’’نخل آرزو‘‘ کی تقریب رونمائی

’’نخل آرزو‘‘ کی تقریب رونمائی

طارق حسین کی دوسری تخلیق نخلِ آرزو کی تقریبِ رونمائیہ دبئی میں منعقد ہوئی ۔تقریب کا اہتمام مجلسِ قلندرانِ اقبال گلف کے صدر میاں منیر ہانس نے کیا تھا ۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی آئی جی ظفرعباس لک تھے جبکہ صدارت  پاکستان کی نامی گرامی سیاسی اور سماجی شخصیت سید آصف ہاشمی  کے حصے میں آئی۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز رافع رضوان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہواجبکہ نعتِ رسولِ پاکؐ  کی سعادت محمد بلال فلک کے حصے میں آئی ۔نظامت کے فرائض ملک اسلم نے انتہائی احسن انداز میں نبھائے اور تقریب کے ٹیمپو کو اپنے ادب نواز انداز سے بر قرار رکھا۔اس موقعہ پر صدرِ تقریب سید آصف ہاشمی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کو دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کتاب بے شمار موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس میں سیاست،معیشت۔فلسفہ، تصوف اور تاریخ کے موضوعات پر  طبع آزمائی کی گئی ہے۔کتاب کا انداز اتنا دلنشین ہے کہ قاری اسے پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔اس کے اندر جس خواب کی بات کی ہے وہ انتہائی بلند ہے۔پاکستان اس وقت جس طرح کے نظام کا اسیر ہو چکا ہے وہ اپنی افادیت کھو چکا ہے لہذا ضروری ہے کہ معاشرتی ڈھانچوں کو از سرِ نو مرتب کیا جائے تا کہ پاکستان آگے کی جانب اپنا سفر جاری رکھ سکے،نخلِ آرزو اس سفر میں عوام کی راہنمائی کا فر یضہ سر انجام دے سکتی ہے۔مہمانِ خصوصی ظفر عباس لک نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں اور موجودہ کرپٹ نظام کی جگہ ایک شفاف اور جوابدہی کا نظام لائیں تا کہ پاکستان اقوامِ عالم میں اپنا مقام بنا سکے۔انھوں ے کہا کہ اس ملک کو سیاست دانوں نے ہی چلانا ہے لہذا ضروری ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا اس سر نو جائزہ لیں تا کہ عد ل و انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ مصنف نے سلگتے موضوعات پر قلم اٹھا یا ہے اور عوام کو ان کے حقوق کق شعور دینے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ سیاست دانوں کی اکثریت ذاتی مفادت کی اسیر بنی ہوئی ہے اور اقتدار ان کے ذاتی کار وبار میں وسعت کی بنیاد بن کر رہ گیا ہے۔نخلِ آرزو اس طرزِ سیاست کے خلاف ایک توانا آواز ہے۔،۔
صا حبِ کتاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کتاب در اصل اس بات کی غماز ہے کہ انقلاب کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی کیونکہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ایک شفاف نظام کے بغیر چارہ کار نہیں ہے۔اسلامی نظام ہی وہ واحد نظام ہے جو انسانیت کو عدل و انصاف کی بنیادیں فراہم کر سکتاہے کیونکہ یہ امن ،محبت اور انسان دوستی کا مذہب ہے۔پاکستان کی بقا صرف اسلامی نظام کو من و عن نافذ کرنے میں ہے۔تقریب کے میزبان میاں منیر ہانس نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس شام کو کامیاب بنانے میں ان کی کاوشوں کو سراہا۔انھوں نے کہا کہ مصنف کے ساتھ میرے دیرینہ مراسم ہیں۔وہ ایک انتہائی نفیس انسان ہیں جس کا واضح ثبوت ان کی نئی تخلیق (نخلِ آرزو ) ہے۔یہ کتاب ایک ایک نئے پاکستان کی آواز ہے۔یہ کتاب ہمارے کل کی بنیادیں رکھنے میں ممدو معاون ثابت ہو گی کیونکہ اس میں عوامی حقوق کی بات کی گئی ہے۔ تقریب میں سید سجاد حسین شاہ،ڈاکٹر شہزاد اکرم،وحید پال،نور الحسن تنویر،سہیل خاور،امجد اقبال امجد،عبدالستار پردیسی،عبدالسلام عاصم اور ارسلان طارق بٹ نے بھی خطاب کیا۔ارسلان طارق بٹ نے اپنا مضمون (نخلِ آرزو کا مصنف ایک بیٹے کی نظر میں) پڑھنے پر خصوصی داد سمیٹی ۔اس موقعہ پر سید آصف ہاشمی نے انھیں اپنے بیٹے کی الیکشن مہم میں اپنی خدمات پیش کرنے کی درخواست کی جسے ارسلان طارق بٹ ے انتہائی محبت سے قبول کر لیا ۔اس تقریب میں پاکستانی کمیونیٹی کے عبدالستار پردیسی،سید قیوم شاہ اور سہیل خاور کو ان کی سماجی خدمات پر شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔اس تقریب کی سب سے بڑی خو بصورتی یہ تھی کہ اس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے ہوئے اور انتہائی صبرو تحمل سے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سنا۔ تین گھنٹو ں تک جاری رہنے والی اس تقریب میں پاکستانیوں کی بڑی تعدادنے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دئے ۔