ارکان اسمبلی

ارکان اسمبلی

کسی ملک میں نظام کو چلانے کیلئے تین ادارے ملک کا ستون کہلاتے ہیں۔ مقننہ ،انتظامیہ ، عدلیہ اور اب چوتھے ستون کی جگہ صحافت نے لے رکھی ہے ۔مقننہ کا کام قانون سازی کرنا ہے اس ادارے میں عوام اپنے اپنے علاقہ سے ایسے لوگوں کو منتخب کرکے بھیجتے تھے جو ملک و قوم کی ترقی کیلئے قانون سازی کرنے کے اہل ہوں اور ایسی پالیسیاں بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں جو ان کی ترجمانی کر نے کے ساتھ ساتھ عوام کی اصلاح کیلئے اپنی خدمات رضائے الہٰی سمجھ کر ادا کرتے تھے ۔ انتظامیہ  کا کام مقننہ کی پالیسیوں اور قانون پر عمل در آمد کرنا تھا اور عدلیہ کا کام عوام انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے ۔ مگر وقت کے ساتھ ان اداروں میں مفاد پرسی، ذاتی پسند نا پسند کا عنصر نظر آنے لگا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب محمد ایوب خاں کے خلاف تحریک چلائی تومارشل لا نے جنم لیا اور ملک میں بد ترین دور کا آغاز ہوا۔ حکمرنوں کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں سے ملک دو لخت ہو گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بچے کھچے پاکستان کا چارج سنبھالا اور ممبران اسمبلی کو سرکاری اداروں اور بیوروکریٹس پر حکومت کا اختیار مل گیا ۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور ہم عوام کے نمائندے ہیں ۔ ممبران اسمبلی کی مداخلت پر افسران کے تقرر تبادلے ہونے لگے، پھر مارشل آگیا کچھ عرصہ مداخلت ٹھنڈی رہی اور مجلس شوریٰ وجود میں آئی اور وہی سلسلہ جاری رہا۔ ایک وقت آیا کہ مارشل ایڈمنسٹریٹر نے غیر جماعتی انتخاب کرائے اور محمد خاں جونیجو کی حکومت بنی اور ارکان اسمبلی اداروں میں مداخلت کیلئے با اختیار رہے ۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے اپنے اختیارات میں اضافہ کیلئے آٹھویں ترمیم منظور کروانے کیلئے ممبران اسمبلی کو 50-50لاکھ روپے حلقہ میں ترقیاتی کام کروانے کیلئے اجارہ داری کا اختیار دیا اس وقت سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور ان اختیارات میں سرکاری اداروں میں کوٹہ سسٹم کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ تمام ادارے سیاسی ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گئے ہیں۔ موجودہ حکومت حسب روایت اپنے ممبران اسمبلی کو اپنے ساتھ رکھنے کیلئے ہر وہ حربہ اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ اگر ہم گذشتہ مارشل لاء  کا ذکر کریں تو چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کئی ایک کام ایسے کئے جو مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دور میں قائم ہونے والی جمہوری حکومت نے ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ بھی دیئے اور سرکاری محکموں میں مداخلت بھی دی مگر پورے ملک میں جمہوریت کے علاوہ خوشحالی ہی نظر آئی ۔ سڑکوں کے جال بچھائے گئے، رابطہ سڑکوں بننے سے کسان کھیت سے منڈیوں تک اپنی اجناس لا کر مناسب منافع حاصل کرتا  تھا ۔ شہروں میں رہنے والے بھی کسی حد تک مطمئن نظر آتے ہیں۔ موجودہ حکمران جب سے اقتدار میں آئے ہیں انہوں نے اختیار کا محور اپنے آپ کو ثابت کیا ہے ۔ اپنے صوابدیدی اختیارات سے ترقیاتی کاموں کو ترجیح دے رکھی ہے ۔ ان کے ممبران اسمبلی بر ملا یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے قصیدے پڑھنے میں ہی ہماری بہتری ہے ، ورنہ ہم کسی حکم کے پابند نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم نامہ جاری کیا تو موجودہ حکمرانوں کو کسانوں اور شہری آبادی کا خیال آیا اور ترقیاتی کاموں کیلئے مجبوراً کروڑوں کی گرانٹس منظور کر دی تا کہ بلدیاتی الیکشن میں عوام سے پذیرائی مل سکے اور مقامی ممبران اسمبلی منہ چھپانے کے بجائے علاقہ کے عوام پر احسان کریں اور ترقیاتی کاموں پر کروڑوں کا فنڈز استعمال کریں ۔ ان ترقیاتی سکیموں کیلئے ممبران اسمبلی کو با اختیار بنا گیا ہے ۔ ان کی مرضی سے ٹھیکے الاٹ ہوں گے مرضی سے کام ہونگے ۔ ادائیگیاں بھی ان کے اختیارات کی طابع ہونگی ۔ اتنے اختیارات اور کروڑوں کے فنڈز ملنے پر ارکان اسمبلی پھولے نہیں سما رہے اور ہر علاقہ میں اپنے مخصوص اور راز دار سپورٹروں کو بلا کر عوام کو باور کروایا جا رہا ہے کہ ہم ان پر احسان کر رہے ہیں ۔ علاقہ میں ترقیاتی کام کروا رہے ہیں۔ مگر بوقت موجودہ حکومت کے نمائندوں کو ہی دینا ہوگا۔ یونین ناظم ہو یا ضلعی ناظم کونسلر اور مخصوص نشستوں پر حکومتی کاروں کو کامیاب کروانا ہوگا۔ ہم ایسے علاقوں کی آج نشاندہی کر رہے ہیں۔ جہاں کا کسان سبزیاں ، پھل ، چارہ، گندم، آلو، چاول کاشت کرنے میں ماہر ہے ۔ اور اپنی اجناس براہ راست منڈیوں میں لاکر فروخت کرنے کا خواہاں ہے  تا کہ اس کو مناسب قیمت مل سکے اور مڈل مین سے بچ سکے ۔ مگر ان علاقوں میں رابطہ سڑکیں نہیں ہیں اگر ہیں تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں۔ ذرائع آمدورفت ناممکن ہے ۔ دولے والا تا حسین خانوالہ، باہمنی والا روڈ، دولے والا تا ہری ہر، بھسرپورہ تا نظام پورہ، بہادر پورہ ، گنڈا سنگھ تا چوہڑی والا، گنڈ ا سنگھ تا بازید پورہ، چوڑی والا، نتھے والا ، نیئے کی ، کانی والا، پھوچکے دیہات کا شہر کی منڈیوں تک رابطہ سڑکوں کی از سرے نو تعمیر کی جانی ضروری ہے ۔ پرانی سڑکیں جو ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں ان کی مرمت کی اشد ضرورت ہے ۔ حسین خاں سے بن بودلہ راستہ بگے ، بہادر پورہ سے بھڈیاں ، عثمان والا براستہ شمش پورہ، نور پور سے تھہ شیخم، ڈھنگ شاہ ، سے بھائو کی براستہ منڈی عثمان والا ، ڈھنگ شاہ تا میگ پور، ساندہ چستانہ ایسے کئی ایک علاقے ہیں۔ جہاں سے کسان اپنی اجناس منڈیوں تک لانے میں مشکلات کا شکار ہیں ۔ اور دوسری طر ف دور دراز دیہات سے بڑی تعلیمی اداروں گرلز ، بوائز ہائی ، ہائیر سیکنڈری، کامرس اور کالجوں ، ٹیکنیکل کالجوں تک زیور تعلیم سے اراستہ ہونے کے خواہشمند  طلباء طالبات انتہائی پریشان ہیں۔ اس لیے ہم حکومت پنجاب اور دیگر ذمہ داراداروں کے سربراہان سے توقع رکھتے ہیں وہ ایسے علاقوں کو ترجیح دیں اور منصوبے بنائیں جہاں ان کی اشد ضرورت ہے ۔ ممبران اسمبلی ہی کی ہدایت کو حرفِ آخر نہ سمجھیں اور اپنا فریضہ اللہ کی خوشنودی کیلئے ادا کریں اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