عورت بااختیار ہونے سے مرد بے اختیار نہیں ہو گا

عنبرین فاطمہ
مہذب معاشرے فرد کی معاشی،سیاسی اور سماجی حدود درست سمت پر متعین کرتے ہیں اور اپنی تشکیل میں عورت کی حیثیت اور توقیر کو خاص اہمیت دیتے ہیں مگر یہ امر افسوس ناک ہے کہ عہد جدید میں بھی عورت کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔دنیا میں پدر سری نظام رائج ہے جب کہ مدر سری نظام محض کتابوں میں دفن ہو کر رہ گیا ہے خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں خواتین کو کسی طرح کا تحفظ اور حقوق حاصل نہیں انہیں خاندانی و معاشرتی رسم و رواج کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے اور کہیں عزت کے نام پر قربان کر دیا جاتا ہے۔پاکستان کو بنے 67 برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے مگر پاکستانی سماج آج بھی اٹھارویں صدی میں رہ رہا ہے جاگیر دارانہ قبائلی کلچر اور انتہا پسند مذہبی سوچ ،رواج اور فرسودہ رسومات ابھی تک مضبوط ہیں ۔ہمیں ان سے چھٹکارا پانے کے لئے فکری انقلا ب کی ضرورت ہے خاص طور پر عورتوں کے حوالے سے ہمارا سماج بڑے تعصب اور امتیازی رویوں کا حامل ہے ۔خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ہم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے بات کی۔
رہنما شرمیلا فاروقی(رہنما پاکستان پیپلز پارٹی ) نے کہاکہ میرے حساب سے خواتین کا بھی معاشرے میں وہی مقام ہے جو مردوں کا ہے ،جب تک فیصلہ سازی میں خواتین کو شامل نہیں کیاجائے گا ملکی ترقی ممکن نہیں۔کوئی بھی شعبہ ہو خواتین مردوں سے تین گنا زیادہ کام کرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن اس چیز کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا جاتا ہے چادر اور چار دیواری کا بہانہ بنا کر مرد کو عورت پر فوقیت دی جاتی ہے۔اس حوالے سے ہم میڈیا کے بے انتہا شکر گزار ہیں جس نے ان جگہوں پر جا کر خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا جس کی نشاندہی پر شایدخواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑدئیے جائیں۔خواتین اگر اپنے حق کےلئے آواز اٹھانے کونکلتی ہے تو سب سے پہلے اس کو گھر سے ہی سپورٹ نہیں ملتی مجھے لگتا ہے کہ اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔صرف چند ایک این جی اوز ہیں جو خواتین کے حقوق کے حوالے سے واقعی کام کر رہی ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ این جی اوز خواتین کے معاملے میں قانون سازی کرنے کے عمل میں مدد کرتی ہیں نمائندہ خواتین کو بھی کسی حد تک پریشرائز کرتی ہیں کہ ایوانوں میں آواز اٹھائیں ۔ہوم بیسڈ ورکرز کو ان کی محنت کا شرمناک معاوضہ دیا جاتا ہے۔میں نے بھی اپنی جدوجہد کے دوران جیلیں کاٹیں ایک عرصہ جیل میں گزارا وہاں میں نے خواتین کی صورتحال خاصی خراب دیکھی لیکن اب جیلوں کے حالات بھی تبدیل ہو گئے ہیں اب تو باقاعدہ کڑھائی سلائی سکھائی جاتی ہے تین وقت کا تازہ کھانا دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندر اگر ہم حقوق کے حصول کے لحاظ سے خواتین کی جدوجہد کو دیکھیں تو ایک تبدیلی ضرور نظر آتی ہے عورت تعلیم سیاست اور معیشت کے میدان میں سرگرم نظر آتی ہے اور وہ معاشرے کی ترقی میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہے۔
فرزانہ باری(سماجی کارکن) نے کہا کہ پوری دنیا میں 8مارچ کا دن ہر سال عورتوں کے عالمی دن کے طور پر اقوام متحدہ کی طرف سے ان خواتین کی خدمات کے اعتراف میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی کوششوں کے باعث عورتوں کی حالت زار بدل ڈالی۔اس موقع پر دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے متعلق سمینار،ریلیاں اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں عالمی سطح پر عورتوں کے حقوق اور ان پر کئے جانے والے تشدد کے خلاف یو این اوجیسے عالمی ادارے آواز بلند کر رہے ہیں وہاں مختلف مقامی تنظیمیں بھی اس ضمن میں کام کر رہی ہیں اس کے باوجود پچھلے کئی سالوں سے دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔خواتین کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو ختم کرنے کے لئے صرف قوانین بنا دینا کافی نہیں بلکہ ان پر باقاعدہ عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں ایک عرصہ سے پاکستان میں ہونے والے واقعات کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہی کے حوالے سے کام کر رہی ہیں مگر تا حال ان تنظیموں کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ اس کی ایک وجہ تو حکومتوں کا غیر سنجیدہ رویہ ہے دوسرا ان تنظیموں کی نا مکمل حکمت عملی بھی ہے۔