت نہیں مگر ہمارے ہاں اسلحہ کے انبار لگے ہوئے ہیں اور جرائم کی شرح میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ اس  کی فراوانی بھی ہے۔
حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں  جس سے عام آدمی کے پاس اسلحہ نہ ہو اور اگر ایسا ہو گیا تو اس سے قتل و غارت کی وارداتوں میں بھی کمی آئے گی اور دوسری طرف عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو گا آج دیگر جرائم کے علاوہ قتل کے مقدمات کی بھر مار کے باعث انصاف میں دیر ہوتی ہے، جب اسلحہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگا تو لازمی امر ہے اس سے جرائم کی شرح میں بھی کمی آئے گی اور ہمارے علما کرام کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کو اس سے آگاہ کریں کہ ایک دوسرے کی جان نہ لیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر ہر قسم کے اسلحہ پر پابندی لگا دی جائے تو مجھے یقین ہے کہ آدھے پولیس سٹیشن ویران ہو جائیں گے کیونکہ جب کوئی اپنے پاس موجود قانونی و غیر قانونی اسلحہ سے کسی کی جان لیتا ہے تو دونوں اطراف کے فریقین  کیس کو اپنے حق میں درج کروانے کے لئے پولیس کی خدمت کو فرض سمجھتے ہیں۔
میری تو حکومت کے ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان  اور آرمی چیف سے بھی اپیل ہے کہ وہ نیکی کا کام کر جائیںحکومت جس طرح  وطن کو  پولیو سے ختم کرنے کی ملک گیر مہم چلا کر قوم کے نونہالوں کو صحت مند بنا کر معاشرہ کا کارآمدشہری بنانے کے سلسلے میں کام کر رہی ہے اگر وہ وطن عزیز کو اسلحہ سے پاک کرنے کے سلسلے میں بھی اسی طرح کی مہم چلائیں تو یہاں امن کا دور دورہ ہوگا
کرو مہربانی تم اہل زمیں  پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
مجھے یقین ہے جو اسلحہ پر پابندی لگائے گا اس سے خدا اور اس کا رسول  ؐبھی خوش ہوگا اور یہ خطہ پاک بھی   امن کا گہوارہ بن جائے گا اور ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔
اسلحہ ہی کا  نتیجہ ہے کہ آج پولیس والے بھی ڈاکوئوں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہو رہے ہیں ، وکیل، تاجر کوئی بھی  ڈاکووں سے محفوظ نہیں، روزانہ سٹریٹ کرائم کی واداتوں میں شہری مال واسباب سے محروم ہو رہے ہیں بلکہ کئی مزاحمت کے نتیجہ میں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے   بڑے بڑے افسران کے پروٹوکول اور حفاظت  کررہے ہوتے  ہیں  امن وامان  کے لئے اصل کام اسلحہ پر مکمل پابندی ہی  میں ہے
آج صورت حال یہ ہے کہ گھر سے کام پر جانے والے کے اہل خانہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ بخیریت شام کو  گھر واپس آجائے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلحہ سے لیس ڈاکو سماج دشمن عناصر سے کچھ بعید نہیں کہ وہ کب اور کس کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ معاشرے میں خرابی کی جڑ اسلحہ ہی ہے وہ لائسنسی ہو یا غیر لائسنسی۔ اگر حکومت تحفظ دے تو کسی کو اسلحہ رکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو، قوم امید کی نظروں سے حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔
    پر امن معاشرے میں اسلحہ کی قطعاً ضرورت نہیں۔اسلحہ بنیادی طور پر  دشمن سے محفوظ رہنے کے لئے  رکھا جاتاہے لیکن  جب انسان،انسان کشی کے لئے اسلحہ کو اپنی ضرورت بنا لے تو یہی اسلحہ مہلک اور ہلاکت جان بن جاتا ہے۔سماج سدھارو مہم اسلحہ سے پاک معاشرے کے لئے ناگزیر ہے۔غصہ بھی ایک اسلحہ ہی ہے۔کیونکہ غصہ آنے کی صورت میں ہی اسلحہ استعمال کرنے کی نوبت آتی ہے۔اگر بردباری اور رواداری کے اصول زندگیوں میں شامل ہوجائیں تو غصہ مزاجوں پر کم سے کم اثر انداز ہو اور بربادی کے واقعات  رونما نہ ہوں۔سب سے بڑی بات یہ ہے۔خدا پہ یقین اور نصیب پر شاکر رہنے کی خو دلو ں کو پر سکون رکھنے کا خوگر بنا دیتی ہے،اور زندگی اطمینان کا گہوارہ بن جاتی ہے۔جب اطمینان حاصل ہوگا،غصہ نہیں آئے گا اور اسلحہ استعمال کرنے کا خیال ہی ذہنوں سے نابود ہوجائے گا۔
حکومت کو چاہیے اسلحہ قانونی ہو یا غیر قانونی اس کی پڑتال کرے،سب سے پہلے تمام اسلحہ رکھنے والوں سے اسلحہ برآمد کرکے اپنے پاس جمع کرلے۔اس کے بعد ایک جائزہ پروگرام کے تحت یہ یقین کیا جائے کسے اسلحے کی جائز ضرورت ہے کسے نہیں،اس کے بعد صرف ضرورت مندوں کو اس ضمانت پر اسلحہ دیا جائے وہ اس کا بے جا استعمال نہیں کریں گے۔