ام لامومنین ”حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓہماری رول ماڈل “

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
انسانی تاریخ میں حضرت خدیجہ  الکبریٰ طاہرہ ؓ کی طرح کی خواتین کم ہی نظر آتی ہیں جنہوں نے خواتین کے لیے عمل کی راہیں آسان تر اور روشن تر بنائی ہیں۔ اُن کی یہ عظمت تو قابل رشک ہے ہی کہ وہ حضور نبی پر پہلی ایمان لانے والی خاتون ہیں۔ مگر اُن کی یہ عظمت ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے کہ انہوںنے خود اپنے لیے اُس ذات بابرکات کو تلاش کیا اور منتخب کیا جس کے لیے اقبال ؒ کہتے ہیں کہ !
آیہ¿ کائنات کامعنی دیریاب تو
نکلے تیری تلاش میں قافلہ ہائے کو بکو
انہوںنے عرب کی مالدار ترین خاتون ہوتے ہوئے امیرترین رﺅسائے عرب کے رشتے ٹھکرائے اور اُس دُرِّ یتیم کو جسے محبوب دوجہاں بنناتھا۔ اس وقت پہچانا جب ابھی اُن کے گوہر کو اللہ نے آشکار نہ کیاتھا۔ یہ حضرت خدیجہ ؓ کی بصیرت کی انتہاتھی اور ان کے مقدر کی خوش نصیبی کہ حضور نبی نے اپنے سے پندرہ سال بڑی اور دودفعہ بیوہ ہوجانے کے باوجود اُن کاپیغام قبول کیا اور روئے زمین کا سب سے خوش بخت جوڑا ہونے کااعزاز پایا۔
مارچ کامہینہ آتے ہی اقوام عالم میں عورت کے حقوق ، مساوات اورآزادی کے نعرے بلند آہنگ کے ساتھ گونجنے لگتے ہیں۔ اخبارات ایڈیشن نکالتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور این جی اوز پنج ستارہ ہالوں میں کانفرنسیں کرتی ہیں۔ کروڑوں روپے کے اخراجات سے مختلف سرگرمیاں سرانجام پاتی ہیں۔ حکومت بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہتی اور بلند بانگ دعوﺅں کے ساتھ سرکاری تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں مگر عام عورت کی قسمت میں ہر سال وہی محرومی ، مجبوری اور زندگی کی تلخیاں برقرار رہتی ہیںکیونکہ صرف اُسی تلخی ، محرومی اور مجبوری ہی کا ہر طرف آوازہ جوگونج رہاہوتاہے۔ ایسے میں ہر باشعور پاکستانی کایہ فرض ہے کہ حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں زندگی کی ان تلخیوں اور محرومیوں کو بھی کم کرنے کی کوشش کرے اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کی ان خوشیوں اور رعنائیوں کابھی ذکر کرے جو ہمارا معاشرہ ، ہماری اقدار اور ہمارا دین ہماری زندگیوں میں شامل کرتاہے۔ اسی سلسلے میں ایک مشاورت میں یہ طے پایا کہ ہم ہر سال کسی ایک نامور مسلم خاتون کو بطور رول ماڈل دنیاکے سامنے لائیں تاکہ ہماری روایتی معاشرے کی غیر اسلامی رسوم کی اڑتی ہوئی دھول میں ان خواتین کا جو موثر کردار زمانے کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے اُسے سامنے لایاجائے۔ چنانچہ اس سال کا یوم خواتین سیرت حضرت خدیجة الکبریٰ ؓ کو بطور رول ماڈل سامنے لانے کا فیصلہ ہوا۔
آج یوم خواتین پر حقوق نسواں اور عورت کی آزادی اور مساوات کا بڑاچرچا ہے مگر ہم اُن خواتین کا وہ معاشرتی رول دنیاکے سامنے نہیں لاپا رہے اور نہ ہی اُس پر عمل درآمد کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کررہے ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کا یہ فیصلہ کہ انہوںنے حضور کو خود منتخب کیا۔ اُن کی رائے کی آزادی اور ان کے حقوق کے حاصل ہونے کاایسا اعلان ہے کہ جس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر غور کریں تو ایک عرب شاعر نے اُن پر طنز کرتے ہوئے شعرکہاتھاکہ ”جب سے اس دنیا میں محمدآئے ہیں ، عورت کے حقوق کابڑا چرچاہے۔ “
حضورنے ساری عمر حضرت خدیجہ ؓ کابہت پیار اور احترام سے ذکرکیاکیونکہ انہوںنے وفا ،محبت او رقربانی کی لازوال داستان رقم کی ہے۔ خاندان نبوت کی ایسی آبیاری کی ہے کہ اُس میں اپنا تن بھی جلایا ،اپنے من کو بھی وفا کی بھٹی میں تپایا اور اپنے دھن کو بھی قربان کیا۔ وہ مکہ کی انتہائی کامیاب اور مشہور تاجر ہ تھیں جن کے تجارتی قافلے شام اور یمن تک تجارت کے لیے جایاکرتے تھے ، ۔ لیکن پھر شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں تین سال تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایثار و قربانی کا ایسا رشتہ نبھایا کہ تاریخ اس طرح کی مثال دینے سے قاصر ہے۔
