مردوں کے مساوی اجرت عورتوں کا حق ہے

بشریٰ خالق
کام کرنے کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کے خلاف قانون کے نفاذ کو یقینی بنا کر عورتوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں بد امنی ،دہشت گردی اور مہنگائی جیسے مسائل سے ہر شہری متاثر ہوا ہے وہیں پر ہماری محنت کش طبقات عورتیں دوہرے جبر اور استحصال کا شکار ہیں۔عورتوں کا موثر کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا گھر ہو ،یا ادارے وہ ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کو برﺅے کار لا کر مثالی کا م کر رہی ہے۔لیکن ابھی بھی بہت سے مسائل کا شکار عورتیں اپنے حوصلے بلند رکھے ہوئے ہیں۔نامساعد حالات،ٹرانسپورٹ جیسی مشکل ہو،یا مساوی اجرت محنت کش عورت کے حوصلے بلند ہیں۔گزشتہ حکومت نے عورتوں سے متعلقہ کچھ قوانین متعارف کرائے جو کہ خوش آئند ہیں۔قانون سازی آسان ہے لیکن قانون پر عمل درآمد اور اس سے معاشرتی سوچ اور لوگوں کے رویے بدلنے میں بہت وقت درکار ہے۔اگر ہمار ے قوانین لوگوں کی منفی سوچ کو بدلنے میں کامیاب ہوجائیں تو عورتوں کی زندگیوں میں تبدیلی ممکن ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک قانون پر عمل در آمد کو اس قدر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔جنسی تشدد یا زیادتی کا شکار عورتوں کو انصاف نہیں ملتا۔پولیس اور عدالتیں انتہائی معتصبانہ فیصلے سناتی ہیں جس سے عورتوں اور ان کے خاندانوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گھریلو تشدد کی صورت میں تو پولیس کا رویہ بہت ہی یک طرفہ ہوتا ہے۔ایسے معاملات کو نجی معاملہ سمجھ کر فارغ کر دیا جاتا ہے۔کام کرنے والی عورتوں کے لئے ٹرانسپورٹ کو مزید مضبوط اور سستا بنانے کی ضرورت ہے۔پنجاب کے پسماندہ اضلاع یا دور دراز کے علاقوں میںخواتین کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔عورت کی ترقی میں اس کا معاشی طور پر مستحکم ہونا بہت ضروری ہے لیکن ہمارے معاشرے میں عورتوں کے پاس وسائل کا فقدان ہے۔رہی سہی کسر ان کو جائیداد میں وراثت کے حق سے محروم کرکے انہیں مزید غیر محفوظ کر دیا جاتا ہے۔حکومتی اور ریاستی سطح پر اب ان مسائل کی طرف توجہ ضرور دی جا رہی ہے۔لیکن عام عورت کے مسائل کے حل کو یقینی بنانے کےلئے نہ صرف موجودہ قوانین کو مزید بہتر کرنا ہو گا بلکہ ان قوانین کے نفاذ کےلئے تمام اداروں کو پابندی بھی کرنی ہو گی جس میں پولیس اور عدالتیں شامل ہیں۔مزید یہ کہ شعوری طور پر معاشرے کے دیگر ادارے اور افراد اس بات کو یقینی بنائیں اور اپنی سوچ کو مثبت کریں ۔عورت کے حقوق در حقیقت انسانی حقوق ہیں اور کوئی بھی سماج اس وقت تک معاشی یا معاشرتی اقدار کو فروغ نہیں دے سکے گا جب تک وہاں کی عورتیں محفوظ اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہوگی۔فائنلssss