آج بھی عورتوں کے خلاف منفی رویوں کو پیدا کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں ان کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے ، گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی خواتین کی کردار کشی کی جاتی ہے عورتوں کو بحثیت انسان کمتر ثابت کرنے کے لئے مذہب کو سب سے زیادہ خوفناک طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے ۔پاکستان کی عورت اگرچہ زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہے لیکن ملکی قومی وسائل میں اس کا حصہ بہت کم ہے اسی وجہ سے ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ تر عورتیں شرکت نہیں کر پاتیں اس کے علاوہ معاشرے میں ان کی حیثیت ابھی بھی مردوں سے کم تر سمجھی جاتی ہے۔صرف قانون سازی کر کے خواتین کو حقوق دلوانے کی بات کرنا یاخواتین کا عالمی دن منانا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ معاشرے میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے صحت مندانہ سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے گھر سے معاشرہ اور معاشرے سے ملک میں یہ سوچ پروان چڑھے گی تو امید واثق ہے کہ خواتین کی حالت میں بہتری آئے گی۔
خاور ممتاز(سماجی ورکر) نے کہا کہ خواتین کی سماجی اورمعاشی پسماندگی کی ذمہ داری معاشرے پر نہیں ٹھہرائی جا سکتی ہے بلکہ خواتین کی بہبود اور ترقی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے جس سے وہ منہ نہیں موڑ سکتی۔ریاست کو دیکھنا ہے کہ کمزور طبقات کی ترقی کے لئے کیا کیا اقدامات کرنے ہیں ۔کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے بل پاس ہونا ایک اچھی پیش رفت ہے اور خواتین اس سے فائدہ بھی اٹھا رہی ہیں۔گزشتہ چند برسوں سے خواتین کے عالمی دن کو بہت اہتمام سے منایا جاتا ہے اس سے قبل اس دن کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن دیکھا جائے تو اب بھی بڑے شہروں کی سطح پر اس دن کو منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں ابھی بھی عورتوں کا عالمی دن منانے کے حوالے سے شعور نہیں پایا جاتا ہے ۔لہذا ان علاقوں میں رہنے والی خواتین کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کو اپنے حقوق کے لئے کس طرح سے آواز بلند کرنی ہے کس طرح سے ظلم کرنے والے کوانجام تک پہنچانا ہے۔
مختاراں مائی نے کہا کہ ہمارے ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن قومی زندگی میں ان کی شمولیت آٹے میں نمک کے برابرہے اس کی بنیادی وجہ فرسودہ معاشرتی تصورات اور روایات ہیں جن کے باعث عورت کا پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنا،معاشی ،سیاسی اور دیگر تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔اگر ہم دنیابھر کے مختلف ملکوں پر نظر دوڑائیں توپتہ چلتا ہے کہ ہر ملک میں خواتین کو درجہ اول کا شہری قرار دے کرحقوق تو دئیے گئے ہیں لیکن طاقتور کی طرف سے ان کے حقوق کی پامالی کو روکنے میں کوئی ریاست کامیاب نہیں۔
بلقیس ایدھی (سماجی کارکن) نے کہا کہ پاکستان میں”آزادی کی تحریک ہو یا ملک میں جمہوری نظام کی جدوجہد کی بات“ خواتین نے ہمیشہ بڑھ چڑھ حصہ لیااور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی لیکن کسی قسم کی سختی ان کے عزم کو ختم نہ کر سکی۔پاکستان کی سیاسی تاریخ خواتین کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے بڑے بڑے نام ہیںجنہوںنے اپنے کام سے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی طور مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔صرف 8مارچ ہی خواتین کےلئے نہیں بلکہ سارے دن ہی عورتوں کےلئے ہیں اسمبلی میں جو قانون سازی ہو چکی ہے اسپر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔
حدیقہ کیانی (گلوکارہ اور سماجی کارکن) نے کہا کہ آج کی عورت کو خاصا مضبوط دیکھ رہی ہوں۔آج خواتین پہلے کی طرح نہیں بلکہ اپنے حقوق کےلئے اٹھ کھڑی ہو تی ہیں اور انصاف ملنے تک جدوجہد کو جاری رکھتی ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ اگر خواتین اپنے حقوق کےلئے خود جدوجہد نہیں کریں گی تو کوئی بھی نہیں کرے گا۔