مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی خدمات

احسن علی باجوہ
تحریک پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ محترمہ فاطمہ جناح کا نام آتا ہے۔ اگر ہم تحریک پاکستان میں خواتین کے کردار کا ذکر کریں گے تو بھی محترمہ فاطمہ جناح کا نام سر فہرست ہی رہے گا۔ آپ نے قائداعظم کی بیگم مریم جناح (رتی بائی) کی وفات کے بعد قائداعظم کے گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں تھیں اور قائداعظم کو گھریلو تفکرات سے بالکل آزاد کردیا۔ آپ نے دن رات قائداعظم کے آرام و سکون کا خیال رکھا۔ قائداعظم 1935ء کے بعد مسلم لیگ کی تنظیم نو اور آزادی کی جنگ میں بے حد مصروف ہوگئے تھے۔ آپ جدوجہد آزادی میں اس قدر مصروف ہوگئے کہ آپ نے اپنی گرتی ہوئی صحت کی بھی پروانہ کی۔ محترمہ فاطمہ جناح آپ کی گرتی ہوئی صحت کیلئے بے حد فکر مند تھیں۔ قائداعظم نے حصول پاکستان کیلئے جو کچھ کیا وہ محترمہ فاطمہ جناح کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ تحریک پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح کی یہی ایک خدمت کافی تھی جو آپ قائداعظم کی خدمت کرکے کرر ہی تھیں۔ لیکن آپ نے اس پر ہی اکتفا نہیں کیا آپ نے تحریک پاکستان میں قائداعظم  کے دوش بدوش کام کیا۔ قائداعظم  جہاں بھی جاتے آپ ان کے ساتھ ہوتی تھیں۔ اس لئے اگرہم محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی خدمات کا الگ سے ذکر نہ بھی کریں تو جہاں بانی پاکستان قائداعظم کی خدمات کا ذکر آئے گا وہاں خود بخود محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کا ذکر ہوجائے گا۔ قائداعظم  اور محترمہ فاطمہ جناح کی قیام پاکستان کے سلسلے میں خدمات کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو پوری پاکستانی قوم کیلئے ان کی مشترمہ قربانی تھی۔
قائداعظم  نے ایک موقع پر اپنے ملٹری سیکرٹری کرنل برنی کو اپنی عظیم بہن محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’وہ اپنی بہن کی سالہا سال کی پرخلوص خدمات اور مسلمان خواتین کی آزادی کیلئے انتھک جدوجہد کی وجہ سے ان کی انتہائی مقروض ہیں۔‘‘
ایک اور موقع پر قائداعظم اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’جن دنوں مجھے برطانوی حکومت کے ہاتھوں کسی بھی وقت گرفتاری کی توقع تھی تو ان دنوں میری بہن ہی تھی جو میری ہمت بندھاتی تھی۔ جب حالات کے طوفان مجھے گھیر لیتے تھے تو میری بہن میری حوصلہ افرائی کرتی۔‘‘
محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی خدمات کا اعتراف ان کے بھائی قائداعظم  محمد علی جناح کی زبان سے ہونے کے بعد کسی بیان کی ضرورت نہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان میں حصہ لینے کے لئے برصغیر کی مسلم خواتین کو بیدا کیا اور انہیں منظم کرکے ان سے ہراول دستے کاکام لیا۔ آپ نے بانی پاکستان محمد علی جناح کی خدمت کی صورت اور تحریک پاکستان میں عملی طور پر حصہ لے کر خدمات سر انجام دیں۔
آپ کی سیاسی تربیت قائداعظم  کے زیر سایہ ہوئی تھی۔ گویا کہ قائداعظم  سیاست میں متحرمہ فاطمہ جناح کے استاد بھی تھے۔ سیاست قائداعظم  کے گھر کی باندی تھی۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں قائداعظم  کے گھر کو مرکزی حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔ قائداعظم  کا گھر برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی درس گاہ بھی تھی۔
آئے دن ہندو انگریز اور مسلمان راہنما بھی قائداعظم کے گھر ملاقات اور مذاکرات کیلئے آئے تھے۔ اس کے سارے انتظامات محترمہ فاطمہ جناح کو کرنے پڑتے تھے۔ اس طرح محترمہ فاطمہ جناح کو برصغیر کے سرکردہ راہنمائوں سے ملنے اور ان کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔
