ہزاروں کاغ ہم کو نوچنے تیار بیٹھے ہیں

بدل کر روپ دھرتی پہ کئی مکار بیٹھے ہیں
ایجنڈا لے کے غیروں کا کئی غدار بیٹھے ہیں
ترقی پر وطن جب گامزن ہونے ہی لگتا ہے
کوئی دائیں سے اٹھتا ہے کوئی بائیں سے اٹھتا ہے
بنا کر صورتیں معصوم کچھ بدکار بیٹھے ہیں
خدا کے واسطے نہ ہوش کے ناخن اگر لو گے
تو سر گھٹنوں میں دیکر سسکیاں لے لے کے روئو گے
ہزاروں کاغ ہم کو نوچنے تیار بیٹھے ہیں
لبوں کی تھوک کی رم جھم میں کیا جوش خطابت ہے
سیاست ہے‘ بغاوت ہے‘ یا کیا ان سے عداوت ہے
سبھی جاہل نہیں لاکھوں ہی سمجھدار بیٹھے ہیں
جو اب تک آمرانہ دور کی برفی نہیں بھولے
پروٹوکول‘ لمبی گاڑیاں‘ کرسی نہیں بھولے
وہ بھی اک سال سے بے چین اور بیزار بیٹھے ہیں
جنہیں ٹھکرا دیا لوگوں نے لینے ووٹ جب آئے
وہ دل پر ہاتھ رکھ کر رات دن کرتے ہیں اب ہائے
جو کل تھے سینکڑوں عابد فقط دو چار بیٹھے ہیں
(جاوید احمد عابد شفیعی)