سب سے پہلے حضورکی ایسی دلجوئی کی اور تسلی کے وہ تاریخی الفاظ رقم کیے جن سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفیق ہستی کو وحی کی گرانبار ذمہ داریاں سنبھالنے میں ڈھارس ملی۔ وہ نبوت کی پہلی ڈھال بنیں اور ہر جگہ اپنے محبوب شوہر کی غم گساری کی ۔
حضور نے بھی اُن کی ایسی حوصلہ افزائی کی کہ اُن کی صلاحیتیں اور بھی پروان چڑھیں اور اُن کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا۔ اُن کے ہوتے ہوئے حضور نے کوئی اور نکاح نہ کیا۔ یہ بھی اُن کا ایک بہت مبارک اعزاز ہے کہ اُن کی وجہ سے خانہ¿ نبوت کو اولاد عطا ہوئی ۔اُن کی اتنی منفر د اور بابرکت ذات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو نوع انسانی کے سب سے مبارک گھرانے کامرکز محبت بنایا۔ عورت اپنے خاندان اور گھر کامرکز محبت ہوتی ہے اسی لیے قرآن کریم میں صنفی مساوات کاذکر کرتے ہوئے اللہ رب العالمین فرماتاہے:۔
”میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والانہیں ہوں۔ خواہ مرد ہو یا عورت ،تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔“(آل عمران:۱۹۵)
حضور کے اعلان نبوت کے بعد حضرت خدیجہ ؓ نے ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر اسلام قبول کیا اور آپ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہوئے آپ پر ایمان لائیں ۔علامہ ابن اثیر اپنی مشہور کتاب اسرالغلبة فی معرفة الصحابة میں لکھتے ہیںکہ
”وہ خلق خدا میں سب سے پہلے اسلام لانے والی تھیں۔ اس معاملہ میں نہ کسی مرد اور نہ کسی عورت نے اُن سے سبقت کی۔ “
ہم بھی آج حضرت خدیجہ ؓ کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے وطن عزیز میں عورت کے لیے راہ عمل متعین کریں ۔ معاشرے میں اُس کے استحصال پر کڑی نظر رکھیں اور اُس کے لیے محبت اور حفاظت کا ماحول بنانے کاانتظام کریں ۔مردوں کے اس معاشرے میں حضور کی سیرت کی شفقت کو عام کریں اور وہی ماحول بنائیں جس میں زندہ درگور ہوتی عورت کو انسانیت کا شرف ملا۔ سر اٹھاکر جینے کا سلیقہ ملا ، اظہار رائے کی آزادی ملی اور اس کی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا گیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ اُس کے خاندان کے مرکز محبت ہونے کے کردار کو ہی اتنی اہمیت دی گئی کہ اُس دور کی عورت کو اس غلط فہمی کا موقع ہی نہ مل سکا کہ گھر ایک قید خانہ ہے۔ اُس نے گھر کو جنت بناکر اُسی کردار کو اتنا فعال طریقے سے ادا کیاکہ اُس نے ایک ایسی نسل تیار کی کہ جس نے وہ معاشرہ تخلیق کیا جو آج بھی ڈیڑھ ارب انسانوں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتاہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بطور رول ماڈل سامنے رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا معاشرہ ان ؓکے تاریخ ساز کردار سے عمل کی راہوں کو روشن کرسکے۔ ہم بھی اپنی عورتوں کو ویسے ہی حقوق دیں ۔ اُن کی اسی طرح سے حوصلہ افزائی کریں ۔ انہیں محبت اور حفاظت کے حصار مہیا کریں کیونکہ ایک روایت کے مطابق بی بی حوا ؑکو حضرت آدم ؑ کی پسلی سے پیداکیاگیا اور پسلی دل کے قریب اور بازو کے نیچے ہوتی ہے۔ عورت کی فطرت کو اسی طور پر پیداکیاگیا کہ وہ محبت سے حفاظت کی محتاج ہوتی ہے اور جس بھی عورت کو یہ حصار میسر آجائیں وہ ہر ناممکن کام کو ممکن کرجاتی ہے۔ ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ جس تاریخ اور معاشرے کو مردوں اور عورتوں نے مل کر بنایاہے اُس میں سے عورت کو غائب کر دیا گیاہے۔ اسی لیے دنیا نے ہماری تاریخ اور معاشرے دونوں کاادھورا اور ناقص تصور لے لیا ہے۔
اسلام کا خوبصورت اور روشن چہرہ دنیا کو دکھانے کے لیے ہمیں ان منور کرداروں کوسامنے لاناہوگا جنہوںنے روایت شکن اقدامات کرکے عورت کو ان کے حقوق دلائے ۔
آئیں اس یوم خواتین پر اُنہی مدہم ہوتے ہوئے نقوش کو تازہ کریں جن میں ہمارے پاس دنیا کی امامت بھی تھی اورآخرت کی فضیلت بھی۔ ہم نے اپنی تاریخ بھی فروزاں کی تھی اور ہمارا جغرافیہ بھی پھیل رہاتھا۔ اپنی اُس کھوئی ہوئی عظمت کو بازیاب کرانے کے لیے آئیں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قدموں میں بیٹھ کر اپنے لیے عمل کی راہیں تلاش کریں اور اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیں۔
فائنل