اسلام آباد میں نظام صلوۃ کا متفقہ وتاریخی فیصلہ

محمد ریاض اختر

امام کعبہ شیخ خالد بن علی الغامدی کی پاکستان میں پذیرائی دراصل سعودی عرب کے مقدس مقامات سے قوم کی والہانہ عقیدت و محبت کی علامت ہے ۔وہ لاہور ‘ اسلام آباد سمیت جہاں بھی گئے لوگ جوق درجوق دیدہ ودل فرش راہ کئے رہے ۔ بحریہ ٹاؤن لاہور کی مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع میں ایک لاکھ نمازیوں کی شرکت اور پھر فیصل مسجد میں ایک لاکھ سے زائد عقیدت مندوں کے جم غفیر میں عقیدت و احترام اور اپنائیت کے ایسے مناظر دیکھے گئے جن کی کسک مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔مہمان محترم شیخ خالد بن علی الغامدی کی پاکستان کی با برکت آمد کی ایک جھلک اسلام آباد میں نظام صلوۃ کے تاریخی فیصلہ کے نفاذ میں دیکھی گئی ۔جس کیلئے صدر مملکت ممنون حسین ‘ وزیراعظم میاں نوازشریف اور وفاقی وزیر مذہبی سردار محمد یوسف بلا شبہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔جن کی اسلام دوستی کے سبب وفاقی دارالحکومت میں نمازوں کے اوقات میں یکسانیت جیسا عدیم المثال قدم اٹھایا گیاہے ۔
اسلام میں نماز کی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتا ہے اس پر نماز فرض ہے یعنی پہلے کلمہ اور پھر نماز ۔ نماز پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے نماز قائم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے قرآن پاک میں ہدایت دی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو اگر ہم دنیا میں اقتدار دیں تو یہ نماز قائم کرتے ہیں ۔ ماضی میں اگرچہ جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور میں نظام صلوٰۃ قائم کیا لیکن اس کو بھی صحیح روح کے مطابق نہ اپنایا گیا ۔اس کے باوجود اس کے اثرات ہیں اور پہلے جو لوگ مسجد جاتے ہوئے شرماتے تھے اب نہ جانے والے شرمانے لگے … سردار محمد یوسف کو جب سے وزیر مذہبی امور کا منصب سونپا گیا انہوں نے اپنا دن رات ایک کر دیا وزارت مذہبی امور کا ایک اہم حصہ حج ہے چنانچہ حج 2014 جس احسن طریقے سے کروایا گیا وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے حاجیوں کی جس انداز سے وہ خدمت کر رہے ہیں ،اس کی مثال نہیں ملتی۔وزیر مذہبی امور کا دوسرا ٹارگٹ یہ تھا کہ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ وزارت مذہبی امور کو صحیح معنوں میں زندہ کرنا ہے چنانچہ انہوں نے ملک بھر میں علمائے کرام کے اجتماعات منعقد کیے اور انہیں 13 نکات پر متفق کیا (یہ جلد قومی سطح پر لائے جائیں گے ) اسی طرح قرآن کریم کی طباعت و اشاعت کے بارے میں اجلاس منعقد کیے اور قرآن کمپلیکس کا منصوبہ بنایا ۔وزیر موصوف کو علماء کرام اور سماجی شخصیات کی جانب سے تسلسل کے ساتھ یہ تجویز دی جاتی رہی کہ جس طرح کچھ دیگر اسلامی ممالک میں نظام صلوٰۃ قائم ہے پاکستان میں بھی نظام صلوٰۃ نافذ کیا جائے ۔ انہوں نے علماء کی مختلف مجالس میں اس تجویز کے جواب میں سب سے عہد کیا کہ وہ اس نظام کو زبردستی نافذ کرنے کے بجائے اس کو عوام کی کی مرضی کے مطابق نافذ کریں گے ۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا مرحلہ علمائے کرام کا اتفاقِ رائے تھا۔ چنانچہ وزیر مذہبی امور کی صدارت میں اسلام آباد کے تمام آئمہ کرام کا ایک اجلاس بلایا گیا جہاں وزیر محترم نے یہ تجویز رکھی ۔ بحث مباحثہ کے بعد علماء کے اتفاقِ رائے سے اور ان ہی کی تجویز پر ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں شیعہ ، سُنی ، دیوبندی ، اہلحدیث مکاتب فکر کی نمائندگی شامل تھی جس میں مفتی ضمیر احمد ساجد (بریلوی) ، علامہ عبد العزیز حنیف (اہلحدیث ) ، علامہ سجاد نقوی (شیعہ) ، مولانا ہارون الرشید (دیو بندی) سمیت دیگر علماء شامل تھے ۔ اس کمیٹی نے مارچ 2015 سے اپنے کام کا آغاز کیا اور متعدد اجلاس منعقد ہوئے ۔ باقی نمازوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا لیکن عصر اور مغرب میں اہلحدیث اور اہل تشیع کے اوقات میں خاصا فرق تھا ۔ کمیٹی کے ارکان نے اپنے اپنے مکاتب فکر کے الگ الگ اجلاس بھی منعقد کیے جہاں پر نظام صلوٰۃ کے حوالے سے بات کی گئی ۔ عصر اور مغرب کے فرق پر اہلحدیث اور شیعہ کے جیّد علمائے کرام کے ساتھ ملاقاتیں کی گئیں ۔اور انہیں عرض کیا گیا کہ امت کے اتحاد کیلئے آپ اس نظام کو قبول کریں ۔اس سلسلہ میں جمیعت اہلحدیث کے حافظ عبد الکریم نے نہایت خوبصورت واقعہ بھی بیان کیا کہ امریکہ سے کچھ مسلمانوں نے امام کعبہ کو سوال بھیجا کہ ہمارے یہاں قبلہ کی سمت پر اختلاف ہے ۔ چنانچہ ایک ہی صف میں کچھ لوگ ایک طرف اور کچھ لوگ دوسری طرف رُخ کرتے ہیں آپ ارشاد فرمائیں ۔امام کعبہ نے نہایت عالمانہ اور تاریخی جواب ارشاد فرمایا کہ اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ لوگ کعبہ کی مخالف سمت رُخ اختیار کر لیں لیکن سب اکٹھے ہوں اتحاد زیادہ بہتر ہے چنانچہ اہلحدیث مکتب فکر نے عصر اور شیعہ علمائے کرام نے مغرب کے سلسلہ میں اپنے موقف میں لچک پیدا کی اور امت کے وسیع تر مفاد میں پوری کمیٹی نے ایک وقت پر اتفاق کیا ۔ اسی دوران انجمن تاجران کی تنظیموں ، چیمبر آف کامرس ، وزارت داخلہ ، اسلام آباد اوقاف ، انتظامیہ کے ساتھ بھی اجلاس منعقد ہوئے ۔ وزیر مذہبی امور کا یہ موقف تھا کہ اس نظام کو زبردستی نافذ کرنے کے بجائے علماء اور عذام کے اتحاد سے نافذ کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں مر کزی انجمن تاجران اور چیمبر آف کامرس ، سمال انڈسٹریز نے بھی بے پناہ تعاون کیا علماء کے اتفاق رائے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ یکم یا 8 مئی کے بعد جمعہ کے اجتماع میں اس کا اعلان فیصل مسجد میں کیا جائے ۔ اس دوران اتفاق سے امام کعبہ شیخ خالد بن علی الغامدی بھی پاکستان تشریف لائے ۔ امام کعبہ کے پاکستان کے دورے کو عوام نے بے پناہ پذیرائی بخشی ۔ اگرچہ امام کعبہ کا دورہ جمعرات کو ختم ہو رہا تھا لیکن میں برادر بدر الحطیبی سے درخواست کی کہ عوام کی خواہش ہے کہ امام کعبہ جمعہ فیصل مسجد میں پڑھائیں ۔ امام صاحب نے درخواست قبول کی سردار محمد یوسف صاحب نے صدر مملکت کو بھی دعوت دی کہ وہ بھی اس موقع پر تشریف لائیں ۔ چنانچہ جمعہ یکم مئی کو فیصل مسجد میں یہ خوبصورت تقریب منعقد ہوئی ۔ نظامت کے فرائض کی سعادت پروفیسر حافظ سجاد قمر کے حصہ میں آئی سب سے پہلے وزیر مملکت برائے مذہبی امور امین الحسنات نے اظہار خیال کیا اور مبارک موقع پر قوم کو مبارکبادی دی ۔ اس کے بعد وزیر محترم سردار محمد یوسف نے نظام صلوٰۃ اول طور پر اسلام آباد میں نافذ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم عوام کے ساتھ مل کر اس کر نافذ کریں گے ۔ پورے سال کیلئے علماء کی کمیٹی نے کیلنڈر بھی تیار کیا ہے ۔
نمازوں کے اوقات کی ترتیب یہ تھی ۔
فجر…اذان ابتدائے صبح صادق ،نماز 30 منٹ کے بعد
ظہر …موسم سرما اذان ایک بجے ،نماز 1:15 بجے
موسم گرما … اذان 1:15 بجے ،نماز 1:30 بجے
عصر …مشلین کے وقت اذان ،نماز دس منٹ بعد
مغرب …غروب آفتاب کے پانچ منٹ بعد
عشاء …غروب آفتاب کے پونے دو گھنٹے بعد اذان، نماز 15 منٹ بعد
جمعہ …سارا سال اذان 12:45،نماز 1:30
اس موقع پر امام کعبہ نے اتحاد امت کے موضوع پر نہایت خوبصورت خطبہ بھی ارشاد فرمایا ۔ صدر مملکت ممنون حسین نے بھی موجود تھے ۔ علاوہ ازیں قائد ایوان سینٹ راجہ ظفر الحق ، ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی ، صدر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش ، ممبران اسمبلی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ موجود تھے ۔ نماز صلوٰۃ کے قیام کے حوالے سے سیکرٹری مذہبی امور سہیل عامر، جوائنٹ سیکرٹری عالم زیب ، ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پہلے منظور خیری اور بعد میں نور سلام شاہ نے بھی نہایت محنت اور تندہی کے ساتھ یہ کام کیا ۔نظام صلوٰۃ کا مکمل نفاذ بہر حال ایک مشکل مرحلہ ہے ۔ لیکن اس میں علماء کرام ، انجمن تاجران ، انتظامیہ اور سب سے بڑھ کر میڈیا کا کردار ہے اس کو احسن انداز میں آگے بڑھایا جائے گا تا کہ یہ کام اسلام آباد سے آگے پورے ملک میں ہو سکے ۔