’’عالمی شہرت یافتہ تحریروں کا انسائیکلوپیڈیا‘‘

تبصرہ: جی آر اعوان
’’پچھلے سال نومبر میں کینیڈا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف تھامس لاس نے اپنی ایک تقریر میں ڈرون اور پائلٹ کے ذریعے اڑانے والے ہوائی جہازوں سے فائرکئے جانے والے میزائلوں کا باہمی موازنہ کیا کیونکہ دونوں طرح سے فائر کئے جانے والے میزائل حسب منشا ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر بڑے پیمانے پر پھیل گیا ہے کہ ڈرون کوئی بہت بڑی تبدیلی کی مثال پیش نہیں کرتے بلکہ یہ وہی کام کرتے ہیں جو دنیا کے کئی ممالک پچھلی کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں۔‘‘
یہ  سطورعالمی شہرت یافتہ تحریروں کا انسائیکوپیڈیا پارٹ ون سے لی گئی ہیں جس کے خالق ندیم منظور سلہری ہیں، گجرات سے تعلق رکھنے والے صحافی نے ایک طویل عرصہ امریکہ میں گزارا ہے دیگر  معاصر روزناموں کی طرح نوائے وقت کے جرأت مندرپورٹر بھی رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور وائٹ ہائوس امریکہ میں بے شمار اجلاسوں میں شرکت کے تجربات اور علم و تحقیق کی جستجو کا نچوڑ انہوں نے اس کتاب میں اکٹھا کر دیا ہے۔
مغرب میں ہزاروں قلمکار ہیں، ہر روز ایک  نیا موضوع زیر بحث لاتے ہیں، ان کی ترقی کا انحصار ہی علم کے حصول پر ہے۔ اس کتاب میں مغربی لکھاڑیوں کی تحریروں کا ترجمہ پاکستانیوں کے لئے مستند اور مفید ہے۔ تحریروں  کے اس خزانے سے پاکستان اپنی غلطیوں کی اصلاح اور دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھ سکتا ہے۔ کتاب میں دنیا کے بہترین دماغوں کی سوچ پاکستانیوں تک پہنچا دی گئی ہے جو عالمی سیاست کے نشیب و فراز کا خلاصہ ہے۔
علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40 ،اردو سے طبع ہونے والی کتاب 600 روپے میں دستیاب ہے۔ جس میں مصنف نے ایک کھوجی کے انداز میں حساس موضوعات تلاش کر کے ایک دستاویز مرتب کی ہے۔

ارتقائے بنی آدم
ہابیل بھیڑ بکریوں کا چرواہا تھا، قابیل کھیتی باڑی کرتاتھا۔ ہابیل اپنے ریوڑ سے اعلیٰ جانوروں کا گوشت قربانی کے لئے لایا۔ قابیل اپنے کھیت سے غلہ سے کر آیا۔ دونوں  نے اپنی اپنی نذر قاعدے کے مطابق ایک اونچے مقام پر رکھ دی۔ ہابیل کی نذر قبول ہو گئی۔ قابیل نے دستور کی خلاف ورزی کی اس کی قربانی نامنظور ہوئی جس پر جھنجھلا کر قابیل ہابیل کے قتل کے درپے ہو گیا اور مشتعل ہو کر اسے مار ڈالا۔
یہ ایک اقتباس ہے جو محمد اخترچشتی کی تصنیف ’’ارتقائے آدم‘‘ سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں تاریخ آدمیت کا احاطہ کیا گیا ہے جس کی ابتداء حضرت آدمؑ سے ہوئی اس تاریخ کے سفر میں آدمؑ  کے بعد نوحؑ کا زمانہ آیا جبکہ ان کے بعد سام، حام اور یافث کی نسلیں دنیا میں پھیلیں اور آج کا انسان انہی کی نسلوں میں شمار ہوتا ہے۔ کتاب میں بے شمار خطوں، علاقوں اور شہروں کا ذکر ہے جو نوحؑ کے بیٹوں، پوتوں اور پڑپوتوں کے نام پر موجود ہیں یا پھر تاریخوں کے اوراق میں بہرکیف زندہ ہیں۔
 جہاں جہاں انسان آباد ہے، کتاب میںوہاں کے مذاہب، تخلیق کائنات کے عقائد، اور مختلف زبانوں  کے بارے میں بڑی شرح و بست کے ساتھ  تفصیلات رقم ہیں۔ کتاب پوری تاریخ انسانی کا انسائیکلو پیڈیاہے۔ ہر زمانے کے نقشے، شجرے اور تصاویر کی مدد سے انسانی زندگی کے مدارج قاری کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ تحقیق کا دلچسپ انداز مصنف کی محنت شاقہ کا شاہد و غماز ہے۔
ارتقائے بنی آدم اگرچہ ایسا موضوع ہے، جس کے بارے میں موجود اور دستیاب علم کبھی بھی کافی نہیں سمجھا گیا، تحقیقی ضرورت کی گنجائش بہرحال موجود رہتی ہے جس طرح یونان، یافث بن نوح کا بیٹا ہے، اس کے نام پر ملک یونان ہے۔ ا یسے ہی فدک اور مصر بھی حام بن نوح کے بیٹے ہیں کتاب میں ایسے ہی چشم کشا تاریخی حقائق بیان کئے گئے۔ جو عام طور پر کتابوں میں نہیں ملتے۔ ترک بن کو مربن یافث بن نوحؑ کی نسل سے ہی چنگیز خان بھی ہوا ہے۔ تاریخ کا انسان کے ساتھ پرانا رشتہ ہے۔ جتنا انسان خود پرانا ہے اتنی ہی تاریخ پرانی ہے۔ پرانی چیزوں کے بارے جان کاری انسانی فطرت کا تقاضا ہے کتاب میں تاریخ کے اوراق سے نکالے ہوئے حقائق کا فرداً فرداً تذکرہ یہاں ممکن نہیں، اس کے کتاب کا مطالعہ ہی سدباب ہے۔
قرآن مجید کی آیات مبارکہ کی روشنی، تاریخ ماخذوں اور سائنس کے جدید نظریات سے ابتدائے آفرینش  سے عصر حاضر کے تقاضوں تک سادہ پیرائے میں لکھی گئی اس کتاب میں آدم کے عدم سے ہست تک آنے تک تمام تخلیقی اور تدریجی علم سمایا ہوا ہے۔ کتاب کے تقریظ نگار جسٹس مشتاق خان کا کہنا بجا ہے۔ کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کروا کے یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کرانا چاہئے۔
’’ارتقائے بنی آدم‘‘ کی قیمت 400 روپے ہے جسے زاہد بشیر پریس لاہور سے شائع کیا گیا ہے جو چشتی پبلشر اندرون ریلوے گیٹ پسرور سے دستیاب ہے۔