مذہی سیاسی لیڈر اور پردہ

(اعجاز احمد)

نبی پاکؐ نے عورتوں کو مسجدوں میں آکر نماز پڑھنے کی اجازت تو دی تھی لیکن آپؐ کی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ عورت کا اپنے گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے گھر کی کوٹھری میں نماز پڑھنا افضل ہے اور محلہ کی مسجد میں جاکر نماز پڑھنے سے اپنے گھر کے صحن میں نماز پڑھنا افضل ہے اور مسجد نبوی میں ( اگر وہ گھر کے قریب کی مسجد سے دور ہو) جاکر نماز پڑھنے سے گھر کے قریب کی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ نبی پاکؐ کی طرف سے اجازت اور گھر کی کوٹھری میں عورتوں کی نماز کو مسجد نبوی میں جاکر نماز پڑھنے سے افضل قرار دینے کا مطلب ہے کہ بنی پاکؐ کو عورتوں کا گھر میں رہنا ہی زیادہ پسند تھا۔ نماز ایک مذہبی فریضہ ہے اور دین اسلام کا ستون ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ پسندیدہ عبادت ہے جب اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لئے بھی گھر کو افضل قرار دیا گیا ہے تو باقی عبادات یا دنیاوی فرائض کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر نکلنا احسن طریقہ نہیں۔ حج کے لئے عورتوں کا جانا جائز اور اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کے نزدیک پسندیدہ فعل ہے لیکن یہ ایک استثنائی عمل ہے۔ حج اور جہاد کے لئے مجاہدین کی تمار داری کے لئے عورتیں گھروں سے نکلتی رہیں اور بوقت ضرورت اسلام اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔ آج کے زمانے میں عورتوں کے علاج اور بچیوں کی تعلیم کے لئے لیڈی ڈاکٹر اور استانی شرعی پردہ کے اندر رہ کر گھر سے باہر نکل کر ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں کام کر سکتی ہے۔ اشد مجبوری کے عالم میں عورت با پردہ رہ کر ذاتی کاروبار یا ملازمت کر سکتی ہے لیکن ان تمام اسثنائی حالتوں کے باوجود اسلام کا واضع حکم ہے کہ بلا اشد ضرروت عورت گھر سے باہر قدم نہ رکھے۔
عورتوں کے پردہ اور گھر میں ٹھہرنا اسلام کے نزدیک کتنا احسن ہے اس کا اندازہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں آپ نے فرمایا (مفہوم) کہ نبی پاکؐ کے وصال کے بعد معاشرہ اتنا بگڑ گیا ہے کہ بنی پاک ؐ وصال نہ فرما چکے ہوتے تو وہ عورتوں کا مسجد میں جانا بند فرما دیتے۔
ذرا غور کیجئے کہ نبی پاکؐ کے وصال کے بعد زمانہ کتنا بگڑا تھا؟ اس وقت لاکھوں صحابہ اکرام ؓ اجمعین موجود تھے سارا معاشرہ اسلامی رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ نبی پاکؐ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد معاشرہ میں تقویٰ کے لحاظ سے خفیف سا فرق پڑا ہوگا لیکن اس خفیف سے فرق نے بھی اماں عائشہ ؓ کو اتنا مضطرب کر دیا کہ عورتوں کو مساجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانے کو بھی نا مناسب فعل سمجھنے لگیں۔
حضرت عائشہ کے زمانے کا موجودہ زمانے سے موازنہ کیا جائے تو موجودہ زمانہ بہت زیادہ بگڑ چکا ہے۔ عورتیں بے پردہ اور بے حجاب ہو کر بازاروں میں نکل آئی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اسلام کے پردہ کے واضع احکامات موجود ہونے کا باوجود بے پردہ عورتیں اس گناہ سے باز رہنے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ بے پردگی کے حق میں جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
آج کے معاشرہ میں کئی طرح کے افراد بستے ہیں۔ دین پر عمل کرنے والے۔ دینی احکامات پر عمل نہ کرنے والے اور دینی اعمال پر عمل کرنے کو غیر ضروری سمجھنے والے۔ ان تین قسم کے طبقات کے علاوہ ایک چوتھا طبقہ مذہبی عالموں کو سب سے زیادہ اسلامی قوانین بمعہ پردہ کے عمل پر عمل پیرا ہونا چاہئے لیکن بد قسمتی سے یہ مذہبی عالم بھی اپنی ذاتی ضروریات کے لئے عورتوں کو پردہ ترک کر کے گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر لانے کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔
مذہبی سیاسی لیڈر جب اپنی جماعتوں کے سیاسی اجتماع کرتے ہیں یا جلسے جلوس کا اہتمام کرتے ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے اجتماعات میں عورتیں بھی پردہ میں رو کر یا بے پردہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل ہوں تاکہ وہ ثابت کر سکیں کہ وہ مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔
چند دن پہلے ایک شیخ الاسلام نے ایک ہنگامہ آرائی میں کئی خواتین کو مروایا ہے اور ہزاروں عورتوں کو بے پردہ سڑکوں اور بازاروں میں اپنے استقبالی جلوس کی رونق بڑھانے کے لئے گھمایا ہے کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ دیگر سیاسی لیڈر اگر خواتین کو سڑکوں بازاروں میں لاتے ہیں تو وہ بھی غلط کرتے ہیں لیکن ایک مذہبی لیڈر شیخ الاسلام کے لئے تو یہ کسی طرح بھی جائز نہیں۔