جوں جوں قیام پاکستان کی منزل قریب آرہی تھی۔ قائداعظم  پورے ملک کے طوفانی دورے کررہے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ساتھ ہوتی تھیں۔
محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی خدمات کو ہم دو حصوں میںتقسیم کرتے ہیں
1۔ تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک1947)ئ(
2۔  قیام پاکستان کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات 1947)ء سے 1967ئ(۔
تحریک پاکستان میں خواتین کی راہنمائی
قائداعظم نے انگلستان سے واپس آکر آل انڈیامسلم لیگ کی صدارت سنبھال کر مسلم لیگ کی تنظیم نو کاکام شروع کیا تو محترمہ فاطمہ جناح نے بھی اس کام میں بھائی کا ہاتھ بٹایا۔ آپ نے مسلم خواتین کو  مسلم لیگ میں لانے کیلئے دن رات کام کیا۔ قائداعظم  کی بہن ہونے کے ناطے آپ خواتین میں بڑی مقبول تھیں۔ آپ کی کوششوں سے مسلمان خواتین جوق در جوق مسلم لیگ میں شامل ہونے لگیں۔ غرضیکہ جب قائداعظم  نے مسلم لیگ کی تنظیم کاکام شروع کیا تو محترمہ فاطمہ جناح بھی پیچھے نہ رہیں۔ آپ مسلم لیگ کی کئی کمیٹیوں کی ممبر تو تھیں لیکن آپ نے اپنے لئے صدارت کبھی بھی پسند نہ کی۔ لیکن خواتین میں آپ کا مرتبہ کسی صدر سے کم نہ تھا۔ خواتین آپ کا بے حداحترام کرتی تھیں۔
محترمہ فاطمہ جناح اور مینا بازار
محترمہ فاطمہ جناح نے مسلم خواتین کو تحریک پاکستان کی عظیم جدوجہد میں حصہ لینے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ یہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم لیگ تھا۔ آپ کی تحریک پر مسلم خواتین ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں۔ آپ نے مسلم لیگ کی مالی اعانت کیلئے خواتین سے کہا کہ وہ مینا بازاروں کا اجتماع کریں اس طرح آپ کی تحریک پر مسلم خواتین نے مینا بازار لگانے شروع کردیئے۔ ان مینا بازاروں سے جو آمدن ہوتی تھی وہ مسلم لیگ فنڈ میں جمع کروادی جاتی تھی۔ اپریل 1944ء میں محترمہ فاطمہ جناح نے لاہور میں ایک مینا بازار کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ لوگوں نے ایک مینا بازارقائم کیا ہے۔ یہ ایک فائدہ کی چیز ہے کیونکہ اس طرح عورتیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کا ہاتھ بٹاسکتی ہیں اور یہ ہمارافرض ہے کہ قوم کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے ہم ان کی مدد کریں، ہاتھ بٹائیں اور حوصلہ افزائی کریں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ہماری بہنیں قوم کی اقتصادی حالت سدرھانے کیلئے ان کی مدد کریں گی۔‘‘
فاطمہ جناح آل انڈیا مسلم لیگ خواتین سب کمیٹی کی ممبر تھیں۔ انہوں نے کسی کمیٹی میں رہتے ہوئے کبھی عہدہ لینا پسند نہ کیا۔ مگر کمیٹی کی اراکین کی نظر میں ان کی اہمیت صدر سے کہیں زیادہ تھی۔ غرضیکہ محترمہ فاطمہ جناح نے مسلم طالبات اور خواتین کو تحریک پاکستان میں متحرک اور سرگرم کردیا۔ آپ کی راہنمائی اور سرکردگی میں لیڈی ہارون، بیگم شمس النہار، بیگم سلمیٰ تصدق حسین، فاطمہ بیگم، بیگم غلام حسین ہدایت اللہ، بیگم شائستہ اکرام اللہ، بیگم وقارالنسائ، بیگم لیاقت علی خان، بیگم گیتی آرا بشیراحمد، بیگم اقبال حسین ملک، نور الصباح بیگم، بیگم جہاں آراشاہنواز، انجمن آرا بیگم وغیرہ نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم خواتین اور طالبات نے محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان میں ایک ہراول دستے کاکام دیا۔ یہ متحرمہ فاطمہ جناح کی شخصیت کا سحر تھا کہ مسلم خواتین ان کے گرد جمع ہوگئیں تھیں۔